Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

کشمیر کے شہداء (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 522 - Naveed Masood Hashmi - Kashmir K Shuhada

کشمیر کے شہداء

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 522)

گاؤں ٹینگراں کے بزرگ محمد دین کے گھر پہنچا تو رات کے تقریباًآٹھ بجنے والے تھے، ہمیں سردیوں کے موسم میں اسلام آباد سے عباسپور کی طرف جو خبر کھینچ لائی تھی وہ یہ تھی کہ جناب محمد دین کے دو کڑیل جوان بیٹے یکے بعد دیگرے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کر چکے تو محمد دین اور ان کی اہلیہ محترمہ یعنی شہداء کی اماں جان نے اپنے دو مزید بیٹے جہاد کشمیر کے لئے وقف کر ڈالے۔

محمد یونسؒ کی عمر صرف 22سال تھی کہ جب 15نومبر1997ء کو محمد دین کے اس شہزادے نے اننت ناگ اسلام آباد میں بھارتی درندوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا۔۔۔ محمدیونس شہید اس خاکسار کا بھی جگری یار تھا۔۔۔ خوبصورت اور خوب سیرت بانکا سجیلا نوجوان،1991 میں جب یہ خاکسار پہلی مرتبہ عباسپور میں منعقدہ شہداء کانفرنس میں خطاب کرنے پہنچا تھا تو تب دوسروں کے ساتھ ساتھ محمد یونس بھی کانفرنس کے انتظامات میں پیش پیش رہا، میںنے پہلی ہی ملاقات میں محسوس کر لیا تھا کہ حیاء اور غیرت نے اس نوجوان کے دل و دماغ کو اپنے محاصرے میں لے رکھا ہے۔۔۔

مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کی خبریں اسے ہر وقت بے چین رکھتی تھیں اور پھر ایک دن وہ اپنی عظیم ماں، باپ کی اجازت اور دعاؤں کے سائے میں چپکے سے مقبوضہ کشمیر جا پہنچا، وہاں پہنچ کر اس نے کیا کیا بہادرانہ کارنامے سرانجام دیئے یہ ایک لمبی داستان ہے جو ایک کالم میں کبھی سما ہی نہیں سکتی، مختصر یہ کہ نومبر1997ء کو غیرت و حمیت کی دولت سے مالا مال اس نوجوان نے جب جام شہادت نوش کیا تو اس عظیم شہید کے ماں باپ نے باہمی مشورے سے اپنے دوسرے بیٹے غلام مصطفی عرف استاد عدیل کو جہاد کشمیر کے لئے وقف کر ڈالا، آزاد کشمیر ہو یا مقبوضہ کشمیر یہ ایک جسم اور ایک ہی جان کا نام ہے۔۔۔ کوئی بھی خونی لکیر اس طرف یا اس طرف کے کشمیریوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتی۔۔۔ یہ ہو ہی نہیںسکتا کہ اس کشمیر میں آگ لگی ہوئی ہو اور آزاد کشمیر کے عوام اس آگ کو بجھانے نہ پہنچیں،میں پاکستان کے حکمرانوں کی طرح آزاد کشمیر کے حکمران ٹولے کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا، مگر آزادکشمیر کے مسلمان اپنے مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں او رماؤں، بہنوں،بیٹیوں پر ہونے والے بدترین مظالم پر جس طرح تڑپتے ہوئے میں نے دیکھے ہیں۔۔۔ وہ یقینا لائق تحسین ہے۔۔۔

ہم پاکستانیوں کا پالا تو امتیاز عالم، عاصمہ جہانگیر اور نجم سیٹھوں سے پڑا ہو اہے کہ ہندو شدت پسندوں اور ہندو دہشت گردوں کا’’مرکز‘‘ سمجھا جانے والا بھارت ان کے لئے بھی’’جنت‘‘ کا درجہ رکھتا ہے، تاہم پاکستان کے عوام کے دل مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔۔۔ ویسے تو سرینگر کے قبرستان شہیداں میں سینکڑوں پاکستانی بھی مدفون ہیں، لیکن عباسپور توضلع پونچھ کا ہی حصہ ہے کہ جس کے آدھے سے زیادہ وجود پر انڈیا کی مشرک فوج نے قبضہ جما رکھا ہے۔۔۔

اس لئے جناب محمد دین نے ایک بیٹے کی شہادت کے بعد جب دوسرا بیٹا وقف کیا توان کا فیصلہ بجا طور پر درست تھا، کیونکہ بھارتی درندگی کا مقابلہ’’پرویزمشرف‘‘ جیسے بزدل نہیں بلکہ محمد یونس اور غلام مصطفی جیسے جانباز ہی کر سکتے ہیں۔۔۔ غلام مصطفی کہ جو مقبوضہ کشمیر میں استادعدیل کے نام سے جانے جاتے تھے۔۔۔ وہاں جاتے ہی کشمیری عوام میں ہردلعزیز بن گئے۔۔۔

جیش محمد مقبوضہ کشمیر نے انہیں اپنا چیف کمانڈر بنا دیا، دو سال سے زائد عرصہ تک وہ کشمیر کی مظلوم ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کی عصمتوںکے دفاع میں سینہ سپر رہے اوربلآخر 14اکتوبر2015ء کو قصبہ ترال سرینگر میں بھارتی فوج سے ایک معرکہ کے دوران جام شہادت نوش کر گئے۔۔۔استاد عدیل کا وصیت نامہ ان کے والد محمد دین نے مجھے دیا تو اسے پڑھ کر میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں، استاد عدیل اپنے وصیت نامے میں رقم طراز ہیں کہ:

’’اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس پُرفتن دور میں اللہ پاک نے مجھے جہاد کشمیر کیلئے منتخب کیا اور میرے والدین نے مجھے اپنی نیک دعاؤں اور دلی چاہت سے رخصت کیا،جس دور میں ہر نوجوان کو بس ایک ہی فکر لاحق ہے کہ اچھی نوکری ملے، اچھا بنگلہ بنالوں اور اچھی گاڑی مل جائے۔۔۔ حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔۔۔ جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو توپورا جسم بے قرار ہوجاتاہے، آج کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے۔۔۔ انڈین فوجی ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو کریک ڈاؤن اور تلاشی کے بہانے بے عزت کرتے ہیں۔۔۔

آپ لوگ ذرا تصور کریں کہ ہمارے گھر میں ایک دفعہ پولیس داخل ہو جائے تو ہم کس قدر بے عزتی محسوس کرتے ہیں۔۔۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے گھروں میں توناپاک بھارتی فوجی بار بار چکر لگاتے ہیں، آج کشمیر کے مسلمان پاکستان کی طرف نظریں لگائے بیٹھے ہیںکہ وہاں سے ان کیلئے مددآئے گی،مگر افسوس کہ یہاں نوجوانوں کو انڈین فلمیں دیکھنے سے ہی فرصت نہیں، میری آپ سے گزارش ہے کہ انڈین فلموں، انڈین اداکاروں اور گلوکاروں سے جان چھڑا لیں۔۔۔ مسلمانوں کے آئیڈیل فلمی اداکار، جوا کھیلنے والے کھلاڑی، مغربی تہذیب میںرنگے ہوئے اور غیر ملکی طاقتوں سے مرعوب سیاست دان نہیں ہو سکتے‘‘۔۔۔

استادعدیل شہید کے وصیت نامے کا کچھ حصہ میں نے اپنے کالم کی زینت اس لئے بنایا ہے کہ جو’’فکری گمراہ‘‘ جہاد کشمیر کو ایجنسیوں کا جہاد قرار دیکر شہداء کشمیر کامذاق اڑاتے ہیں۔۔۔ انہیں بھی اندازہ ہو کہ ایسے مخلص جانباز، ایجنسیاں نہیں بلکہ مذہب اسلام کی تعلیم سے تیار ہوتے ہیں۔۔۔

سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ’’نبی کریمﷺ نے ہم سے غزہ ہند کا وعدہ فرمایا، اگر مجھے اس میں شرکت کا موقع مل گیا تو میں اپنی جان و مال اس میں خرچ کردونگا، اگر قتل ہو گیا تو میں افضل ترین شہداء میں شمار ہوںگا‘‘

حضرت امام نسائیؒ نے اس حدیث کو اپنی کتاب السنن المجتبی اور السنن الکبرٰی دونوں میں نقل فرمایا ہے، سوال یہ ہے کہ جب صحابہ کرامؓ کی مقدس جماعت کے سامنے محسن انسانیت ﷺ غزوہ ہند کا تذکرہ فرما رہے تھے۔۔۔ تب تووہاں ایجنسیاں نہیں تھیں، پھر ایجنسیوں کا نام لے کر شہداء کشمیر کی قربانیوں کا مذاق اڑانے والوں کو اللہ کے غضب سے ڈرنا چاہئے۔۔۔

میرے ہمراہ مولانا زاہد محمود کشمیری بھی تھے۔۔۔ انہوں نے دو شہید جوان بیٹوں کے سفید ریش بزرگ کے چہرے پر پائی جانے والے انوکھی طمانیت کو محسوس کرکے مجھ سے کہا کہ جب تک اس طرح کے باپ زندہ ہیں تب تک غیرت و شجاعت کی داستانیں بھی رقم ہوتی رہیں گی،دو شہیدوں کے بوڑھے باپ نے مجھے بتایا کہ اپنے دوسرے بیٹے کی شہادت کی اطلاع پا کر ہم نے اپنے دو بیٹے جہاد کشمیر کیلئے مزید وقف کر دیئے ہیں۔۔۔ میں نے ان’’بزرگ محترم‘‘ کے مسکراتے ہوئے چہرے کی طرف دیکھ کر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ’’بزرگ جری‘‘ کے اس عزم اور فیصلے کے پیچھے آئی ایس آئی یا کسی دوسری ایجنسی کا ہاتھ تو نہیں ہے۔۔۔ مگر مجھے پہاڑوں کے باسی محمد دین کے چہرے پر طمانیت، بشاشت اور نور کے سوا کچھ نظر نہ آیا۔۔۔

جہاد کشمیر افضل ترین جہاد ہے۔۔۔ اس جہاد میں شرکت کرنے والے بڑی عزت اور عظمت کے مالک ہیں۔۔۔ اورانہیں مجاہدین کی برکت سے ہی بھارت کی 7لاکھ سے زائد درندہ صفت فوج سخت مشکلات سے دوچار ہے۔۔۔ مجاہدین کی بے مثال جدوجہد اورشہداء کی قربانیوں کیوجہ سے کشمیر کے مـظلوم مسلمان ایک نہ ایک دن ضرور آزادی سے ہمکنار ہو کر رہیں گے’’ان شاء اللہ‘‘

مقبوضہ کشمیر میں امیر المجاہدین مولانا محمد مسعودازہر حفظہ اللہ تعالیٰ کے جہادی جانباز، کشمیر کی مظلوم ماؤں،بہنوں، بیٹیوں کی عصمتوں کے دفاع میں پوری جرأت و استقامت کے ساتھ سینہ سپر رہیں گے۔۔۔

کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے دفاع میں مجاہدین جیش کی طرف سے کی جانے والی مضبوط ترین عسکری کارروائیوں پر جس طرح سے متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے فدائین اور مولانا محمد مسعود ازہر کو خراج تحسین پیش کیا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امیر المجاہدین کی اللہ کے دربار میں آہیں اور سسکیاں رائیگاں نہیں جارہیں، بلکہ اس کے مفید اثرات جہادی محاذوں پر براہ راست نظر آرہے ہیں۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor