فسادی (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 438 - Naveed Masood Hashmi - Fasadi

فسادی

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 438)

امریکی حکومت کے مشاورتی پینل کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی سالانہ رپورٹ میں جو متنازعہ باتیں کی ہیں۔۔۔ اس سے نہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔۔۔ بلکہ اس متنازعہ رپورٹ سے خود امریکی ساکھ کو بھی مزید دھچکا لگا ہے، رپورٹ میں’’پاکستان کو بھی تشویش ناک ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز دیتے ہوئے امریکی حکومت سے کہا گیا ہے کہ پاکستان سے توہین مذہب کے قانون کو ختم یا اصلاح کئے جانے تک اس پر عمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا جائے‘‘۔۔۔ رپورٹ میں کمیشن نے کہا ہے کہ پاکستان میں14افراد کو موت کی سزا سنائی جا چکی ہے، جبکہ19افراد کو توہین مذہب قانون کے تحت عمرقید کی سزا ملی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان نے توہین مذہب قانون کے تحت موت کی سزا پر عمل درآمد کبھی نہیں کیا۔۔۔ لیکن اس قانون کے تحت اقلیتوں پر کئی بار حملے ہوچکے ہیں۔۔۔ کمیشن نے امریکی حکومت کو تجویز دی ہے کہ حکومت پاکستان پر زور دیا جائے کہ وہ کالعدم تنظیموں جیسے کہ تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی کے خلاف ملک گیر آپریشن کرے، حکومت پاکستان میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے۔۔۔ جن میں اہل تشیع، مرزائی، عیسائی اور ہندو شامل ہیں۔۔۔‘‘

 رپورٹ میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ ’’پاکستان میں توہین مذہب قانون کے تحت جو لوگ حراست میں ہیں ان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔۔۔اور جن لوگوں کو اس قانون کے تحت سزائیں ملی ہیں، ان کو فوری معافی دی جائے۔۔۔ آئین میں تبدیلی کر کے مرزائیوں(قادیانیوں) کیخلاف قوانین ختم کئے جائیں‘‘۔۔۔

امریکی حکومت کے’’مشاورتی پینل کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی قوانین مذہبی آزادی‘‘ کی اس رپورٹ میں پاکستان کے حوالے سے جو شرانگیزی کی گئی ہے۔۔۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔۔۔ پہلی بات یہ ہے کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔۔۔ کہ جس کا اپنا ایک آئین، منتخب پارلیمنٹ، سینٹ اور سپریم کورٹ ہے۔۔۔ پاکستانی قوم کا اکثر سنی طبقہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں، عیسائی ہوں، ہندو ہوں، پارسی ہوں، سکھ ہوںیا قادیانی ان کے آئین میں دیئے جانے والے حقوق کونہ صرف یہ کہ دل و جان سے تسلیم کرتا ہے بلکہ ان حقوق کی پاسداری کو بھی یقینی بناتا ہے۔۔۔ ہاں البتہ یہاں بعض اوقات ایسا ضرور ہوتا آیا ہے کہ بعض اوقات عیسائی اقلیت سے وابستہ بعض شر پسند عناصر غیر ملکی آشیر باد سے بعض ایسی سنگین حرکتوں کا ارتکاب ضرور کر گزرتے ہیں جس سے مسلمان اکثریت کے جذبات شدید مجروح ہوتے ہیں۔۔۔ جہاں تک اہل تشیع کا معاملہ ہے۔۔۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل ہونے والے صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ اہلسنت بھی ہیں۔۔ لیکن اہلسنت و الجماعت والے ہوں یا اہل تشیع سے وابستہ اکابر اور کارکن۔۔۔ انہوں نے اپنے ہر مقتول کی لاش اٹھانے کے بعد۔۔۔ حکومت اور اعلیٰ عدلیہ سے ہی انصاف کا تقاضہ کیا۔۔۔ کبھی بھی امریکہ سے اس حوالے سے اس لئے بھی مدد طلب نہیں کی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ امریکہ پاکستان میں شیعہ، سنی فسادات کو بھڑکانے کا سب سے بڑا حامی ہے۔۔۔

رہ گئی بات مرزائیوں کی۔۔۔ تو مرزائی یا قادیانی گروہ سے وابستہ لوگوں سے پاکستان کے مسلمان آئین میں دیئے گئے حقوق کے مطابق سلوک کرتے ہیں اور کرنابھی چاہتے ہیں۔۔۔لیکن امریکہ، برطانیہ اور بھارت کے حکمرانوں کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پاکستان میں بسنے والے اپنے وفادار’’قادیانیوں‘‘ کو بھی اس بات کا پابند رہنے کا حکم جاری کریںکہ وہ۔۔۔ بھی پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔۔۔ امر واقع یہ ہے کہ۔۔۔ مرزائی(قادیانی) گروہ یا کمیونٹی سے وابستہ افراد۔۔۔ بذات خود پاکستان کے آئین کے مطابق دیئے گئے حقوق کی پاسداری نہیں کرتے۔۔۔ نہ وہ آئین کے مطابق پاکستان میں رہتے ہیں۔۔۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی اکثریتی آبادی کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔۔ اور پھر بعض معاملات خرابی کی طرف چلے جاتے ہیں۔۔۔ لیکن اس کے باوجود بھی۔۔۔ پاکستانی حکومت نے خفیہ اداروں، پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز نے ہمیشہ قادیانیوں کے تحفظ ہی کو مقدم جانا۔۔۔ امریکی مشاورتی پینل کے کمیشن کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ پاکستان کے آئین کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرے۔۔۔ آئین کے مطابق مرزائی(قادیانی) کافر، مرتد اور غیر مسلم ہیں۔۔۔ ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہونے کی وجہ سے قادیانیوں سمیت ہر غیر مسلم اقلیت کے حقوق کی پاسداری نہ صرف یہ کہ ریاست بلکہ عوام کی بھی ذمہ داری ہے، لیکن اگر کوئی غیر مسلم اقلیت ہی اسرائیل، امریکہ یا بھارت کے حکمرانوں کی پشت پناہی پر مسلم اکثریت کے عقائد کا مذاق اڑانا شروع کر دے۔۔۔ مسلمانوں کے کلمے، نماز، مساجد اور دیگر شعائر اللہ کے مقدس ناموں کا ناجائز استعمال شروع کر دے تو پھر حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اقلیتی برادری کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کرے، پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کی یہ دلی خواہش اور تمنا ہے کہ توہین مذہب اور توہین انبیاء کے جرم میں تمام شواہد اور ثبوتوں کی روشنی میں پاکستانی عدالتوں نے۔۔۔ جن14مجرموں کو پھانسی کی سزا دی ہے انہیں فی الفور پھانسی پر لٹکایا جائے۔۔۔

امریکی مشاورتی پینل کے کمیشن کی مجرمانہ ڈھٹائی ملاحظہ کیجئے۔۔۔ کہ بے گناہ معصوم اور پاکباز پاکستانی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ملنے والی86سالہ سزا کے خلاف تو ایک لفظ کہنے کیلئے تیار نہیں۔۔۔ اور عدالتوں کے ذریعے پھانسی کی سزا پانے والے گستاخان رسولﷺ کی رہائی کے مطالبے یوں کئے جارہے ہیں کہ جیسے پاکستان کوئی علیحدہ ریاست نہیں بلکہ امریکہ ہی کی کالونی ہو۔۔۔

پاکستانی حکومت، مذہبی جماعتوں اور پاکستانی عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ۔۔۔ یہ سب مل کر امریکی مشاورتی پینل کی اس شر انگیز رپورٹ کے خلاف متحد ہو کر سراپا احتجاج بن جائیں ،یہود و نصاریٰ کی آشیر باد سے سیکولر لادینیت سے وابستہ مٹھی بھر گروہ میڈیا کے زور پر اسلامی احکامات،جہاد و قتال اور علماء کرام کا جس انداز میں مذاق اُڑا رہا ہے۔۔۔ وہ بھی انتہائی افسوسناک ہے۔۔ مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ سیکولر شدت پسند نظریہ پاکستان اور اسلامی اقدار کو ڈھانے کیلئے تمام حربے آزما رہے ہیں، جب بھی پاکستان میںنفاذ شریعت کی بات ہوتی ہے تو حکمران اور سیکولر فاشسٹ یہ کہہ کر نفاذ شریعت کی بات کرنے والوں کو ٹینکوں سے بھی کچلنے سے گریز نہیں کرتے کہ جناب پاکستان کا آئین اسلامی ہے۔۔۔ اور اسلامی نظریاتی کونسل کے نام سے ایک آئینی ادارہ بھی قائم ہے کہ جس کے پلیٹ فارم پر تمام مسالک کے علماء کرام پارلیمنٹ کی دینی رہنمائی کرتے ہیں، اور یہ بھی پاکستان میں شریعت سے متصادم کوئی قانون بن ہی نہیں سکتا، لیکن پھر جب اسی اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں غور و فکر اور عرق ریزی کے بعد یہ سفارشات تیار کی جائیں کہ’’نابالغ بچوں کانکاح سرپرست بھی کرسکتے ہیں مگر بلوغت سے پہلے رخصتی نہیں ہو سکتی۔۔۔ اور یہ بھی کہ ایک سے زائد شادی کیلئے پہلی بیوی سے تحریری اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔۔ تو پھر ڈالر خورحقوق حیوانات کی این جی اوز کی بگڑی ہوئی بیگمات اور سیکولر فاشسٹ اسی اسلامی نظریاتی کونسل کو ہی سرے سے ختم کرنے کے مطالبے شروع کر دیتے ہیں۔۔۔

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی قوم، سیکولر شدت پسندوں، نجم سیٹھی، ایاز امیر، عاصمہ جہانگیر، فرزانہ باری یا اس قسم کے دیگر فاشسٹوں کو یہ اجازت دے سکتی ہے کہ وہ جب چاہیں۔۔۔ اسلامی احکامات کا مذاق اُڑاتے پھریں؟ دین کی تشریح کا حق صرف اور صرف علمائِ حق کو ہی حاصل ہے۔۔۔ اور پاکستان وہ خوش قسمت ملک ہے کہ جہاں علماء کرام ہر دینی مسئلے کی تشریح کیلئے ہمہ وقت دستیاب رہتے ہیں۔۔۔ لیکن یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ اپنے کالموں اور الیکٹرانک چینلز کے ذریعے۔۔۔ علماء کرام کی توہین کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کے خوبصورت احکامات پر تنقید کرنے سے باز نہیں آتے، سوال یہ بھی ہے کہ جو لبرل اور سیکولر فسادی اسلامی نظریاتی کونسل کی محض سفارشات پر ہی اس قدر سیخ پا ہیں۔۔۔ کہ ان کی گز گز بھر لمبی زبانیں خاموش ہونے میں ہی نہیں آتیں۔۔۔ تو یہ سیکولر فسادی، پاکستان میں عملی طور پر نفاذ اسلام کو کیسے گوارہ کر پائیں گے؟ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اہل وعیال، دوست، احباب اور بچوں کو ان’’سیکولر فسادیوں‘‘۔۔۔ کی اصل شناخت سے ضرور آگاہ کرے، کیونکہ یہ سیکولر فسادی اسلام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بھی دشمن ہیں۔۔۔

٭…٭…٭