Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

’’مدارس‘‘ کا جرم؟ (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 439 - Naveed Masood Hashmi - madaris ka jurm

’’مدارس‘‘ کا جرم؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 439)

 وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نائب صدر مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی صاحب کو ٹیلی فون کیا۔۔۔ اور کہا کہ’’اگر کسی بھی مدرسے کے حوالے سے کوئی شکایت ہوئی تو وفاق المدارس کو اعتماد میں لے کر قانونی تقاضے پورے کئے جائیں گے۔۔۔ انہوں نے مفتی رفیع عثمانی کو بتایا کہ حکومت دینی علوم کی ترویج و اشاعت میں معروف دینی مدارس کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے‘‘

سوال یہ ہے کہ اگر چوہدری نثار علی خان کی یہ بات صحیح ہے تو پھر وفاق المدارس العربیہ کے بوریا نشین اکابر سروں پر کفن باندھ کر مدارس عربیہ کے دفاع کی تحریک کیوں شروع کر چکے ہیں؟

وفاق المدارس العربیہ نے اپنی احتجاجی تحریک کا پہلا جلسہ ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں20مارچ کو کیا۔۔۔ جس میں بلا مبالغہ لاکھوں، علمائ، طلباء اور مذہبی کارکنوں نے شرکت کی۔۔۔ جبکہ ’’عظمت مدارس دینیہ‘‘ کے عنوان سے دوسرا بڑا جلسہ23مارچ کو دارالعلوم کراچی میں منعقد کیا۔۔۔ اس جلسے میں بھی جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سمیت وفاق المدارس کے تمام اکابر نے شرکت کی۔۔۔ ان جید اکابر نے اپنی تقریروں میں حکومت کو متنبہ کیا کہ ’’مدارس کے خلاف اگر کوئی اقدام کیا گیا تو بھرپور انداز میں مدارس کے علمائ،طلباء اور مسلمان مدارس کا دفاع کریں گے۔۔۔ مدارس کے خلاف سازش عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے۔۔۔ آئین کو نہ ماننا جتنا بڑا جرم ہے اتنا ہی بڑا جرم آئین پر عمل نہ کرنا ہے۔۔۔

مدارس اپنے نصاب میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات اور تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔۔۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ مدارس کو چھیڑنے کے بجائے عصری تعلیمی اداروں کی بہتری پر توجہ دے۔۔۔ پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے اصل محافظ مدارس ہیں۔۔۔ نظریہ پاکستان کو محفوظ رکھنے میں مدارس عربیہ کا کردار سب سے اہم ہے۔۔۔ مدارس عمارتوں کا نام نہیں، بلکہ استاذ اور شاگرد کے باہمی تعلق کا نام ہے۔۔۔ جس کو مغربی قوتیں اور انگریز ختم نہیں کر سکا اور نہ ہی آئندہ ختم کر سکیں گے، ملک کی معروف دینی یونیورسٹی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم شیخ الحدیث ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مدارس عربیہ میں وحی کے علوم پڑھائے جاتے ہیں۔۔۔ اور یہی علوم ہماری بقاء کا ذریعہ ہیں۔۔۔ انہوں نے کہا کہ اگر دین نہ ہوتا تو آج پاکستان بھی نہ ہوتا‘‘۔۔۔شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’مدارس کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔۔۔ مدارس کے خلاف اگر کوئی اقدام ہوا تو ہر ممکن اس کا دفاع اور تحفظ کیا جائے گا۔۔۔اور ہم مرتے دم تک اپنی اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ہر قسم کے مخالفانہ پروپیگنڈے کے باوجود مدارس قائم ہیں، اور آئندہ بھی رہیں گے، دنیا کی کوئی طاقت مدارس کو ختم نہیں کر سکتی‘‘۔۔۔

مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’مدارس سے فارغ ہونے والوں میں نہ صرف علمائ، مفسر، آئمہ بلکہ یہاں سے انجینئر اور ڈاکٹر بھی بنتے ہیں‘‘۔۔۔ وفاق المدارس العربیہ کے اکابر اور جید علماء کرام کا مدارس عربیہ کے دفاع کی تحریک شروع کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔۔۔ اور نہ ہی یہ کوئی مذاق کی بات ہے اور نہ ہی محض جذباتی بات۔۔۔ اگر ملک کے جید علماء کرام نے حکومت کو مدارس کے خلاف اقدامات سے باز رہنے کی وارننگ دی ہے۔۔۔ تو اس کے پیچھے ضرور کوئی ایسا پوشیدہ راز ہوگا جو ابھی تک عوام کی نظروں سے یقیناً اوجھل ہے۔۔۔

یاد رہے کہ حکومت کو مدارس کے خلاف سازشوں اور اقدامات سے باز رہنے کا انتباہ کرنے والے وہی جید اور ممتاز علماء کرام ہیں کہ۔۔۔ جنہوں نے قبائلی طالبان اور حکومت دونوں کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے واسطے دیکر یہ اپیل کی تھی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کریں تاکہ ملک میں امن قائم ہو سکے۔۔۔ یہ وہی جید علماء کرام ہیں کہ جن کے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں کروڑوں کی تعداد میں فالورز بھی موجود ہیں۔۔۔ جن کی للٰھیت، اخلاص نیت، دینداری اور پاکستان سے محبت ایک اٹل حقیقت ہے۔۔۔

وفاقی وزیر داخلہ لاکھ یقین دھانیاں کروائیں لیکن کچھ تو ہے کہ جو نہایت باریک انداز میں مدارس عربیہ کے خلاف ہو رہا ہے۔۔۔ مدارس کے خلاف جو سازش بھی ہو رہی ہے۔۔۔ وہ ہے تو ابھی تک کارپٹ کے نیچے۔۔۔ لیکن جلد ہی اس کے اثرات سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔۔۔ اس سازش کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ میڈیا بالخصوص الیکڑانک چینلز کے ذریعے۔۔۔ مسلسل علماء کرام اور دینی مدارس کی کردار کشی کی جارہی ہے۔۔۔ الیکڑانک چینلز پر امریکی پٹاری کے بعض اینکرز اور اینکرنیاں دینی مدارس کے حوالے سے محض افواہوں اور سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر۔۔۔ اپنے ٹاک شوز میں جس طرح کے شکوک و شبہات پھیلاتے ہیں۔۔۔ گھٹیا الزام تراشیاں کرتے ہیں۔۔۔ اور مدارس کے خوبصورت کردار کا جس طرح سے مذاق اڑاتے ہیں۔۔۔ وہ انتہائی قابل افسوس بھی ہے اور قابل غور بھی۔۔۔

وفاقی وزیر داخلہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر کسی بھی مدرسے کے حوالے سے کوئی شکایت موصول ہوئی تو وفاق المدارس کو اعتماد میں لے کر قانونی تقاضے پورے کئے جائیں گے۔۔۔ اس کا واضح مطلب تو یہ ہے کہ حکومت کے پاس کسی بھی مدرسے کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کا ثبوت تو درکنار۔۔۔ شکایت تک بھی نہیں ہے۔۔۔ تو پھر ٹی وی چینلز کے فسادی اینکرز ار اینکرنیوں کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ اپنے سٹوڈیوز میں عدالتیں قائم کر کے حقوق حیوانات کی این جی اوز کے بگڑے ہوئے خواتین و حضرات کے ذریعے مدارس عربیہ کی کرداد کشی کرتے رہیں؟

جب دینی مدارس کے اکابر کھلا چیلنج کر رہے ہیں کہ۔۔ اگر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں ، قومی خزانے کی لوٹ مار، کرپشن، غیر ملکی حکومتوں سے فنڈز یا امداد ملنے میں کوئی ایک بھی مدرسہ ملوث ہو تو۔۔۔ حکومت، سیکولر فاشسٹ، امریکی پٹاری کے دانش فروش، فسادی اینکر یا اینکرنیاں۔۔۔ اس کا ثبوت سامنے لائیں؟

وفاق المدارس کے اکابر نہ صرف یہ کہ اس مدرسے کو بند کر دیں گے۔۔۔ بلکہ اس کے خلاف قانونی کارروائی میں بھی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔۔ اگر یہ سارے ’’بندگان امریکہ‘‘ مل کر بھی کسی ایک مدرسے کے خلاف بھی ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہیں تو پھر’’دینی مدارس‘‘ کے روشن اور سنہرے کردار کے خلاف۔۔۔ ٹی وی سٹوڈیوز میں بیٹھ کر گند اچھالنے والے بیوقوفوں کو کوئی بتائے۔۔۔ کہ اگر تمہاری جڑیں لندن اور واشنگٹن میں ہیں۔۔۔ تو دینی مدارس کی جڑیں۔۔۔ مکہ اور مدینہ میں ہیں۔۔۔ تم اگر آکسفورڈ، ایچی سن اور کمیبرج کے نصاب تعلیم کے محافظ اور وارث ہو تو۔۔۔ دینی مدارس کے علمائ، طلبائ’’وحی کے علوم‘‘ کے وارث ہیں۔۔۔

ان66سالوں میں پاکستانی قوم کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ آکسفورڈ اور کیمبرج سے پڑھ لکھ کر حکومتیں کرنے والے بنے رہے۔۔۔ پاکستان کے قومی خزانے کومدارس والوں نے نہیں۔۔۔بلکہ بیکن ہاؤس، سٹی اسکولوں، آکسفورڈ اور ایچی سن کے اعلیٰ تعلیم یافتگان نے لوٹا، قیام پاکستان کے بعد سے لیکر آج تک چھیاسٹھ برسوں میں حکومتوں کے تخت پر بیٹھنے والے آمر تھے یا سیاست دان ان میں سے کوئی بھی دینی مدارس کا فارغ التحصیل نہیں تھا۔۔۔ بلکہ وہ سب کے سب اعلیٰ انگلش اداروں کے فارغ التحصیل تھے۔۔۔ پاکستان کو نقصان پہنچانے میں سب سے زیادہ کردار بھی انہوں نے ہی ادا کیا۔۔۔

میں یہ بات زور دے کر لکھ رہا ہوں کہ اگر کوئی دینی مدرسہ کرپشن، لوٹ مار یا دہشت گردی میں ملوث ہے۔۔۔ تو اس کے خلاف ہر قیمت پر قانونی کارروائی ہونی چاہئے لیکن محض شک و شبہے اور افواہوں کی بنیاد پر۔۔۔ امریکی ایجنڈے کے تکمیل کی خاطر دینی مدارس کے خلاف کالم لکھنے والے، ٹاک شوزمیں گز گز بھر لمبی زبانیں نکالنے والے سیکولر فاشسٹ اور’’بندگان امریکہ‘‘ کان کھول کر سن لیں کہ اگر پاکستان کے مسلمان صرف وفاق المدارس سے منسلک18ہزار مدارس میں زیر تعلیم تقریباً 22لاکھ طلباء کی کفالت کر سکتے ہیں۔۔۔ تو وہ ان مدارس کے خلاف سازش کرنے والے ’’بل بتوڑوں‘‘ کی سازشوں کے سامنے آہنی دیوار بھی بن سکتے ہیں۔۔۔

آکسفورڈ، ایچی سن اور کمیرج مارکہ مغرب زدہ شتونگڑے یاد رکھیں کہ مدارس عربیہ کے طلباء وطالبات ہوں، علماء ہوں، مفتیان ہوں، شیخ الحدیث ہوں، یا اساتذہ کرام ہوں ان سے کوتاہیاں بھی ہو سکتی ہیں۔۔۔ اور غلطیاں بھی۔۔۔ کیونکہ وہ سب کے سب انسان ہیں۔۔۔ لیکن اہل مدارس پر آج تک نہ کوئی ملک دشمنی کا الزام لگا سکا۔۔۔ اور نہ ہی ان کی حب الوطنی پر کوئی انگلی اٹھا سکا، مدارس کے وابستگان سے جب بھی کوئی قانون شکنی ہوئی تو انہوں نے تھانوں اورعدالتوں کا سامنا کیا، ان چھیاسٹھ سالوں میں جب بھی پاکستان کی سالمیت کا مسئلہ آیا تو مدارس عربیہ کے علمائ، طلباء اور دیگر وابستگان نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے پاکستان کی حفاظت کو یقینی بنایا۔۔۔’’لارڈ میکالے‘‘ کے نظام تعلیم کو پڑھنے والے دودھ پینے والے مجنوں تو بنے۔۔۔ لیکن دودھ پینے کے باوجود انہیں جب بھی موقع ملا تو انہوں نے وطن کی آزادی، خودی، خود مختاری اور سلامتی کا سودا کرنے سے بھی گریز نہ کیا۔۔۔

1971ء میں پاکستان کا ایک بازو کاٹ کر بنگلہ دیش بنانے والوں کا تعلق مدراس عربیہ سے نہیں تھا۔۔۔ بلکہ وہ سارے انگلش نظام تعلیم کے سند یافتگان تھے۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو، یحییٰ خان، جنرل نیازی یاان کے علاوہ دیگر حکمرانوں یا جرنیلوں کا تعلق دینی مدارس سے نہیں۔۔۔ بلکہ انگلش کالجز اور یونیورسٹیوں سے تھا۔۔۔

 بے نظیر بھٹو اور رسوائے زمانہ پرویز مشرف کے درمیان این آر او کے کالے قانون کے ذریعے راتوں رات ہزاروں جرائم معاف کروانے والوں میں۔۔۔ دینی مدارس کا کوئی ایک بھی استاد یا طالب علم شامل نہ تھا۔۔۔ پاکستان کے ہر تھانے، کچہری اور سرکاری دفاتر میں رشوت، چور بازاری اور ظلم و ستم کا دور دورہ ہے۔۔۔ رشوت، چور بازاری اور ظلم و ستم کے اس اتوار بازار میں کسی مدرسے کے مولوی یا طالب علم شامل نہیں ہیں۔۔۔ بلکہ یہ ساری کی ساری لاٹ۔۔۔ کالجز اور یونیورسٹیوں سے نکل کر۔۔۔ تھانوں، کچہریوں اور دیگر سرکاری دفاتر میں پہنچتی ہے۔۔۔

دینی مدارس اور مساجد نے پاکستان کا نہ تو کبھی کچھ بگاڑا اور نہ ہی اجاڑا۔۔۔بلکہ ہر مشکل وقت میں وطن کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا۔۔۔

سوا چودہ سو سال پہلے اصحابؓ صفہ کا مدرسہ ابوجہل اینڈ کمپنی کی آنکھوں میں بہت کھٹکتا تھا۔۔۔ یہ مدارس اور علماء و طلباء انگریز کی آنکھوں میںبھی بہت کھٹکتے رہے۔۔۔ لیکن ابوجہل کے دور سے لیکر فرنگی سامراج کے دور تک مدارس کے علماء و طلباء نے قربانیوں کی لازوال مثالیں قائم کر کے نہ صرف یہ کہ دین کی ترویج اور اشاعت کا فریضہ سرانجام دیا۔۔۔ بلکہ دین کے راستے میں رکاوٹ بننے والی ابلیسی قوتوں کو اپنی قوت ایمانی سے پاش پاش کر ڈالا۔۔۔

اگر آج اہلسنت والجماعت مسلک دیوبند کے تعلیمی بورڈ وفاق المدارس العربیہ سے منسلک مدارس کی تعداد تقریباً اٹھارہ ہزار تک جا پہنچی ہے تو۔۔۔ یہ کسی این آر او یا امریکی ڈالروں کا کمال نہیں۔۔ بلکہ اس کے پیچھے کالے پانی اور مالٹا کے جزیروں میں چمڑیاں ادھڑوا کر قال اﷲ و قال الرسولﷺ کی صدائیں بلند کرنے والے علماء و اتقیاء کا روشن کردار ہے۔۔۔ اگر صرف ڈالروں، پاؤنڈز یا درھم و دنیار سے ہی مدرسے قائم ہوتے تو جتنے ڈالر اور پاؤنڈز، درہم و دینار اور ریال رسوائے زمانہ پرویز مشرف سے سمیٹے اتنے شاید کسی اور کے حصے میں نہ آسکے ہوں۔۔۔ پھر پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، اے این پی یا پرویز مشرف۔۔۔ ’’مدرسے‘‘ کیوں نہ بنا سکے؟’’مدرسہ بڑی بڑی بلند و بالا بلڈنگوں یا خوبصورت عمارتوں کا نام نہیں بلکہ مدرسہ استاذ اور شاگرد کے درمیان اس روحانی تعلق کا نام ہے جو وحی کے علوم کو حاصل کرنے کے دوران ان کے دلوں میں جنم پاتا ہے۔۔۔ سیکولر فاشسٹو! درہم و ریال یا ڈالروں سے تم بلڈنگیں تو تعمیر کر لو گے، اپنے لئے دبئی، لندن، امریکہ، کراچی اور اسلام آباد میں محلات تو تعمیر کر لو گے۔۔۔ لیکن’’دینی مدرسہ‘‘ تم کبھی بھی قائم نہ کر پاؤ گے۔۔۔ اس لئے کہ ڈالروں کی میل نے تمہارے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے، مدارس دینیہ تمہاری آنکھوں میں اس لئے چبھتے ہیں۔۔۔ کیونکہ دینی مدارس میں قال اﷲ و قال الرسولﷺ کی صدائیں گونجتی ہیں۔۔ تم چونکہ یہود ونصاریٰ سے ڈالر لے کر پاکستان میں فحاشی اور عریانی پھیلا رہے ہو۔۔۔ جبکہ دینی مدارس سے غیرت و حیاء کا پیغام پاکستان بھر میں پھیلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔۔۔ تم مخلوط نظام تعلیم کے ذریعے۔۔۔ عورت اور مرد کی تمیز ختم کرنا چاہتے ہو۔۔۔جبکہ دینی مدارس اور مساجد سے پاکستان کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو پردے کے ساتھ زندگی گزرانے کے سبق پڑھائے جاتے ہیں۔۔۔

تمہارے گھروں میں اولادیں جنم لیں۔۔ تو ان کے کانوں میں اذان دیں دینی مدارس والے۔۔۔ تمہارے نکاح پڑھائیں دینی مدارس والے، تمہارے جنازے پڑھائیں دینی مدارس والے۔۔۔ تمہیں حلال و حرام کی تمیز سکھائیں دینی مدارس و مساجد کے علماء اور طلبائ۔؛۔۔لیکن اس سب کے باوجود۔۔۔ گھروں میں بیگمات سے جوتے کھانے والے ’’بن بتوڑے‘‘ جب چاہتے ہیں دینی مدارس اور علماء کرام کے خلاف گز گز لمبی زبانیں نکال کر’’غرانا‘‘ شروع کر دیتے ہیں۔۔۔ یہ ریت کوئی اچھی نہیں ہے۔۔۔ انہیں چاہئے کہ وہ آپ ہی اپنی اداؤں پر غور کریں۔۔۔ ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor