Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سرتاج عزیز اور حضرت سید عبدالمجید ندیمؒ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 523 - Naveed Masood Hashmi - Sartaj Aziz aur Hazrat Syed Abdul Majid Nadeem

سرتاج عزیز اور حضرت سید عبدالمجید ندیمؒ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 523)

86سالہ بابا جی سرتاج عزیز کا دل تونہیں چاہ رہا تھاکہ وہ بھارتی شدت پسند’’ھندنی‘‘ کا ہاتھ چھوڑیں۔۔۔ لیکن چونکہ شدت پسند ھندنی دہلی سے آئی تھی اس لئے اسے واپس تولوٹنا ہی تھا۔۔۔ سو جیسے وہ بل کھاتی لہراتی اسلام آباد آئیں۔۔۔ ویسے ہی واپس لوٹ گئیں۔۔۔ ایک اسلامی نظریاتی مملکت کے مشیر خارجہ نے آداب میزبانی نبھانے کی آڑ میں جس طرح سے اسلامی اخلاقیات کی دھجیاں اڑائیں۔۔۔ اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے،یہ’’بابے‘‘ اس قوم کے اعمال کی سزا ہیں۔۔۔ شائد اسی لئے تو ہم پر مسلط ہیں۔۔۔ ٹھیک ہے شدت پسند بھارتی ھندنی ہمارے ملک میںآئی تھی۔۔۔ اس کی میزبانی اور مہمانی توبھرپور تھی، پروٹوکول وزیراعظم والا نہیں تو کچھ کم بھی نہ تھا۔۔۔ مگر کوئی باباجی سرتاج عزیز سے پوچھے کہ۔۔۔ اس کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر لہرانا اورہاتھوں کو دبانا۔۔۔ کیا اسے بھی اسلامی ملک کی مہمان نوازی کا اصول ہی سمجھ لیا جائے تو کل اگر کوئی ھندنی باباجی سے لپٹنا چاہے گی تو پھر موصوف کا ردعمل کیا ہو گا؟

یہ19کروڑ مسلمانوں کے حکمران ہیں جن کی اداؤں کو دیکھ کر۔۔۔فضاؤں میں اڑنے والے پرندے بھی شرمندہ ہو جاتے ہیں۔۔۔ بھارتی وزیر خارجہ نے اسلام آبادمیں کہا کہ’’بھارت سے امن اورمحبت کا پیغام لائی ہوں‘‘۔۔۔ ویسے جواب نہیں ہے اس’’ھندنی‘‘ کا بھی۔۔۔ امن اورمحبت کا پیغام اور وہ بھی بھارت کے حکمرانوں کی طرف سے، ہا ، ہا، ہا، ہا۔۔۔ بات ہی ایسی مخولیا ہے کہ بے اختیار قہقہے لگانے کو جی چاہتا ہے۔۔۔ بھارت میںمسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جارہاہے،گائے ذبح کرنے پر بندے مار دیئے جاتے ہیں۔۔۔لوگوں کے منہ زبردستی کالے کر دیئے جاتے ہیں۔۔۔ کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرانے پر لوگوں کوگولیاںمار دی جاتی ہیں۔۔۔ اور شدت پسند ھندنی سوراج کہتی ہیں کہ وہ بھارت سے امن اور محبت کا پیغام لائی ہیں۔۔۔حالانکہ سیدھی بات یہ ہے کہ وہ امریکہ کے دھکے پر پاکستان کے دورہ پر آئی تھیں، اور ساتھ ہی یہ بھی کہ بھارت میںاقلیتوں پر ڈھائے جانے والے بے پناہ دباؤ میںکمی لانا بھی مقصود تھا۔۔۔

وجہ چاہے جو بھی ہو لیکن موصوفہ چالاکی اور چانکیائی منافقت کا عملی نمونہ تھیں۔۔۔اپنی زہریلی مسکراہٹوں کے دوران بھی نہ ممبئی حملوں اورنہ ہی دہشت گردی پر بات کرنا بھولیں۔۔۔ اور ہمارے والے تو بس ’’ھندنی‘‘ کی مہمانداری اور چاپلوسانہ خاطر تواضع کے لطف سے ہی نہال ہوتے رہے۔۔۔ اور رہ گیا دجالی میڈیا تو سنا ہے کہ بعض فتنہ پرور اینکرز، اینکریوں اور تجزیہ نگاروں کو ’’کرکٹ‘‘ کے سوا کچھ یاد نہ رہا، یعنی نہ پاکستان کی ورکنگ باؤنڈری پر حملے کر کے بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کرنا یاد رہا، نہ سمجھوتہ ایکسپریس میں پاکستانیوں کی سوختہ لاشیں یاد رہیں، نہ آبی دہشت گردی اور نہ ہی کشمیر پر غاصبانہ قبضہ یاد رہا۔۔۔ پسماندہ ذہنیت کے حامل ان بیوقوفوں نے کرکٹ، کرکٹ کا واویلا مچائے رکھا، مگر موصوفہ بھی کمال کی شدت پسند نکلیں۔۔۔ زہریلی مسکراہٹیں پھینک کر یہ جا اوروہ جا۔۔۔ اور پھر حال ہی میں ’’رنڈوا‘‘ ہونے والے’’تبدیلی مارکہ‘‘ سیاستدان دہلی جا پہنچے اور وہاں صرف دس منٹ کی ملاقات میں انہوں نے بھی عالمی دہشت گرد مودی سے کرکٹ کی بحالی کی درخواست کی۔۔۔مگر نریندر مودی نے شدت پسندی کی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے جوابی طور پر فقط دانت نکال کر دکھا دیئے۔۔۔

’’کرکٹ‘‘ کے ان چاچوں، ماموں کو اگر ڈوب مرنے کیلئے چلو بھرپانی نہیں ملتا تو کم از کم کسی قریبی نالے پر ہی نہا لیں، بھارت ہمارے وطن عزیز کوہڑپ کرنے کے منصوبے بنائے بیٹھا ہے۔۔۔ اورانہیں کرکٹ کی پڑی ہے۔۔۔ اس موقع پر مجھے مرحوم امام دین طرز کا ایک شعریاد آرہا ہے

 مودی نے کرکٹ بحال کرنے سے کر دیا ہے انکار

اب تو اس کے پاؤں پڑ امام دینا

پھر بھی اگر وہ کر دے انکار

تو پھر چلو بھر پانی میں ڈوب مر امام دینا

ہم یہ نہیںکہتے کہ ہمسائیوں سے اچھے تعلقات نہیں ہونے چاہیں۔۔۔ لیکن اگر کوئی ہمسایہ اچھے تعلقات رکھنا ہی نہیں چاہتا۔۔۔ اور بات بات پر کاٹ کھانے کو دوڑ رہا ہے، پاکستان کو سرے سے تسلیم کرنے پر ہی آمادہ نہ ہو۔۔۔ توپھر اس ہمسائے سے مرعوب ہو کر۔۔۔ غلامانہ دوستی کیلئے اس کی منتیں اور ترلے کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

اگر پاک، بھارت مذاکرات کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ایک مستند رپورٹ کے مطابق۔۔۔ پاکستان اور بھارت کے حکام کے درمیان اب تک تقریبا133بار بلاواسطہ اوربالواسطہ مذاکرات ہو چکے ہیں۔۔۔ تقریباً 133 مرتبہ ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ کچھ نہیںنکلا۔۔۔ تو اب جامع مذاکرات کے نام پر رچایا جانے والاڈرامہ کیا گل کھلاتا ہے۔۔ یہ بھی آنے والے دنوںمیں واضح ہو جائے گا۔۔۔

مقبوضہ کشمیر کے شیر دل بوڑھے سید علی گیلانی نے ٹھیک کہا تھا کہ’’ سُشما سوراج بھی مودی کی طرح متعصب ہندنی ہے، وہ پاکستان صرف افغانستان کا راستہ ڈھونڈنے آئی ہے۔۔۔ باقی باتیں دیوانے کا خواب ہیں‘‘۔۔۔ بابا سرتاج عزیز اگر شیردل حریت راہنما سید علی گیلانی کی بصیرت سے فائدہ اٹھا لیتے تو کمال ہو جاتا۔۔۔ اور رہ گئے میاں نواز شریف تو موصوف تو ہر جگہ اور ہر شہر کو’’جاتی امرائ‘‘ بنانے پر تلے ہوئے ہیں، یعنی ہر چیز اورکیاکرایا کھو کھاتے میں۔۔۔ جناب والا! کی بصیرت کا اندازہ لگائیے، کراچی کے ایک ہوٹل میں ہندوؤں کی دیوالی کی تقریب میں شرکت فرمائی۔۔۔ اور ان کے ساتھ مل کر نہ صرف کیک کاٹا۔۔۔ بلکہ اپنے خطاب میں ایک معصوم سی خواہش کا اظہار بھی فرمادیا کہ ’’ آئندہ مجھے ایسی جگہ بلائیں جہاں آپ’’دیوالی‘‘ مناتے ہیں۔۔۔ مجھ پر بھی ایسے ہی رنگ پھینکیں۔۔۔ جیسے ایک دوسرے پر پھینکتے ہیں۔۔ اس سے مجھے خوشی ہو گی۔۔۔‘‘

جب وزیراعظم ایسی ’’معصومانہ خواہشات‘‘ کا اظہار کریںگے تو پھر مشیر خارجہ جو عمرمیں بھی وزیراعظم سے بڑے ہیں۔۔۔ان کی ’’خواہشات‘‘ کا عالم کیا ہوگا؟

اب آتے ہیں دوسرے موضوع کی جانب۔۔۔ سفیر اسلام مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب بھی اس فانی دنیا سے منہ موڑ گئے۔۔۔ آپ دنیا بھر میں اسلام کی آواز تھے۔۔۔ آواز بھی ایسی خوبصورت اورمترنم کہ جو بھی سن لیتا سیدھی اس کے دل پر اثر کرتی،35سال قبل9برس کی عمر میں جب میں نے اپنے والد محترم حضرت اقدس مولانا قاری مقبول الٰہی ہاشمی حفظہ اللہ تعالیٰ کے ہمراہ ساہیوال میںمنعقدہ توحید و سنت کانفرنس میں ان کا خطاب سناتو ان کی آواز کا حسن دل پر ایسا چھایا کہ جس کی چاشنی اور حلاوت آج تک محسوس ہوتی ہے، دوران خطاب جب وہ قرآن و سنت کے سمندر میں غوطہ زن ہو کرموتی رولتے تو سامعین پر وجد طاری ہو جاتا۔۔۔ وہ قرآن و حدیث کے علوم کے حقیقی شناور تھے۔۔۔ انسانوں کو شرک و بدعت کے اندھیروں سے نکال کر توحید و سنت کی نورانیت سے روشناس کروانا ان کا مشن تھا، وہ دنیا میں تقریبا74برس زندہ رہے، ان74برسوںمیں سے55برس تک وہ خطابت کے آسمان کا چاند بن کر دنیا بھر میں چمکے، دنیا کے137ملکوں میںجا کر لاکھوں انسانوں کو انہوں نے نغمہ توحید سنایا، دوران خطاب وہ جب اپنے منفرد انداز میںآیات ربانی کی تلاوت کرتے تو حاضرین پروجد طاری ہو جاتا۔۔۔

ویسے ان سے میری بہت سی ملاقاتیں ہوئیں۔۔۔ ان کی زیرصدارت جلسوں میں بندہ کو اپنی گزارشات پیش کرنے کے مواقع بھی میسر رہے۔۔۔ مگر چند ماہ قبل میں ان کی عیادت کیلئے جب گلزار قائد میں واقع ان کی گھر گیا۔۔۔ تو ان سے میری دو گھنٹے سے زائد تفصیلی گفتگو ہوئی۔۔۔ سچی بات ہے کہ اس ملاقات نے مجھے ان کا گرویدہ بنا دیا۔۔۔

مولانا عبدالمجید ندیم نے اس خاکسار کو بتایا تھاکہ ان کے آئیڈیل امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے۔۔۔ پاکستان اورعالم اسلام کے حالات پر ان کی گہری نظر تھی، وہ افغانستان سمیت دنیا بھر کے حقیقی مجاہدین کیلئے دعا گو رہتے تھے۔۔۔ غالبا 20برس قبل ایک دفعہ بنفس نفیس افغانستان میںمجاہدین کے معسکر سے بھی ہو کر آئے تھے۔۔۔

سفیر اسلام مولانا ندیم شاہ صاحب کا کہنا تھا کہ ’’پانی‘‘ آگ اور ہوا یہ سب اللہ کے لشکر ہیں۔۔۔ پہلے کبھی یہ اتنے برانگیختہ نہ ہوتے تھے جتنا اب ہوتے ہیں، سیلاب اور آگ لمحوں میں بستیوں کی بستیاں اجاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔۔۔ پانی انسان کی ضرورت تھی، اب یہ موت کا پیغام بن کر انسانوں اور جانوروں کو ڈبو رہاہے۔۔۔ آن کی آن میںلہلہاتی فصلیں برباد کر ڈالتا ہے۔۔۔ یہ سب اللہ کا عذاب نہیں تو اور کیا ہے؟

انہوں نے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ افسوس ہماری تعلیم گاہوں نے مولانا شبلیؒ، عبدالرحمن جامیؒ، ابن تیمیہؒ،اورشاہ عبدالعزیزؒ جیسے لوگ پیدا کرنے بند کر دیئے ہیں‘‘

تقریبا دو سال قبل یہ خاکسار قائد جمعیت حضرت مولانافضل الرحمن کی اسلام آباد میںواقع رہائش گاہ پر پہنچا۔۔۔ تومولانا اپنے ملاقات کے کمرہ خاص میںموجودتھے۔۔۔ یہ خاکسار اندر داخل ہواتو مبلغ اسلام مولانا عبدالمجید ندیم بھی وہاں موجود تھے۔۔۔ اور میری اطلاع کے مطابق دونوں اکابر بہت دیر سے گپ شپ میںمصروف تھے۔۔۔ دونوں اکابر بے پناہ محبت اور شفقت سے ملے، سفیر اسلام حضرت شاہ صاحب نے اس ناچیز سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’میرے عزیز نوید‘‘ اللہ آپ سے دین کا ہر فیلڈ میں جو کام لے رہے ہیں، اس پر کبھی فخر مت کرنا۔۔۔ آپ قومی میڈیا میں علماء ،دینی مدارس، جہاد اور مذہبی جماعتوں کی جس طرح سے کھل کر وکالت کرتے ہیں،یہ بھی اللہ کا آپ پر خاص کرم ہے۔۔۔ ان نعمتوں پر ہمیشہ اللہ پاک کا شکر اداکرتے رہا کرو‘‘

صد افسوس کہ سفیر اسلام سیدعبدالمجید ندیم اب ہم میں نہیں رہے۔۔ اللہ ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے، ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔آمین یارب العالمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor