Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نواز، مودی ملاقات… کس کا فائدہ؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 526 - Naveed Masood Hashmi - Nawaz Moodi Mulaqat Faia kis ka

نواز، مودی ملاقات… کس کا فائدہ؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 526)

ایک قاتل اوردہشت گردکی وزیراعظم نواز شریف کے گھرآمد اور پھر اسکا زبردست استقبال، دہشت گرد نریندرمودی اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان تحائف کا تبادلہ، اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑگیا۔ وزیراعظم نواز شریف بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی طرف سے دئیے جانے والے تحائف کے اس درجہ قدردان نکلے کہ انہوں نے اپنی نواسی کی شادی کی تقریب میں بھی وہی گلابی پگڑی پہن کرشرکت کی کہ جو نریندرمودی نے انہیں تحفے میںدی تھی… سابق ڈکٹیٹر صدرپرویزمشرف کو’’شریف خاندان’’ اس لئے معاف کرنے کیلئے تیارنہیںکہ اس نے شریف خاندان کے بزرگ اعلیٰ میاںمحمدشریف مرحوم کے جنازے میںنوازشریف کوشریک ہونے کی اجازت نہیںدی تھی۔

تب میاںمحمدنوازشریف کا مسکن جدہ کا سرورپیلس تھا،ایک طرف توغصے اورغیرت کا یہ عالم…اوردوسری طرف پاکستان توڑنے پرفخرکرنے والا،بھارتی گجرات کے مسلمانوں کے قتل عام میںملوث،بابری مسجداور سمجھوتہ ایکسپریس کے جیسے خونی واقعات کے پیچھے کارفرمابدنام زمانہ دہشت گرد’ نریندرمودی سے صرف قیمتی تحائف کا تبادلہ بلکہ اس کی طرف سے تحفے میں دی جانے والی پگڑی کو پہن کر نواسی کی شادی کی تقریبات میں شرکت… وزیراعظم نواز شریف کی ’’بصیرت افروزی’’کا اندازہ لگانا اب زیادہ مشکل بھی نہیں ہے۔

کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد نریندر مودی کا دورہ اتنا اچانک بھی نہ تھا کہ کم از کم میاں نواز شریف کی حد تک… جس سے لاعلم ہوتے’ بھارتی خاتون صحافی برکھادت نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف اور سجن جندال کے درمیان گزشتہ دو سال سے اسٹیل کی تجارت کے سلسلے میں قریبی روابطہ ہیں… سنا ہے کہ سجن جندال کو بھارت میں اسٹیل کے کاروبار کا ’’نواب’’ قرار دیا جاتا ہے’25 دسمبر کو بھارتی اسٹیل کا یہ نواب نہ صرف لاہور میں پایا گیا… بلکہ جاتی امرائ￿  میں بھی اہلیہ کے ہمراہ وزیراعظم کی نواسی کی شادی کی تقریب میںموجود رہا۔

اس حوالے سے سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کا ایک انٹرویو چشم کشا وہ کہتے ہیں کہ ’’بھارت اقتصادی راہداری چاہتا ہے’25دسمبر کو ہونے والی نریندر مودی کی نواز شریف سے ملاقات پہلے سے طے تھی’ لیکن بھارتی وزیراعظم کے شیڈول میں نہیں لکھی گئی تھی’ اس ملاقات کا اہتمام بھارٹی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال نے کروایا تھا… جو خود بھی اس ملاقات میں موجود تھے’ جنرل (ر) اسلم بیگ کہتے ہیں کہ ایک منصوبے کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے پیرس میں اچانک پاکستانی وزیراعظم کے کانوں میں سرگوشیاں شروع کر دیں… اسے بریک تھرو کا نام دیا گیا لیکن اس کے فوراً بعد مشہور بھارتی صحافتی برکھادت نے دعویٰ کیا تھا کہ ایسی ہی اچانک ایک ملاقات مزید بھی ہوگی۔ نریندر مودی کی آمد سے پہلے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی آمد بھی منصوبے کا حصہ تھی… انہوں نے کہا کہ سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نریندر مودی کا میاں نواز شریف کے گھر جانا حیرارن کن ہے… میاں نواز شریف اور نریندر مودی نہ تو ایک علاقے کے ہیں اور نہ ہی ان کے درمیان کاروباری اشتراک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی نجی ملاقات کی دنیا میں مثال نہیں ملتی… قیمتی تحائف کے تبادلے غیر طے شدہ یا اچانک ملاقاتوں میں نہیں ہوتے’ جنرل بیگ نے کہا کہ اب پاکستان میں ’’لبرل’’ اس بات پر بغلیں بجا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ماضی سے جان چھڑائو’ یعنی وہ کشمیر کے مسئلے سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور باقی ماندہ کشمیر بھی بھارت کے حوالے کر دینا چاہتے ہیں۔ اس سازش کے پیچھے یہ سوچ کار فرما ہے کہ پاکستان کی صنعت کار قیادت کو بھارتی قیادت کے ساتھ ملاقات کروا کر وہ مقاصد حاصل کئے جائیں جو آج تک حاصل نہیں ہوسکے۔ بھارت’ پاکستان کے ساتھ موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ حاصل کرکے اقتصادی راہداری میں راستہ چاہتا ہے… کیونکہ پاکستان وسط ایشیائی اقتصادی شہ رگ بن جائے گا… لیکن بھارت پاکستان کی شہ رگ کشمیر دبا کر اس راہداری میں اپنا حصہ بھی چاہتا ہے’ چین سے یورپ تک چلنے والی مقناطیسی ٹرین جو تین سو کلو میٹر کی رفتار سے چلے گی اس تک پہنچنے کا راستہ بھی پاکستان کے پاس ہے’ بھارت اپنی تجارتی سرگرمیوں کی خاطر پاکستان کی سیاسی قیادت سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہا ہے… پاکستان کی سیاسی قیادت تو شاید بھارت کے اس جھانسے میں آجائے’ لیکن پاکستان کی عسکری قیادت اس سازش کا کبھی حصہ نہیں بنے گی کیونکہ سیاچن سے لے کر چناب تک ہماری فوج قربانیاں دے رہی ہے’ ہمارے ہزاروں سپاہی لائن آف کنٹرول پر جانیں دے چکے ہیں… اور اس سے بڑھ کر ہمارے ڈیڑھ لاکھ سے زائد کشمیری مسلمان بھائی بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہوچکے ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل (ر) اسلم بیگ نے اپنے اس انٹرویو میں یہ اہم بات کرکے قوم کے کان کھڑے کر دئیے ہیں کہ ’’عسکری قیادت’’ نہ تو بھارت کے جھانسے میں آئے گی اور نہ ہی اس سازش کا حصہ بنے گی’ دوسری طرف یہ سوال بھی پوری شدت سے اٹھایا جارہا ہے کہ کیا جاتی امراء میں ہونے والی نواز’ مودی ملاقات کا چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کو پہلے سے علم تھا؟ اگر نہیں تو کیوں؟ سوال یہ بھی ہے کہ نواز’ مودی اچانک ملاقات میں کس نے کھویا اور کس نے پایا؟ میری دانست میں اس کا جواب بڑا واضح ہے کہ … جاتی امراء میں ہونے والی نواز ‘مودی ملاقات میں بھارتی امیج بہتر ہوا وہ مغربی میڈیا کہ جو بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر توڑے جانے والے مظالم کی وجہ سے نریندر مودی پر سخت تنقید کر رہا تھا’ 25دسمبر کو جاتی امرائ￿  میں ہونے والی نواز مودی ملاقات کے بعد اب وہی مغربی میڈیا بھارت کی تعریفیں کر رہا ہے۔

اگر یہ کہہ دیا جائے کہ جاتی امراء میں نواز شریف سے ہونے والی نریندر مودی کی ملاقات سے عالمی سطح پر بھارت کا سافٹ امیج بلند ہوا تو یقینا غلط نہ ہوگا’ نریندر مودی کے حوالے سے عالمی سطح پر یہ خبریں زور پکڑنا شروع ہوگئیں تھیں کہ یہ ایک انتہا پسند شخص ہے’ مگر نواز شریف کی ملاقات والی مہربانی سے دنیا میں مودی کے حوالے سے جانے والا پیغام مثبت تھا’ نریندر مودی نے جو قیمتی تحائف میاں نواز شریف کو دئیے… ان تحائف کا فائدہ اس ملک اور قوم کو کیا ہوا؟ اگر میاں نواز شریف کا کوئی ترجمان قوم کو بتانا چاہے تو ضرور بتا دے’ کیا نواز مودی ملاقات میں کشمیر کا مسئلہ حل ہوگیا؟ کیا اس ملاقات سے بھارت کے ساتھ آبی مسائل حل ہوگئے؟ رہ گئی بات مذاکرات کے شروع ہونے کی… تو سوا سو سے زائد بار بھارت سے مذاکرات ہو چکے ہیں… اگر ان مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوا… تو اب کیا فائدہ ہوگا؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor