Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

روشن اور روشن خیالی کے مرکز و محور (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 524 - Naveed Masood Hashmi - Roshan aur Roshan Khiyali

روشن اور روشن خیالی کے مرکز و محور

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 524)

ربیع الاول کا ماہ مبارک شروع ہے۔۔۔ ولادت مصطفیٰﷺ کی خوشی میں ملک بھرمیں سیرۃ النبیﷺ کانفرنسوں اور جلسوں کا پورے زور و شور سے اہتمام کیا جارہا ہے، خود یہ خاکسار بھی سیرت رحمۃ للعالمینﷺ کے تین پروگراموں میں شرکت کیلئے کراچی میں پہنچ چکا ہے (الحمدللہ)

بے شک رسولﷺ کی پیدائش کی خوشی سے بڑھ کر کسی مسلمان کیلئے کوئی دوسری خوشی ہو ہی نہیںسکتی۔۔۔ اُن کی آمد کا جلوہ تو خود رب کائنات نے قرآن پاک میں یوں دکھایاہے ترجمہ’’ بے شک تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک عظیم رسول تشریف فرما ہوئے ہیں،تمہارا مشقت میں پڑجانا ان پر بڑا گراں گزرتا ہے وہ تم میں سے ہر ایک کے خیر خواہ اور مومنوں پر تو نہایت مہربانیاں فرمانے والے اور حمت فرمانے والے ہیں (التوبہ128)

 رسول اکرمﷺ جو روشنی کا عظیم مینار تھے، آپﷺ کو جو کتاب عطا ہوئی قرآن پاک، وہ بھی روشن کتاب تھی، قرآن مقدس میں ارشاد خداوندی ہے کہ (ترجمہ) ’’ اور بے شک اللہ کی طرف سے تمہارے پاس ایک نور اور روشن کتاب آئی‘‘ (المائدہ15) اس روشنی کی کرنیں پھوٹنے سے قبل عرب کی جو صورت حال تھی اس کا نقشہ یوں کھینچا جا سکتا ہے کہ ہر طرف جہالت کا راج تھا، کفر و شرک کی نجاست نے چاروں اطراف ڈیرے ڈال رکھے تھے، عورتوں کو زندہ درگور کرنا کارنامہ قرار دیا جاتا تھا۔۔۔ بتوں پر انسانوں کی قربانی چڑھائی جاتی تھی، صرف پانی پینے اور پلانے کے معاملے پر شروع ہونے والی جنگ صدیوںتک جاری رہتی تھی، مگر پھر رسول اکرمﷺ نے روشن تعلیمات کے ذریعے انسانوں کی اصلاح کا فریضہ اس خوبصورت انداز میں سرانجام دیا کہ ۔۔۔بتوں کے پجاری، ایک خدا کو سجدہ کرنے والے بن گئے، عورتوں کو زندہ درگور کرنے والے عورتوں کا احترام اور ان کی حفاظت کرنے والے بن گئے، بچیوں کی پیدائش کو شرمندگی سمجھنے والوں نے۔۔۔ بیٹیوں کی پیدائش کو رحمت سمجھنا شروع کر دیا۔۔۔

محض پانی، پینے پلانے اور گھوڑا آگے بڑھانے کی وجہ سے سال ہا سال تک لڑنے والے آپس میں ایسے شیر و شکرہوئے کہ پھر مواخات مدینہ کی گونج قیامت تک سنائی دیتی رہے گی، مگر یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہو سکا کہ جب نبی رحمتﷺ کے پیروکاروں نے آپﷺ کی فرمائی ہوئی باتوں پر عمل شروع کیا،لبرل اور سیکولرجاہلوں کاوہ ٹولا کہ جو روشن خیالی کا مرکز و محور یورپ کو سمجھتاہے۔۔۔ حالانکہ نورانی تعلیمات کو دنیا میں پھیلایا ہی رسول کریمﷺ نے ہے۔۔۔ اور قرآن پاک کو خالق کائنات نے روشن کتاب قرار دیا ہے۔۔۔

کیا قرآن پاک کو چھوڑ کر، قرآن پاک کی تعلیمات سے منہ موڑ کر۔۔۔ رسول اکرمﷺ کے احکامات اور سنتوں سے بغاوت کرکے بھی کہیں دنیا میں روشن خیالی ہو سکتی ہے ؟ہرگز نہیں، حضورﷺ نے جب جہالت کے اندھیروں میں روشنی کے پیغام کو عام کرنا شروع کیا،’’قو لو لا الہ الا اللّٰہ تفلحوا‘‘ کا نعرہ حق بلندفرمایا۔۔۔ تو کافروں نے آپﷺ کو گالیاں دیں، برا بھلا کہا، جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، راستوں میں کانٹے بچھائے، آپﷺ کے پاکیزہ وجود پرنجاستیں پھینکیں، گلے میں پھندہ ڈال کر کھینچا، آپﷺ کی شان میں گستاخیاں کیں، کبھی (نعوذباللہ) آپﷺ کو ساحر کہا، کبھی مجنون کہا، کبھی شاعر کہا، لیکن آپﷺ یہ سب سہہ کر بھی پلٹ کر انہیں جواب دینے کی بجائے توحید کے چراغ روشن فرماتے رہے۔۔۔

 سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے، قریش مکہ بھی بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے بعض نے کہا کون ہے کہ جو فلاں کے اونٹ کی اوجھڑی لائے اور جب محمدﷺ سجدہ میں جائیں تو ان پر ڈال دے۔؛۔۔ عقبہ بن ابی معیط نام کا ایک بد بخت اورشقی القلب اٹھا اور اس نے اوجھڑی لاکر جس وقت آپﷺ سجدے میں تھے آپﷺ کی گردن پر رکھ دی، اسی دوران اچانک خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمہ الزہرا آگئیںاور اس اوجھڑی کو آپﷺ کی گردن سے ہٹایا اور جس بدبخت نے یہ حرکت کی تھی اسے بددعا دی۔۔۔

غرضیکہ کافروں نے آپﷺ کی روشن تعلیمات کا راستہ روکنے کیلئے وہ کون سا حربہ ہے جو استعمال نہ کیا ہو، وہ کونسا ظلم ہے جو آپﷺ کے ساتھ روانہ رکھا ہو، شاید کوئی بھی نہیں۔۔۔

 مگر کافر، منافق اور مشرک سارے حربے استعمال کرنے کے باوجود ظلم وستم کی ساری حدیں کراس کرنے کے باوجود۔۔۔ نہ آپﷺ کو حق بات کہنے سے روک سکے اور نہ ہی آپﷺ کی تعلیمات کو پھیلنے سے روک پائے، کیوں؟ اس لئے کہ سورج کی روشنی جب پھیلتی ہے تو اس کی پھیلنے والی کرنوں کو روکنا کسی کے اختیار میں نہیں رہتا۔۔۔

آج ایک دفعہ پھر کفر و شرک اور الحاد و توہم پرستی پر ’’روشن خیالی‘‘ کی مہر لگا کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوششیں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔۔۔ ان امریکی شیطانی کوششوں کو عروج پر پہنچانے میں میڈیا، سیکولر اور لبرل لادین عناصر بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں، قرآن مقدس جیسی روشن کتاب کو چھوڑ کر لبرل الحاد پرستی کو روشن خیالی قرار دیاجارہا ہے، رسول اللہ ﷺ کی روشن تعلیمات کو چھوڑ کر سیکولر لادینیت کے جھنڈے کو بلند کرنے کی کوششیں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔۔

 جو خود لادین ہیں، فرنگی کے ذہنی غلام ہیں، ڈالروں کی محبت نے جن کے دل و دماغ کوزنگ آلود کر دیا ہے وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کا آئین بھی سیکولر بنا دیا جائے۔۔۔ پاکستانی قوم کے دلوں اور دماغوں کو بھی لادین بنا دیا جائے۔۔۔ تصویر کے اس ایک رخ کے ساتھ دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ ہم بحیثیت قوم جھوٹ، فراڈ، دھوکا دہی، ملاوٹ کے عادی ہو چکے ہیں،کام چوری، ہڈ حرامی، ناپ تول میں کمی، دینی اقدار کا مذاق اڑانا، بزرگوں کی نافرمانی ہمارے مزاج کا حصہ بنتا جارہا ہے۔۔۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سیکولر الحاد پرستی سرائیت کرتی جارہ ہے۔۔۔ ان سارے موذی امراض سے جان چھڑانے کا صرف ایک طریقہ ہے اور وہ یہ کہ ہم یہود ونصاریٰ ہندو ومجوس کے بجھے ہوئے چراغوں سے روشنی کی بھیک مانگنے کی بجائے قرآن و سنت کی روشنی کی طرف لوٹ جائیں۔۔۔ یہ بات ہر انسان کو اپنے دل وماغ میںراسخ کر لینی چاہئے کہ روشنی اور روشن خیالی کا مرکز و محور صرف اور صرف قرآن و حدیث کے علوم ہیں۔۔۔

کائنات میں سب سے اعلیٰ و ارفع روشن کتاب صرف اور صرف قرآن مقدس ہے۔۔۔ لوگو! جس کتاب (قرآن) کو اللہ خود روشن کتاب قرار دے اس کی روشنی کا عالم کیا ہوگا؟ اس لئے لبرل اور سیکولر لادین تاریک خیالی اور تاریک راہوں اور ان تاریک راہوں کے داعیوں سے جان چھڑا کر پیغمبرﷺ کے دامن کے ساتھ مضبوط ترین تعلق ہی ولادت مصطفی منانے کا خوبصورت ترین طریقہ ہو سکتا ہے۔۔۔

(وماتوفیقی الاباللّٰہ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor