Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

کراچی عشق مصطفیﷺ کی خوشبو سے سرشار (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 525 - Naveed Masood Hashmi - karachi ishq e mustafa se sarshar

کراچی عشق مصطفیﷺ کی خوشبو سے سرشار

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 525)

میں گجرات سمیت ہندوستان بھر میں ہزاروں مسلمانوںکے قاتل اور1971ء میں پاکستان کو توڑنے کی سازش میں شریک رہنے کا اعتراف کرنے والے عالمی دہشت گرد نریندر مودی کی لاہور اور پھر رائے ونڈ میں میاں نواز شریف کے محل آمد پر نہ تو خوشی کا اظہار کر سکتا ہوں اور نہ ہی اطمینان کا۔۔۔ ایک دہشت گرد اور قاتل میاںنواز شریف کے گھر دعوت کھانے کے بعد بھی دہشت گرد اور قاتل ہی کہلائے گا، سیکولر لادین اینکرز، اینکرنیوں اور تجزیہ نگاروں کے’’نظریات‘‘ کاچونکہ کوئی سرپیر نہیں ہوتا اس لئے مودی کی لاہور اور جاتی امراء آمدپر خوشی سے ڈگڈگی بجانا ان کی قابل رحم ذہنیت کی عکاسی کرنے کیلئے کافی ہے۔۔۔ اس لئے اس موضوع پر قلم کی توانائیاں صرف کرنے کی بجائے کراچی میںمنعقد ہونے والی ’’غزوات النبیﷺ‘‘، ’’سیرۃ رحمۃ اللعالمین ﷺ‘‘ اور’’دعوت الی اللہ‘‘ کانفرنسوں کے اَحوال کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں۔۔۔

مٹھی بھر سیکولر لادین دہشتگردوں ، بھتہ خوروں، ’’را‘‘ کے ایجنٹوں اور لینڈ مافیا کے کارندوں نے کراچی کو بدنام کر دیا۔۔۔ ورنہ کراچی میں بسنے والے عوام تو اسلام کے سچے شیدائی اور عشقِ مصطفی ﷺ کے وفادار سپاہی ہیں، میرا کراچی والوں سے گزشتہ25 برسوں سے قریبی تعلق اور رابطہ رہا ہے۔۔۔ ان25برسوں میں اسلام آباد کے ایوان ہوں یا سندھ میں اقتدار کے ایوان، ان ایوانوں پر کبھی روشن خیالی کے نام پر سیکولر شدت پسند جاہلیت کا سایہ رہا اور کبھی انڈیا کو کشمیری مجاہدین کی لسٹیں فراہم کرنے والے قابض رہے۔۔۔ ایوان اقتدار کبھی امریکہ کے غلاموں کے پاس رہا اور کبھی بھارت کے غم خواروں کے پاس۔۔۔ مگر کراچی والوں کا تعلق نہ اسلام سے توڑا جا سکا، نہ ان کا رشتہ مسجد سے ختم کیا جا سکا اور نہ ہی مدرسے سے۔۔۔ حالات جیسے بھی کیوںنہ رہے مگر عشق مصطفی ﷺ کراچی کے مسلمانوں کے دلوں میں ہمیشہ موجزن رہا۔۔۔

23دسمبرکی رات کراچی کے لسبیلہ چوک میں غزوات النبیﷺ کانفرنس کا پنڈال عشق مصطفی کے جانثاروں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔ رات کے تقریبا ساڑھے گیارہ بج چکے تھے کہ جب اس خاکسار کو۔۔۔ آخری مقرر کے طور پر خطاب کی دعوت دی گئی، غزوات النبیﷺ کا موضوع ایسا حسین اور دلفریب موضوع ہے۔۔۔ کہ جس پر گفتگو کرنے کا مزہ ہی جداہے۔۔۔

میں نے کانفرنس کے شرکاء سے عرض کیا کہ نبی کریمﷺ کو اللہ پاک نے تمام جہانوں کے لئے رحمت بناکر بھیجا، حضورﷺ چرند، پرند، نباتات، جمادات، شجر و حجر، جن و انسانوں سب کیلئے رحمت تھے، جہاد و قتال اور غزوات بھی نبی مکرمﷺ کی رحمت کا ہی حصہ تھے، گمراہوں کا جو ٹولا یہود و نصاریٰ اور قادیانیوں کی قیادت میں اسلام کے فریضہ جہاد کا منکر ہے وہ دراصل نبی مکرمﷺ کی رحمت کا بھی منکر ہے۔۔۔

گمراہ طبقہ شاید یہ سمجھتا ہے کہ غزوات و جہاد کوئی اور چیزہے اور رسول کریمﷺ کی رحمت کوئی دوسری چیز ۔۔۔ یہی شیطان کا وہ دھوکا اور فریب ہے کہ جو یورپ سے مرعوب ڈالر خوروں کو اصل راستے سے بھٹکاتا ہے، حالانکہ نبی کریمﷺ نے اپنے جانثار صحابہ کرامؓ کی کمان کرتے ہوئے جو27غزوات لڑے وہ سب کے سب محسن عالمﷺ کی رحمت و شفقت کا حصہ تھے۔۔۔

یہاں اس نکتے کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ کسی شخص،گروہ ،طبقے یا جماعت کے غلط طرز عمل یافتنہ وفساد کی وجہ سے۔۔۔ اللہ کی نافذکردہ حدود و قیود اورعبادات خداوندی کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ مثلاً اگر ایک مسجد یا بہت سی مساجد میں نمازی لڑ پڑیں یا لڑنا شروع کر دیں۔۔۔ تو ان بعض نماز پڑھنے والوں کے اس غلط طرز عمل کو دیکھ کر نہ تو نماز کی فرضیت کا انکار کیا جا سکتا ہے، نہ اسلام کو شدت پسندی کا طعنہ دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی مساجد کے احترام میں کوئی کمی لائی جاسکتی ہے۔۔۔

اسی طرح بیت اللہ کے حج کے دوران حاجیوں میں اگر لڑائی جھگڑے شروع ہوجائیں یا برائیاں رواج پا جائیں۔۔۔ تو ان لڑائی جھگڑوں یا برائیوں کی وجہ سے نہ بیت اللہ کی عزت میں کمی واقع ہوسکتی ہے اورنہ ہی حج کے فرض ہونے کا انکار کیا جا سکتاہے۔۔۔

بالکل اسی طرح اگر کوئی گروہ، یا کوئی شخص دہشت گردی اور دنگا وفساد کو جہاد قرار دیتاہے۔۔۔ تو اس دہشت گرد گروہ کی وجہ سے نہ تو جہاد کی فرضیت کا انکار کیا جا سکتا ہے اورنہ ہی اللہ کے حکم جہاد وقتال کی صحت پر کوئی رتی بھربھی اثر پڑتا ہے۔۔۔ اس لئے کہ جہادی غزوات رسول مکرمﷺ کی سیرت طیبہ کا حصہ ہیں، یاد رکھئے کہ بے گناہ انسانوں کوقتل کرنے والے ،معصوم بچوں کو مارنے والے قطعاً مجاہدین نہیں ہو سکتے۔۔۔ بلکہ یہ توراندہ درگاہ اور وہ بدنام زمانہ دہشت گرد ہیں کہ جن سے گھٹیا کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔

لیکن افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج کامقابلہ کرنے والے مظلوم مسلمان ہوں، کشمیر میں بھارتی درندوں کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے حریت پسند ہوں یا یہودیوں کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے فلسطینی مجاہد، یہ سب کے سب غزوات النبیﷺ کے سچے پیروکار اور جانباز ہیں۔۔۔

24دسمبر کی شام مغرب کے بعد ناظم آباد سخی حسن چورنگی سے متصل جامع مسجد بطحا میں سیرت رحمۃ للعالمینﷺ کے عنوان سے عظیم الشان طلباء اجتماع تھا، اجتماع میں شریک ہزاروں طلباء کے محبت رسولﷺ سے مزین جذبات کو دیکھ کرروح خوش ہوگئی۔۔۔

درود پاک کے سرور میں ڈوبے ہوئے ہزاروں نوجوان طلباء سے خطاب کرتے ہوئے مجھے کہنا پڑا کہ آج باطل میڈیا اور اس کے فنکار تجزیہ نگاروں کا۔۔۔ یہ پروپیگنڈا بھی غلط ثابت ہو گیا کہ نوجوان طلباء صرف رقص و سرور ، ڈانس،موسیقی کی محفلوں یاکرکٹ اور ہاکی پر ہی اکٹھے ہو سکتے ہیں۔۔۔درود وسلام پڑھتے ہوئے یہ ہزاروں نوجوان چہرے ہی دراصل، اصل اسلامی پاکستان کی تصویر ہیں۔۔۔ میڈیا نے گزشتہ پندرہ،بیس سالوں سے پاکستان میں الحاد پرستی اور فحاشی و عریانی کو پھیلانے کیلئے جتنا زور لگایا ۔۔۔ اس کا عشر عشیر بھی اگر وہ نوجوانوں کی اصلاح اور اسلامی اقدار کوفروغ دینے پرلگا دیتا تواب تک پاکستان میں اسلامی انقلاب آچکا ہوتا۔۔۔

لیکن’’دجالی ہتھیاروں‘‘ سے اصلاح یا اسلامی اقدار کے فروغ کی امید رکھنا ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص سانڈھ سے دودھ نکالنے کی امیدرکھ لے، ہمیں اگر پاکستان کو پُرامن بنانا ہے ، پاکستان میں انقلاب لانا ہے تو پھر سیرت رسول عربیﷺ پر عمل پیرا ہونا پڑے گا، یہ کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ جس سندھ کو مجاہد اعظم محمد بن قاسمؒ نے مجاہدین کی قیادت کرتے ہوئے راجہ داہر جیسے بدمعاش اورعیاش کو شکست فاش دے کر باب الاسلام بنایا تھا۔۔۔ اس صوبہ سندھ کی اسمبلی میں جب کراچی میں شراب کی بڑھتی ہوئی دکانوں کی نشاندہی کی جاتی ہے تو ایک وزیر یہ جواب دیتا ہے کہ۔۔۔ شراب کی زیادہ دکانیں کھلنے کی وجہ سے ریونیو میں اضافہ ہو رہا ہے، جب ایوان میںبیٹھے ہوئے لوگ شراب اور دولت کے نشے میں مخمور ہو کر سیرت رسول اکرمﷺ سے بغاوت کریں گے تو اس ملک پر بے برکتی اور نحوست کے سائے چھائے رہیں گے  اگر کوئی شخصیت یا پارٹی یہ کہتی ہے کہ وہ وسول کریمﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوئے بغیر پاکستان میںانقلاب برپا کر سکتی ہے تویہ اس کی خام خیالی ہے۔۔۔ رسول اکرمﷺ کے اسوہ حسنہ یا سیرت مبارکہ پر عمل کئے بغیر گمراہی اور لادینیت کا سیلاب تو آسکتا ہے مگر اسلامی اور اصلاحی انقلاب کبھی بھی نہیں آسکتا۔۔۔

26دسمبر ہفتہ کے دن سعود آباد ملیر کی رشیدیہ مسجد میں ’’دعوت الی اللہ‘‘ کانفرنس کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بندہ ناچیز نے جو گزارشات پیش کیں ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔۔۔ آج ہر شخص اپنی طرف بلا رہا ہے، ہر پارٹی اپنے لیڈر کی طرف عوام کو راغب کرنے کی محنت پر لگی ہوئی ہے۔۔۔ ہر سیاست دان بڑھکیں مار رہا ہے کہ میں یہ کروں گا اور وہ کروںگا۔۔۔ لیکن حضرت اقدس مولانا محمدمسعود ازہر حفطہ اللہ تعالیٰ کے جانباز خوش قسمت ہیں کہ وہ مسلمانوں کو اپنی یا اپنے قائد کی طرف بلانے کی بجائے اللہ اور اللہ کے دین کی طرف بلا رہے ہیں، رسول اکرمﷺ کی مبارک سنتوں کی طرف بلا رہے ہیں۔۔۔

کامیابی امریکہ یابرطانیہ کے ویزوںمیں نہیں بلکہ نبی محتشمﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے میں ہے، آج معاشرے میں رشوت خوری، ظلم و تعدی،چوری، ڈکیتی، کرپشن، لوٹ مار، بے حیائی ،فحاشی وعریانی، حرص،ہوس، طمع و لالچ اسی لئے چہار سو پھیلا ہواہے کہ’’رجوع الی اللہ‘‘ کا فقدان ہی فقدان ہے، کوئی سیاست دان یا جماعت اس وقت تک ہماری ڈوبتی کشتی کو کنارے نہیں لگا سکتی جب تک اللہ اور اس کے رسولﷺ کے راستے کو اختیار نہ کر لے۔۔۔ مسلمان اللہ اوراس کے رسولﷺ کے راستے کو اختیار کئے بغیر کامیاب ہو ہی نہیں سکتا، اس لئے ہم سب کو بحیثیت مسلمان دھوکے سے نکلنا ہے اور کامیاب زندگی گزانے کیلئے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے دین کی طرف مکمل رجوع کرنا پڑے گا۔

سیرت رحمۃ للعالمین کانفرنس سے امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر کے برادر صغیر مولانا مفتی عبدالرؤف اصغر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریمﷺ سے محبت ہی دنیا و آخرت میں کامیابی کا زینہ ہے، صحابہ کرامؓ کی مقدس جماعت نے آپﷺ کی محبت کو اپنے لئے حرز جاں بنایا۔۔۔

حضور اکرمﷺ کی سیرت منانے کی بجائے اپنانے کی ضرورت ہے۔۔۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں ہمیں واضح فرمادیا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ کے محبوب بن جاؤ تو پھر تمہیںاطاعت رسولﷺ کرنی پڑے گی۔۔۔ انہوں نے صحابہ کرامؓ کی آپﷺ سے محبت اور اطاعت کے واقعات بیان کرنے کے بعد کہا کہ امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر کی مبارک جماعت کے مجاہدین محاذوں پر اطاعت رسولﷺ کے جذبات سے سرشار ہو کر جانیں نچھاور کر رہے ہیں، انہوں نے کشمیر کے محاذ پر جیش کے جانبازوں کی قربانیوں اوربہادری کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔۔۔

انہوں نے عالمی دہشت گرد نرنیدر مودی کوللکارتے ہوئے کہا کہ بھارتی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کاگن گن کر حساب لیا جائیگا، نریندرمودی کی مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کا جواب ہم میدان جہاد میں دیں گے۔۔۔ جا مع مسجد بطحا میں ہونے والے طلباء اجتماع سے المرابطون کے ناظم اعلیٰ مولانا خادم قاسمی کے خطاب میں شعبہ المرابطون کی کارکردگی کی تفصیلات سن کر حیرانگی کے ساتھ ساتھ کافی خوشی بھی محسوس ہوئی.. المرابطون کے طلباء ساتھیوں نے جس محنت اور لگن کے ساتھ۔۔۔ جذبۂ جہاد کو ملک بھر کے طلباء و علماء تک پہنچانے کا فریضہ سر انجام دینا شروع کر رکھا ہے وہ واقعی قابل ستائش ہے۔۔۔

کراچی میں ہونے والے اجتماعات اور کانفرنسیں اس لحاظ سے بھی منفرد رہیں کہ ان میں باقاعدہ’’ذکرا للہ‘‘ کا اہتمام بھی ہوتا رہا اور جہاد کے ساتھ ساتھ دین کے بقیہ شعبوں کی اہمیت اور فضیلت کو بھی کھل کر بیان کیا گیا، کانفرنسوں سے نامور مجاہد اور غازی مولاناقاری ابوجندل نے ولولہ انگیز بیانات کے ساتھ ساتھ اپنے مخصوص انداز میں تلاوت کلام پاک کے علاوہ جہادی نظموں سے حاضرین کے دلوں کو خوب گرمایا۔۔۔ اسیرہند مولانا الیاس قاسمی نے اپنے خطاب میں دعوت الی اللہ کے فریضے کو خوب نبھایا، سچی بات ہے کہ کراچی میں ہونے والی کانفرنسوں اور اجتماعات میں حضرت قاری غلام عباس مرحوم کی کمی کوشدت سے محسوس کیا گیا۔۔۔ واقعی وہ مجاہدین کی کانفرنسوں اوراجتماعات کی جان تھے۔۔۔قاری غلام عباس جہادی محاذوں کے حدی خواں، شہداء کے خون کی خوشبو کو اپنی مترنم آوازمیں پھیلانے والے۔۔۔ مداح اصحاب رسولﷺ اور نعت رسول مقبولﷺ کو حرز جاں بنانے والے عظیم المرتبت انسان تھے۔۔۔ مرحوم قاری غلام عباس اپنے امیر مولانا محمد مسعود ازہر کی قیادت و سیادت پر فخر کیا کرتے تھے۔۔۔ وہ جہاد مقدس کے عاشق زار تھے،جماعت نے ان کے ذمہ جو کام لگایا۔۔۔ انہوں نے اس کام کی انجام دہی کیلئے سر دھڑ کی بازی لگا دی، چونکہ موت کا وقت مقرر ہے، اس لئے وہ بھی وقت مقررپر۔۔۔ داعی اجل کی دعوت پر لبیک کہہ گئے، اللہ ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor