Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مولانا محمد مسعود ازہر اور پرویز مشرف (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 529 - Naveed Masood Hashmi - Maulana Masood Azhar aur Parvez Musharraf

مولانا محمد مسعود ازہر اور پرویز مشرف

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 529)

 

میں اس موضوع پر لکھنا نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔مگر کئی دوستوں نے موبائل کالز اور میسجز کے ذریعے بار بارمجھ سے اس موضوع پر بحث کرنے کامطالبہ کیا۔۔۔ اس لئے باامرمجبوری میں اس موضوع پر قلم اٹھا رہا ہوں۔۔۔

 

میں اس موضوع پر کیوں نہیں لکھنا چاہ رہا تھا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں پرویز مشرف جیسے رسواکن ڈکٹیٹر کو شیخ طریقت مولانا محمد مسعود ازہر کے پاؤں کی خاک کے برابر بھی نہیں سمجھتا، لیکن چونکہ پرویز مشرف نے بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر وہ برسر اقتدار ہوتے تو مسعود ازہر کے ساتھ سختی سے نمٹتے،مولانا مسعود ازہر نان سٹیٹ ایکٹر ہے اور اس نے مجھ پر قاتلانہ حملہ کرایا‘‘۔۔۔

 

پہلی بات تو یہ ہے کہ جو مولانا محمد مسعود ازہر بہاولپور میں بزرگوار محترم اللہ بخش صابر مرحوم کے گھر پیدا ہوئے، اور پھر انہوں نے جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں قرآن وحدیث کے علوم حاصل کرنے کے بعد اسی جامعہ میں استاذ کی حیثیت سے طویل وقت گزارا، جس مولانا محمد مسعود ازہر کے اخلاص، حب الوطنی، دینی حمیت، غیرت اور للہیت کا ایک زمانہ گواہ ہے، جس مولانا محمد مسعود ازہر کی دعوت و تبلیغ کے منفرد اسلوب سے ایک یا دو نہیں بلکہ ہزاروں نوجوان اور بوڑھے، شیطانی راستوں کو ترک کر کے اسلامی حمیت سے مالا مال ہوئے۔۔۔

 

اس مولانا محمد مسعود ازہر کے بارے میں یہ کہنا کہ انہوں نے پرویز مشرف پر کبھی قاتلانہ حملہ کروایاتھا۔۔۔ یہ ایک انتہائی سطحی اور احمقانہ سوچ کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔ پرویز مشرف جب اقتدار میں تھے تب بھی’’پینے پلانے کا شغل فرمایا کرتے تھے‘‘۔۔۔ اس انٹرویو کے بعد عوامی رائے یہی ہے کہ موصوف چونکہ’’ہوش‘‘ میں نہیں تھے اس لئے وہ اس قسم کے لایعنی الزام لگاگئے۔۔۔

 

بعض قارئین اس بات پر شاکی تھے کہ رسواکن ڈکٹیٹر نے شیخ طریقت مولانا محمد مسعود ازہر کے حوالے سے جو لب ولہجہ اختیار کیا وہ جاہلانہ اور بدتمیزی والا تھا، یہ شکوہ سن کرمیری ہنسی چھوٹ گئی اور میں نے شکوہ کرنے والے دوست سے کہا کہ موصوف سے تمہیں اور امید بھی کیا تھی؟

 

بندے کے اندر جو کچھ ہوتا ہے وہ قے کے ذریعے وہی کچھ باہر اگلتا ہے، ورنہ کون نہیں جانتا کہ چاند پر تھوکنے والوں کے اپنے چہرے ہی گندے ہوا کرتے ہیں، یادش بخیر، پرویز مشرف جب اقتدار میں تھے تو انہوں نے جہاد ، اور جہادیوں کا راستہ روکنے کیلئے پوری حکومتی مشینری کووقف کر ڈالا، میری معلومات کے مطابق ان کے سیاہ دور حکومت میں مولانا محمد مسعود ازہر کو بار بار نظر بند کیا گیا، ان کی جماعت جیش محمدﷺ کو کالعدم قرار دیکر امریکہ اور یہود و نصاریٰ کے دباؤ پر دین داروں پر بے شمار پابندیاںعائد کر دی گئیں، مظلوم پاکستانی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو چند ہزار ڈالروں کے بدلے امریکیوں کو بیچ ڈالا گیا، پرویز مشرف نے پانچ سو سے زائد مسلمان ڈالروں کے بدلے امریکہ کے ہاتھ فروخت کئے، روشن خیالی کے یہودی منصوبے کو پروان چڑھانے کیلئے وہ کون سا ظلم ہے کہ جو پاکستانی مذہبی طبقے پر نہ ڈھایا گیا ہو، وہ کون سا ستم ہے کہ جس کا نشانہ مسلمانوں کو نہ بنایا گیا ہو، پرویز مشرف کے منحوس اقتدار کو ختم ہوئے بھی تقریبا9سال بیتنے والے ہیں۔۔۔ مگر یہ پرویز پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ جس کی سزا آج بھی پوری قوم دہشتگردی کی صورت میں بھگت رہی ہے۔۔۔۔

 

حقیقت یہ ہے کہ گرفتاریوں، اور نظربندیوں کے باوجود مولانا محمد مسعودازہر کو دینی و جہادی خدمات سے روکا جا سکا اور نہ ہی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی حمایت سے باز رکھا جا سکا، ملکی سالمیت کے دفاع کے حوالے سے جو روشن کردار مولانا محمد مسعود ازہر نے ادا کیا۔۔۔ کوئی دوسرا اس کی گرد راہ کو بھی نہیں پہنچ سکتا، جو نریندر مودی آج مولانا محمد مسعود ازہر کو گرفتار کرنے کیلئے سیاپا ڈال رہا ہے، کوئی اس عالمی دہشتگرد سے پوچھے کہ کچھ عرصہ قبل جب مولانا محمد مسعود ازہر تمہاری جیلوں میں6سال تک قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے، ہر قسم کا ظلم و تشدد کر کے بھی ان سے پاکستان کی محبت چھین سکے اور نہ ہی انہیں اسلامی جہاد سے پیچھے ہٹا سکے، تم اگر مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق آزادی دے دو، اور ہندوستان کے مسلمانوں پر ظلم و ستم بند کر دو تو پھر تمہیں مولانا ازہر کی گرفتاری کا مطالبہ ہی نہیں کرنا پڑے گا۔۔۔

 

سوال یہ ہے کہ نریندرمودی تو ہندوستان کے ہزاروں مسلمانوں کا قاتل اور1971ء میں پاکستان کے ایک حصے کو کاٹ کر بنگلہ دیش بنانے والا دہشت گرد ہے، وہ اگر مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف بات کرتا ہے تو بات قابل فہم ہے، مگر پرویز مشرف جتنا بڑا بھی سیکولر کیوں نہ ہو، مگر ہے تو پاکستانی، پھر اسے کیا سوجھی کہ عین اس وقت کہ جب پورا انڈیا مولانا ازہر پر چڑھ دوڑا، پرویز مشرف سمیت دیگر سیکولر لادینیت کے’’مینڈک‘‘ مودی کی ہاںمیں ہاں ملا کر مولانا ازہر کے خلاف ٹرٹرانے لگے۔۔ لگتا ہے کہ جہاد دشمنی او راسلام دشمنی کے ایک نکتے نے دونوں اطراف کے سیکولرز کو اکٹھا کر دیا۔۔۔

 

فرمایا کہ میں اگر برسر اقتدارہوتا تو مولانا ازہر کے ساتھ سختی سے نبٹتا، جب آپ اقتدار میں تھے تو تب بھی تو بے انتہا سختیاں کی تھیں۔۔۔ پھر آپ کی ان سختیوںنے ’’جہاد‘‘ کا کیا بگاڑ لیا؟ اور اب آپ اقتدار میں ہوتے ہی کیوں؟کیا آپ نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو’’خالہ جی کا ویڑہ‘‘ سمجھ رکھا ہے کہ جو آپ20سال تک اقتدار میں رہتے۔۔۔۔

 

اور اقتدار میں تو پھر چوہا بھی آجائے تو’’شیر‘‘ بن جاتا ہے، اب آپ کو کیا ہوا؟ کس کا خوف اور ڈر ہے کہ جو جناب عوام میں آنے کا نام نہیں لیتے، ارے بندۂ خدا! اب عوام میں آؤ اور عوام کا سامنا کرو! ہے بھلا اتنی ہمت؟15سال قبل جب مولانا محمد مسعود ازہر انڈیا کی جیل سے رہا ہونے کے بعد افغانستان کے راستے کراچی پہنچے تو بغیر کسی پیشگی تیاری کے صرف اطلاع سن کر کراچی کے لاکھوں عوام جس والہانہ انداز میں ان کے استقبال کیلئے پہنچے تھے وہ مناظر آج بھی دنیا کویاد ہیں،اقتدار کے کوچے سے رسوا ہو کر نکلنے کے بعد موصوف کبھی لندن، کبھی دبئی میں گلچھرے اڑاتے رہے۔۔۔ اور پھر ایک دن اقتدار کی دوبارہ تلاش میں پاکستان آن پہنچے ۔۔۔ موصوف کی دوبارہ آمد پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود۔۔۔ کراچی ایئر پورٹ پر جو لاکھوں عوام پہنچے ان کی تعداد صرف چند سو تک محدود تھی، اور عدالتوںمیں وکلاء برادری کے مجاہدوں نے جس طرح سے جوتا باری کر کے موصوف کا رسواکن استقبال کیا وہ سارے واقعات تاریخ اپنے صفحات میںمحفوظ کر چکی ہے، جس طرح سینکڑوںسال گزرنے کے باوجود محمد بن قاسمؒ، طارق بن زیادؒ، سلطان صلاح الدین ایوبیؒ پر تاریخ آج بھی فخر کرتی ہے، بالکل اسی طرح مولانا محمد مسعود ازہر جیسے لوگ تاریخ کے ماتھے کا ہمیشہ کیلئے جھومر بن جاتے ہیں۔۔۔

 

جس طرح راجہ داہر، میر جعفر اور میر صادق جیسے کردار تاریخ کوڑے دان کی نذر کرتی چلی آرہی ہے، بالکل اسی طرح پرویز مشرف جیسے لوگ کوڑے دان کا حصہ بن جایا کرتے ہیں۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor