Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بھارتی وزیرِ دفاع اور مولانا مسعود ازہر (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی) (2)

Qalam Talwar 528 - Naveed Masood Hashmi - bharti wazir difa aur maulana masood azhar

بھارتی وزیرِ دفاع اور مولانا مسعود ازہر

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 528)

بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر بولا بھی تو کفن پھاڑ کر… کہا کہ ’’پاکستان نے ممبئی اور پٹھان کوٹ حملے پر کوئی ایکشن نہیں لیا… صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا’ اب کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے’ دنیا ایک سال میں نتائج دیکھے گی۔‘‘

کوئی منوہر پاریکر سے پوچھے کہ پاکستان کے خلاف انڈیا اب تک جو کرتا چلا آرہا ہے اس سے بڑھ کر اور کر بھی کیا سکتا ہے؟ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را’’ نے بلوچستان سے لے کر کراچی اور وزیرستان تک دہشت گردی کا جو نیٹ ورک بنا رکھا تھا پاک فوج نے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں اسے توڑ ڈالا ہے۔

منوہر پاریکر کے ملک بھارت نے کہاں صبر کیا؟ سوا لاکھ سے زائد کشمیری نوجوانوں کو شہید کرکے تہہ خاک سلا ڈالا گیا … ان عظیم شہداء کی شہادتوں پر صبر تو پاکستان نے کیا’ رہ گئی بات پاکستان کے خلاف کچھ نہ کچھ کرنے کی … تم سے چار بندے تو سنبھالے نہ جاسکے … وہ چار کشمیری مجاہد کہ جو ایک کرنل سمیت تمہارے 11 فوجی مارنے کے بعد کروڑوں کا نقصان کرکے بھی زندہ تمہارے ہاتھ نہ لگے … تم پاکستان کو دھمکیاں مت دو ‘ اپنے ملک کی سکیورٹی کی فکر کرو… پاکستان ایاز امیروں ‘ نجم سیٹھیوں اور امتیاز عالموں کا نام نہیں … بلکہ پاکستان میجر عزیز بھٹی شہید ‘ میجر شبیر شہید اور جنرل راحیل شریف جیسے بہادر سپہ سالار کا نام ہے … تم چند ضمیر فروش سیکولر دانش وروں کو اگر ’’پاکستان’’ سمجھ بیٹھے ہو تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے … کیا تم نے سرینگر کی سڑکوں پر وہ خالص پاکستانی نہیں دیکھے کہ جو چلتی گولیوں اور برستی لاٹھیوں میں بھی پاکستانی پرچم لہرانے سے دریغ نہیں کرتے؟ کیا تم ان مخلص پاکستانیوں کو بھول گئے ہوکہ جو تمہاری فوجیوں کو منہ چڑاتے ہوئے دل دل ‘جان جان’ پاکستان پاکستان کے نعرے لگاتے ہوئے ذرا برابر بھی نہیں ڈرتے؟ اس میں کوئی شک نہیں پاکستان میں بھارتی لابی کافی مضبوط ہے’ بھارتی لابی کم ہونے کے باوجود میڈیا پر چھائی ہوئی ہے …یہی وجہ ہے کہ بھارت جس کے خلاف بھی دہلی میں آواز بلند کرتاہے … بھارتی مفادات کامحافظ مخصوص میڈیا پنجے جھاڑ کر پاکستان میں اس کے پیچھے پڑ جاتا ہے … بغیر کسی ثبوت کے الزامات کی بارش کر دیتا ہے … ابھی تازہ ترین مثال کو ہی دیکھ لیجئے … ممتاز جہادی قائد مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف دہلی نے آواز بلند کی … نہ کوئی مضبوط ثبوت دیا اور نہ ہی شواہد پیش کیے … مگر پاکستانی میڈیا اور این جی اوز میں گھسے ہوئے بھارتی پٹاری کے خرکار مولانا مسعود ازہر کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑگئے۔

کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ آخر وہ یہ جاننے کی کوشش بھی کرے کہ مولانا محمد مسعود ازہر دراصل ہیں کون؟ جھوٹ بولنے کے یہ ماہرین بس ایک ہی راگ الاپتے رہے کہ 1999 ئ￿  میں بھارتی طیارے کے اغوا سے پہلے مولانا محمد مسعود ازہر کو کوئی جانتا تک نہ تھا’ بھارتی پٹاری کے ان خرکاروں کی جہالت کا اندازہ لگائیے کہ جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ مولانا محمد مسعودازہر ایک ‘ دو ‘ تین’ چار یا پانچ نہیں … بلکہ درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں اور ان درجنوں کتابوں کے متعدد ایڈیشنز لاکھوں کی تعداد میں دنیا بھر کے پڑھے لکھے مسلمان بڑے ذوق شوق سے خریدتے ہیں ‘ مولانا محمد مسعود ازہر کی کتابوں کا ترجمہ پشتو ‘ انگلش اور عربی’ تین زبانوں میں ہوتا ہے۔

بھارتی پٹاری کے جاہلوں کا یہ ٹولا ‘ اس بات سے بھی واقف نہیں ہے کہ مولانا محمد مسعود ازہر صرف اردو ہی نہیں بلکہ عربی زبان کے بھی مستند اور مایہ ناز خطیب ہیں …ایسے عظیم خطیب کہ جن کی کانفرنسوں میں ہزاروں نوجواں کئی کئی گھنٹوں تک ان کا خطاب مبہوت ہوکر سنتے ہیں۔

ابھی نہ تو بھارتی طیارہ اغوا ہوا تھا بلکہ مولاناازہر ابھی گرفتار بھی نہ ہوئے تھے یعنی سال1992 ء میں کراچی گلشن اقبال میں انہوں نے بابری مسجد کے موضوع پر جو معرکۃ الآراء خطاب کیا تھا صرف ان کے اس ایک خطاب کی دس لاکھ سے زائد کیٹس دنیا بھر پہنچیں’ بھارتی طیارے کے اغوا کی وساطت سے مولانا محمد مسعود ازہر کی رہائی کا دکھ اس وقت کے بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ کو اتنا نہ تھا جتنا 15 سال بعد کراچی کی ایک ’’را’’ فنڈڈ اور بھتہ خور جماعت کے تربیت یافتہ جبران ناصر اور بھارتی پٹاری کے دیگر خرکاروں کو ہے … مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ دہلی سے مولانا محمد مسعود ازہر پر لگنے والے الزام کے بعد … پاکستانی الیکٹرانک چینلز کے بعض اینکرز اور اینکرنیوں نے مولانا محمد مسعودازہر کے خلاف یکطرفہ پروگرام کرکے پاکستان میں نفرت پھیلانے کی کوشش کی’ وہ شاید یہ بات بھی نہیں جانتے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر حتیٰ کہ ہندوستان کے لاکھوںمسلمان بھی مولانا محمد مسعودازہر سے محبت کرتے ہیں’ یہ کیا تماشا ہے کہ جس کے خلاف بھارت الزام لگا دے گا کیا ہم سب پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے پڑ جائیں گے؟ سیکورٹی اداروں اور مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف سیاپا ڈالنے والے بھارتی پٹاری کے دانش فروش ‘ پاکستان کے چاروں صوبوں ‘ آزاد کشمیر اورشمالی علاقہ جات تک کے تھانوں میں جاکر چھان بین کرکے اس قوم کو بتائیں کہ کیا ان کے خلاف کوئی ایک ایف آئی آر بھی آج تک کٹی ہے؟ کیا انہوں نے پاکستان کے کسی قانون کی کبھی خلاف ورزی کی ہے؟ اگر نہیں یقینا نہیں تو پھر بھارت کے حکم پر مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف یکطرفہ پروپیگنڈا کیا دہلی کی نوکری نہیں ہے؟ بھارتی پٹاری کے خرکار کھاتے تو پاکستان کا ہیں مگر گن انڈیا کے گاتے ہیں’ جبکہ مولانا محمد مسعود ازہر تو وہ ہیں کہ جنہوں نے کشمیر کی آزاد ی کیلئے چھ سال سے زائد عرصہ بھارتی جیلوں میں گزارا اور انڈیا نے ان پر بے پناہ تشدد بھی کیا ‘ مگر وہ ماریں کھا کر بھی قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرکے بھی … نہ اپنی دینی اور اصلاحی سرگرمیوں سے پیچھے ہٹے اور نہ ہی انہوں نے جہاد کشمیر سے غافل ہونا گوارا کیا ‘ بھارتی پٹاری کے ان سیکولر دانش فروشوں کا یہ عجب انصاف ہے کہ جس ایم کیو ایم اور ڈاکٹر عاصم کے خلاف دہشت گردی ‘ بھتہ خوری’ ٹارگٹ کلنگ اور کرپشن میں ملوث ہونے کے رینجرز نے ثبوتوں کے انبار لگا دیئے ان کے نزدیک وہ تو سارے پاک پوتر اور مظلوم ہیں … اور جس مولانا محمد مسعود ازہر کے دامن پر پاکستان میں غیر قانونی یا غیر آئینی سرگرمیوں’ کرپشن یا لوٹ مار کا کوئی ایک داغ بھی نہیں ہے … صرف بھارت کے کہنے پر ان کے خلاف یکطرفہ اور جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے پاکستان کے ماحول کو خراب کیا جارہا ہے کہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ مولانا ازہر پاک انڈیا مذاکرات یا بہتر تعلقات میںرکاوٹ ہیں۔

ان سے کوئی پوچھے کہ 1971 ء میں جب آج کا بھارتی وزیر ارعظم نریندر مودی پاکستان کو دولخت کرکے ایک حصے کو بنگلہ دیش بنانے میں معروف تھا’ تب مولانا محمد مسعود ازہر تو نہ تھے … بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ جب قرار دیا تھا … اس وقت تو مولانا محمد مسعود ازہر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔

بھارت کی پاکستان دشمنی ‘ مسلمانو ں سے نفرت اور تعصب کو جان بوجھ کر پس پشت ڈال کر مولانا محمد مسعود ازہر پر برسنے والے یہ ’’بالشیتئے’’ انڈیا کے مظالم کے مخالف پاکستانیوں پر تو راشن پانی لیکر چڑھ جاتے ہیں ‘ لیکن جب آتا ہے معاملہ بھارتی حکومت یا اس کی خفیہ ایجنسی ’’را’’ کا تو پھر ان کے سامنے انہیں دم ہلاتے ہوئے دیر نہیں لگتی …ہمیں ہر حال میں خالص اورمخلص پاکستانی بننا ہے ‘ پاکستانی کے مفاد کو دیکھنا ہے ‘ پاکستان کے موقف اور پاکستانی قوم کے مفادات کی نگہداشت کرنی ہے ‘ وہ مٹھی بھر لوگ پاک سرزمین پر بوجھ کی طرف ہیں کہ جنہیں پاکستان سے بڑھ کر بھارت کے مفادات عزیز ہیں۔

٭…٭…٭

نوہر پاریکر کے ملک بھارت نے کہاں صبر کیا؟ سوا لاکھ سے زائد کشمیری نوجوانوں کو شہید کرکے تہہ خاک سلا ڈالا گیا … ان عظیم شہداء کی شہادتوں پر صبر تو پاکستان نے کیا’ رہ گئی بات پاکستان کے خلاف کچھ نہ کچھ کرنے کی … تم سے چار بندے تو سنبھالے نہ جاسکے … وہ چار کشمیری مجاہد کہ جو ایک کرنل سمیت تمہارے 11 فوجی مارنے کے بعد کروڑوں کا نقصان کرکے بھی زندہ تمہارے ہاتھ نہ لگے … تم پاکستان کو دھمکیاں مت دو ‘ اپنے ملک کی سکیورٹی کی فکر کرو… پاکستان ایاز امیروں ‘ نجم سیٹھیوں اور امتیاز عالموں کا نام نہیں … بلکہ پاکستان میجر عزیز بھٹی شہید ‘ میجر شبیر شہید اور جنرل راحیل شریف جیسے بہادر سپہ سالار کا نام ہے … تم چند ضمیر فروش سیکولر دانش وروں کو اگر ’’پاکستان’’ سمجھ بیٹھے ہو تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے … کیا تم نے سرینگر کی سڑکوں پر وہ خالص پاکستانی نہیں دیکھے کہ جو چلتی گولیوں اور برستی لاٹھیوں میں بھی پاکستانی پرچم لہرانے سے دریغ نہیں کرتے؟ کیا تم ان مخلص پاکستانیوں کو بھول گئے ہوکہ جو تمہاری فوجیوں کو منہ چڑاتے ہوئے دل دل ‘جان جان’ پاکستان پاکستان کے نعرے لگاتے ہوئے ذرا برابر بھی نہیں ڈرتے؟ اس میں کوئی شک نہیں پاکستان میں بھارتی لابی کافی مضبوط ہے’ بھارتی لابی کم ہونے کے باوجود میڈیا پر چھائی ہوئی ہے …یہی وجہ ہے کہ بھارت جس کے خلاف بھی دہلی میں آواز بلند کرتاہے … بھارتی مفادات کامحافظ مخصوص میڈیا پنجے جھاڑ کر پاکستان میں اس کے پیچھے پڑ جاتا ہے … بغیر کسی ثبوت کے الزامات کی بارش کر دیتا ہے … ابھی تازہ ترین مثال کو ہی دیکھ لیجئے … ممتاز جہادی قائد مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف دہلی نے آواز بلند کی … نہ کوئی مضبوط ثبوت دیا اور نہ ہی شواہد پیش کیے … مگر پاکستانی میڈیا اور این جی اوز میں گھسے ہوئے بھارتی پٹاری کے خرکار مولانا مسعود ازہر کے پیچھے پنجے جھاڑ کر پڑگئے۔
کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ آخر وہ یہ جاننے کی کوشش بھی کرے کہ مولانا محمد مسعود ازہر دراصل ہیں کون؟ جھوٹ بولنے کے یہ ماہرین بس ایک ہی راگ الاپتے رہے کہ 1999 ئ￿  میں بھارتی طیارے کے اغوا سے پہلے مولانا محمد مسعود ازہر کو کوئی جانتا تک نہ تھا’ بھارتی پٹاری کے ان خرکاروں کی جہالت کا اندازہ لگائیے کہ جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ مولانا محمد مسعودازہر ایک ‘ دو ‘ تین’ چار یا پانچ نہیں … بلکہ درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں اور ان درجنوں کتابوں کے متعدد ایڈیشنز لاکھوں کی تعداد میں دنیا بھر کے پڑھے لکھے مسلمان بڑے ذوق شوق سے خریدتے ہیں ‘ مولانا محمد مسعود ازہر کی کتابوں کا ترجمہ پشتو ‘ انگلش اور عربی’ تین زبانوں میں ہوتا ہے۔
بھارتی پٹاری کے جاہلوں کا یہ ٹولا ‘ اس بات سے بھی واقف نہیں ہے کہ مولانا محمد مسعود ازہر صرف اردو ہی نہیں بلکہ عربی زبان کے بھی مستند اور مایہ ناز خطیب ہیں …ایسے عظیم خطیب کہ جن کی کانفرنسوں میں ہزاروں نوجواں کئی کئی گھنٹوں تک ان کا خطاب مبہوت ہوکر سنتے ہیں۔
ابھی نہ تو بھارتی طیارہ اغوا ہوا تھا بلکہ مولاناازہر ابھی گرفتار بھی نہ ہوئے تھے یعنی سال1992 ء میں کراچی گلشن اقبال میں انہوں نے بابری مسجد کے موضوع پر جو معرکۃ الآراء خطاب کیا تھا صرف ان کے اس ایک خطاب کی دس لاکھ سے زائد کیٹس دنیا بھر پہنچیں’ بھارتی طیارے کے اغوا کی وساطت سے مولانا محمد مسعود ازہر کی رہائی کا دکھ اس وقت کے بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ کو اتنا نہ تھا جتنا 15 سال بعد کراچی کی ایک ’’را’’ فنڈڈ اور بھتہ خور جماعت کے تربیت یافتہ جبران ناصر اور بھارتی پٹاری کے دیگر خرکاروں کو ہے … مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ دہلی سے مولانا محمد مسعود ازہر پر لگنے والے الزام کے بعد … پاکستانی الیکٹرانک چینلز کے بعض اینکرز اور اینکرنیوں نے مولانا محمد مسعودازہر کے خلاف یکطرفہ پروگرام کرکے پاکستان میں نفرت پھیلانے کی کوشش کی’ وہ شاید یہ بات بھی نہیں جانتے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر حتیٰ کہ ہندوستان کے لاکھوںمسلمان بھی مولانا محمد مسعودازہر سے محبت کرتے ہیں’ یہ کیا تماشا ہے کہ جس کے خلاف بھارت الزام لگا دے گا کیا ہم سب پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے پڑ جائیں گے؟ سیکورٹی اداروں اور مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف سیاپا ڈالنے والے بھارتی پٹاری کے دانش فروش ‘ پاکستان کے چاروں صوبوں ‘ آزاد کشمیر اورشمالی علاقہ جات تک کے تھانوں میں جاکر چھان بین کرکے اس قوم کو بتائیں کہ کیا ان کے خلاف کوئی ایک ایف آئی آر بھی آج تک کٹی ہے؟ کیا انہوں نے پاکستان کے کسی قانون کی کبھی خلاف ورزی کی ہے؟ اگر نہیں یقینا نہیں تو پھر بھارت کے حکم پر مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف یکطرفہ پروپیگنڈا کیا دہلی کی نوکری نہیں ہے؟ بھارتی پٹاری کے خرکار کھاتے تو پاکستان کا ہیں مگر گن انڈیا کے گاتے ہیں’ جبکہ مولانا محمد مسعود ازہر تو وہ ہیں کہ جنہوں نے کشمیر کی آزاد ی کیلئے چھ سال سے زائد عرصہ بھارتی جیلوں میں گزارا اور انڈیا نے ان پر بے پناہ تشدد بھی کیا ‘ مگر وہ ماریں کھا کر بھی قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرکے بھی … نہ اپنی دینی اور اصلاحی سرگرمیوں سے پیچھے ہٹے اور نہ ہی انہوں نے جہاد کشمیر سے غافل ہونا گوارا کیا ‘ بھارتی پٹاری کے ان سیکولر دانش فروشوں کا یہ عجب انصاف ہے کہ جس ایم کیو ایم اور ڈاکٹر عاصم کے خلاف دہشت گردی ‘ بھتہ خوری’ ٹارگٹ کلنگ اور کرپشن میں ملوث ہونے کے رینجرز نے ثبوتوں کے انبار لگا دیئے ان کے نزدیک وہ تو سارے پاک پوتر اور مظلوم ہیں … اور جس مولانا محمد مسعود ازہر کے دامن پر پاکستان میں غیر قانونی یا غیر آئینی سرگرمیوں’ کرپشن یا لوٹ مار کا کوئی ایک داغ بھی نہیں ہے … صرف بھارت کے کہنے پر ان کے خلاف یکطرفہ اور جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے پاکستان کے ماحول کو خراب کیا جارہا ہے کہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ مولانا ازہر پاک انڈیا مذاکرات یا بہتر تعلقات میںرکاوٹ ہیں۔
ان سے کوئی پوچھے کہ 1971 ء میں جب آج کا بھارتی وزیر ارعظم نریندر مودی پاکستان کو دولخت کرکے ایک حصے کو بنگلہ دیش بنانے میں معروف تھا’ تب مولانا محمد مسعود ازہر تو نہ تھے … بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ جب قرار دیا تھا … اس وقت تو مولانا محمد مسعود ازہر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔
بھارت کی پاکستان دشمنی ‘ مسلمانو ں سے نفرت اور تعصب کو جان بوجھ کر پس پشت ڈال کر مولانا محمد مسعود ازہر پر برسنے والے یہ ’’بالشیتئے’’ انڈیا کے مظالم کے مخالف پاکستانیوں پر تو راشن پانی لیکر چڑھ جاتے ہیں ‘ لیکن جب آتا ہے معاملہ بھارتی حکومت یا اس کی خفیہ ایجنسی ’’را’’ کا تو پھر ان کے سامنے انہیں دم ہلاتے ہوئے دیر نہیں لگتی …ہمیں ہر حال میں خالص اورمخلص پاکستانی بننا ہے ‘ پاکستانی کے مفاد کو دیکھنا ہے ‘ پاکستان کے موقف اور پاکستانی قوم کے مفادات کی نگہداشت کرنی ہے ‘ وہ مٹھی بھر لوگ پاک سرزمین پر بوجھ کی طرف ہیں کہ جنہیں پاکستان سے بڑھ کر بھارت کے مفادات عزیز ہیں۔
٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor