Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ایران سے پٹھان کوٹ تک (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 527 - Naveed Masood Hashmi - Iran se Pathan Kot tak

ایران سے پٹھان کوٹ تک

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 527)

ایک طرف ایران اور سعودی عرب تنازع، دوسری طرف پٹھان کوٹ ایئر بیس پر ہونے والی کشمیری مجاہدین کی جہادی یلغار، تیسری جانب حزب اللہ جیسی دہشتگرد تنظیموں کے معاملات، موضوع تینوں ہی دلچسپ بھی ہیں اور اس بات کے متقاضی بھی کہ ان پر سیر حاصل گفتگوکی جائے۔۔۔۔ میری کوشش ہو گی کہ ان تینوں موضوعات پر مختصر، مختصر بحث کر کے تفصیلات آئندہ کسی کالم پر اُٹھا رکھتے ہیں ( ان شاء اللہ)

کالم کے آغاز میں ہی ایک اخبار میں چھپنے والی یہ خبر بھی پڑھ لیجئے، خبر کے مطابق ’’ایران میں سال2015ء میں ایک ہزار افراد کو سزائے موت دی گئی۔۔۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ2015ء کے صرف پہلے 6ماہ کے دوران ایران میں700افراد کو سزائے موت دی گئی‘‘۔۔۔ایران اور سعودی عرب تنازع کوئی نیا نہیں بلکہ یہ اس وقت سے شروع ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں اسے فتح کیا گیا تھا، مگر پرانے اختلافات پر بحث کرنے کی بجائے۔۔۔ خمینی انقلاب کے بعد کی صورت حال پر نظر دوڑا لیتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ امام خمینی نے اپنے فتوے میں جن پانچ حکومتوں کا تختہ الٹنے کی ہدایت دی تھی اس میں سعودی عرب بھی شامل تھا، بعد ازاں جب ایران، عراق، جنگ شروع ہوئی تو سعودی عرب نے عراق کی حمایت کی۔۔۔ اور پھر تب سے لے کر اب تک دونوں ملکوں کے درمیان بن نہ سکی بلکہ ٹھنتی ہی چلی گئی۔۔۔

تازہ ترین واقعہ کچھ یوں ہے کہ سعودی عرب نے اپنے ملک میں دہشت گردی اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث47افراد کو سزائے موت دے ڈالی، ان سزائے موت پانے والوں میں ایک ایران نواز شیعہ مبلغ نمر الباقر بھی تھا، نمبر الباقر کا تعلق سعودیہ کے مشرقی صوبے قطیف کے ایک گاؤں سے تھا، موصوف تقریباً چودہ برس تہران اور شام میں زیر تعلیم رہنے کے بعد واپس سعودی عرب پہنچے تو موصوف نے قطیف صوبے میں سعودی حکومت کے خلاف مظاہروں کی قیادت شروع کر دی، قصہ مختصریہ کہ بالآخر سعودی پولیس نے انہیں گرفتار کر کے باقاعدہ مقدمہ چلایا اور عدالت کے ذریعے سزائے موت کا فیصلہ آنے کے بعد شیخ نمر الباقر کا سرتن سے جدا کر دیا گیا۔۔۔

شیخ نمر کو ملنے والی سزائے موت کے خلاف ایرانی حکومت اور عوام نے اس قدر اشتعال کا مظاہرہ کیا کہ تہران میں سعودی سفارتخانے پر حملہ کر کے۔۔۔ سفارت خانے کو تہس، نہس کر ڈالا۔۔۔ صرف یہی نہیں بلکہ شیعہ مبلغ کو ملنے والی پھانسی کے ردعمل میں خطے میں موجود ایرانی حمایت یافتہ تنظیموں نے دنیا بھر میں سعودی مفادات پر حملوں کی دھمکی بھی دی ہے۔۔۔ سعودی عرب کو دی جانے والی ایرانی دھمکیوں کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں میں سخت تشویش اور غم و غصے کی فضاء پائی جاتی ہے۔۔۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی عوام پاکستان کو انتہائی عزت اور احترام کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔۔۔ اس لئے ان کی کوشش ہے کہ پاکستان امت مسلمہ کی قیادت کا فریضہ سرانجام دے۔۔۔ اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے۔۔۔۔

جبکہ ایران نواز لابی کی کوشش ہے کہ پاکستان نہ تو سعودی عرب کی قیادت میں بننے والی34اسلامی ملکوں کے فوجی اتحاد میں شامل ہو۔۔۔ اور نہ ہی سعودی عرب کی حمایت یا مدد کرے۔۔۔ مگر ایسا اس لئے ناممکن ہے کیونکہ پاکستان کے19کروڑ عوام، حکمران اورعسکری قیادت اپنے محسن ملک سعودی عرب کو کسی قیمت پر بھی تنہا نہیں چھوڑ سکتی، شاید اسی لئے سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر پاکستان کا دو روزہ دورہ مکمل کر کے مطمئن واپس لوٹے۔۔۔ کیونکہ انہیں پاکستان کی طرف سے ہر ممکن تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کروا دی گئی تھی۔۔۔

سعودی عرب کے ساتھ بھرپور تعاون اور اس کی سالمیت کو لاحق خطرات سے نپٹنے کیلئے اسے مدد فراہم کرنا۔۔۔ پوری پاکستانی قوم کے دلوں کی آرزو ہے۔۔۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف جلوس اور جلسے کر کے ملک میں فرقہ واریت کو بڑھاوا دینے کی کوششیں کرنے والوںکو بھی گرفتار کر کے عدالتوں کے سامنے پیش کرے۔۔۔ پاکستان میں کسی بھی شخص کو فرقہ واریت پھیلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔۔۔ یہ خبر بھی انتہائی تشویش ناک ہے کہ ایران، سعودی عرب کے تنازع کو بنیاد بنا کر پاکستان میں بعض ناپسندیدہ عناصر فرقہ واریت کو پروان چڑھانے کی پوری تیاری کئے ہوئے ہیں لیکن ان شاء اللہ پاکستانی قوم ان کا یہ ایجنڈا کامیاب نہیں ہونے دی گی۔۔۔

اب آتے ہیں پٹھان کوٹ ایئر بیس پر ہونے والے حملے کی طرف ۔۔۔ کہ جس حملے میں ایک درجن کے لگ بھگ بھارتی فوجی مع اپنے افسران کے۔۔۔ جہنم واصل ہوئے۔۔۔ اس حملے کی ذمہ داری متحدہ جہاد کونسل جموں وکشمیر نے قبول کی۔۔۔ مگر بھارتی سرکار نجانے کیوں۔۔۔ اس حملے کی ذمہ داری جان بوجھ کر کشمیری مجاہدین کی مضبوط ترین تنظیم جیش محمدﷺ پر ڈال رہی ہے۔۔۔ بھارتی سرکار کا دعویٰ ہے کہ حملہ سرحد پار سے کروایا گیا اور یہ کہ اس سلسلے میں اہم معلومات پاکستانی حکام کے حوالے کر دی گئی ہیں، دوسری جانب 8جنوری کو اسلام آباد میں حکومتی اور عسکری قیادت کی بیٹھک میں دہشت گردی کے خلاف بھارت سے تعاون کا فیصلہ کیا گیا، اور یہ بھی کہ اپنی سرزمین بھارت کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔۔۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ بھارت کے ہاں دہشت گردی کی تعریف کیا ہے؟

ہر ذی شعور انسان جانتا ہے کہ سال ہا سال سے مقبوضہ کشمیر کی سرزمین پر کشمیر کے مظلوم مسلمانوں نے تحریک جہاد برپا کر رکھی ہے۔۔۔ بھارتی فوجی گزشتہ 25سالوں سے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھا رہی ہے۔۔۔ بھارت کی سات لاکھ فوج نے سواکروڑ کے لگ بھگ کشمیری مسلمانوں کو عملاً یرغمال بنا رکھا ہے۔۔۔ بھارت کشمیری مجاہدین کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔۔۔ جبکہ پاکستان مظلوم کشمیریوں کا ہمیشہ سے پشتیبان رہا ہے۔۔۔ پاکستان نے جو دہشت گردی کے خلاف بھارت سے تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔ اس کے پیرامیٹر کیا ہوں گے؟ نریندی مودی کی دہشت گردی، منافقانہ سیاست اور چانکیائی قلابازیوں سے کون واقف نہیں ہے۔۔۔

اسے اگر ابھی تک یہ نہیں بھولا کہ اس نے 1971ء میں پاکستان توڑنے میں اہم کردار ادا کیا تھا تو وہ پھر1999ء کا وہ وقت کیسے بھول سکتا ہے کہ جب چند مسلمان بھارتی ہائی جیکرز نے انڈین طیارہ اغوا کر کے۔۔۔ بدلے میں نامور علمی، روحانی اور جہادی شخصیت مولانا محمدمسعود ازہر سمیت دو دیگر مجاہدین کو رہا کروا کر ۔۔۔ پوری دنیا میں بھارت کو ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔ متحدہ جہاد کونسل جموں وکشمیر کے چیئرمین سید صلاح الدین کی طرف سے پٹھان کوٹ ایئربیس پرہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد بھی اگر مودی سرکار کی سوئی جیش محمدﷺ اور مولانا محمد مسعود ازہر یا ان کے کسی بھائی پر اٹکی ہوئی ہے تو یہ کوئی زیادہ ناقابل فہم بات بھی نہیں ہے دراصل نریندر مودی چانکیائی سیاسی چال کے ذریعے طیارے کے اغواء کا بدلہ پٹھان کوٹ واقعہ کی آڑ میں چکا کر بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتا ہے۔۔۔

لیکن سید صلاح الدین نے اپنے بیان میں یہ کہہ کر بھارتی سرکار کی ساری خوش فہمیوں پر پانی پھیر دیا ہے کہ کشمیری مجاہدین کی طرف سے یہ کوئی آخری کارروائی نہیں ہے۔۔۔بلکہ اگر بھارت کے حکمران کشمیری قوم کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں آزادی دینے پر تیار اورمظلوم کشمیری پر ظلم ڈھانے سے باز نہ آئے تو کشمیری مجاہدین بھارتی مفادات پر حملے کرتے رہیں گے۔۔۔

ان حالات میں پاکستان کے حکمرانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ شوق سے پاکستانی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے پر پابندی لگائیں۔۔۔۔ لیکن خود بھی بھارتی مفادات کیلئے استعمال ہونے سے گریز کریں۔۔۔۔

 پاکستانی میڈیا اور پاکستانی دانش وروں پر بھی پابندی عائد ہونی چاہئے کہ وہ بھی بھارت کے مفادات کیلئے استعمال مت ہوں۔۔۔۔ بات آدھی نہیں پوری ہونی چاہئے۔۔۔۔

پابندی آدھی نہیں مکمل اور جامع لگنی چاہئے۔۔۔ نہ پاکستان کی سرزمین بھارت کے خلاف استعمال ہونا چاہئے اور نہ ہی پاکستانی سرزمین بھارت کے مفادات کے تحفظ کیلئے استعمال ہونی چاہئے کم ازکم اسوقت تک بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ جب تک بھارت مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔۔۔۔ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، پاکستان کی شہہ رگ پر بھارتی تسلط کو چھڑانے کیلئے کشمیر کے جو مسلمان اپنی جانوں کو قربان کر رہے ہیں۔۔۔ وہ ہمارے محسن ہیں۔۔۔ اور ہمیں اپنے محسنوں کی مخبریاں کرنے کی بجائے ان کی قدر کو پہچاننا چاہئے۔۔۔بھارت پاکستان کا نہ پہلے کبھی خیر خواہ رہا۔۔۔ نہ آئندہ اس سے خیر خواہی کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔۔۔۔ بلکہ اسے جب بھی موقع ملا۔۔۔ یہ پاکستان پر وار کرنے سے باز نہیں آئے گا۔۔۔ اس لئے ہمیں عقل کے ناخن لیتے ہوئے بھارت جیسے دشمن کوخوش کرنے کیلئے اپنے محسنوں کو ناراض نہیں کرنا چاہئے۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor