Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

چائنا کا انڈیا کو ویٹو (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 562 - Naveed Masood Hashmi - China ka India ko Vito

چائنا کا انڈیا کو ویٹو

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 562)

مولانا محمد مسعود ازہر کے خلاف سلامتی کونسل میں ایک دفعہ پھر بھارت کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ تفصیلات کے مطابق’’بھارت نے جنوری میں ہونے والے پٹھان کوٹ حملے کا الزام مولانا محمد مسعود ازہر پر عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرار داد جمع کرائی تھی۔۔۔ جس میں انہیں بلیک لسٹ میں شامل کرنے اور دہشت گرد قرار دینے کی درخواست کی تھی۔۔۔ مگر چین نے اس قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ویٹو کر دیا تھا۔۔۔ 3اکتوبر پیر کے دن چین کا ویٹو ختم ہوجاتا توخود کار طریقے کے تحت مولانا محمد مسعود ازہر کو اقوام متحدہ کی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کر لیا جاتا۔۔۔ تاہم چین نے ایک دفعہ پھر پاکستان سے حق دوستی نبھاتے ہوئے بروقت ایکشن لیکر اپنے ’’ویٹو‘‘ میں مزید6ماہ کی توسیع کر دی‘‘

خبر کے مطابق چین کی طرف سے بھارتی قرار داد ویٹو کئے جانے کے بعد بھارت کے ہوش اڑ گئے ہیں اور اس کے ایوانوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے، ویسے تو اڑی سیکٹر میں4نامعلوم شدت پسندوں کے ہاتھوں19بھارتی فوجیوں نے مردار ہو کر پہلے ہی بھارت کے ہوش گم کر ڈالے تھے۔۔۔ اس عسکری کارروائی نے بھارت کے ہوش ایسے گم کئے کہ نریندر مودی، منوہر پاریکر، راج ناتھ سنگھ جیسے کئی بھارتی بے پیندے کے لوٹوں کو یہ سُجھائی ہی نہیں دے رہا کہ وہ آخر جائیں تو جائیں کہاں؟ پاکستان کو دھمکیاں دے دے کر۔۔۔ ان کی زبانیں خشک اور پاکستان کو آنکھیں دکھا دکھا کر اب ان کی آنکھیں باقاعدہ دُکھنے پر آگئی ہیں۔۔۔ مگر پاکستان ہے کہ ڈرنے پر آمادہ ہی نہیں ہے۔۔۔ سرجیکل سٹرائیک، سرجیکل سٹرائیک کے ڈرامے کا ڈھول پیٹ ، پیٹ کرانڈیا کا’’موذی‘‘ نریندر مودی اپنے عوام کو مطمئن کرنا چاہتا تھا۔۔۔مگر گرو گنٹھال کے اس جھوٹ کا پول بھی پاکستان آرمی کے ترجمان نے یہ کہہ کر بیچ چوراہے میں پھوڑ ڈالا۔۔۔ کہ’’ کوئی پاکستان میں5 کلو میٹر داخل ہو کر واپس جا کر دکھائے، سوچ سے بڑھ کر جواب دیںگے‘‘۔۔۔ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے یہ بھی کہا کہ’’کوئی بھول میںنہ رہے،ہر جگہ جواب دینے کیلئے تیار ہیں‘‘۔۔۔ یہاں پر بھی انڈیا کے ’’موذی‘‘ نریندر مودی کی صرف انڈیا میں ہی نہیں۔۔۔ بلکہ پوری دنیا میں رسوائی، جگ ہنسائی اور سُبکی ہور ہی ہے۔۔۔

بھارتی ’’بندر‘‘ اچھل اچھل کر تالیاں پیٹ رہے ہیں۔۔۔ سرجیکل سٹرائیک، سرجیکل ٹرائیک۔۔۔ مگر یہاں زمین پر کچھ بھی نہیں۔۔۔ بلکہ الٹا پاکستانی حکام۔۔۔ بھارت سے کہہ رہے ہیں اتنا’’جھوٹ‘‘ مت بولو کہ’’جھوٹ‘‘ کو بھی شرم آجائے۔۔۔ بے شرمی کے سمندر کے مینڈکو!کیوں جھوٹ بولتے ہو۔۔۔ کاش کہ تم نے جھوٹ بولنے سے پہلے اپنی’’دھوتیوں‘‘ کی طرف ہی دیکھ لیا ہوتا؟

بے حیائی کی دنیا کے غلیظ لوتھڑو! کاش کہ تم نے جھوٹ بولنے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانکا ہوتا۔۔۔ سرجیکل سٹرائیک کوئی’’خالہ جی کاویڑہ‘‘ نہیں ہے۔۔۔ سرجیکل سڑائیک تمہاری’’مادھوری‘‘، ’’ایشوریا‘‘ یا ’’تبو‘‘ کے ناک کی ’’نتھ‘‘ نہیں ہے کہ جس کی قیمت چند ہزار میں ادا ہو سکتی ہے۔۔۔

بلکہ سرجیکل سٹرائیک اور وہ بھی پاکستان کے خلاف، جس دن تم نے کرنے کی کوشش بھی کی۔۔۔ اس دن ہندوستان عظیم غزوہ ہند کے دھماکے اپنی سرزمین پر سنے گا۔۔۔

تم نے سمجھا تھا کہ نجم سیٹھیوں، امیتاز عالم، فرزانہ باری یا عاصمہ جہانگیروں کا نام ہے۔۔اب جب تمہیں جوتے پڑنے والے ہیں تو تم انہیں بھی حسب روایت اپنے ٹرک سے غائب پاؤ گئے۔۔۔ اب تمہیں اندازہ ہو چکا ہوگا کہ پاکستان شہداء کا وارث ملک ہے۔۔۔ پاکستان مجاہدوں اور غازیوں کا ملک ہے۔۔۔ ہمارے آپس میں اختلافات ہیں بھی اور رہیں گے بھی۔۔۔ لیکن بھارت کے ہندوؤں کو سبق سکھانے کیلئے۔۔۔ ملکی دفاع اور سالمیت کی خاطر تم پاکستانی قوم کو یک جان دو قالب پاؤ گے۔۔۔

پاکستان کے چند ہزار بیٹے جہادی میدانوں میں نکلے تو انہوں نے روس کے بعد امریکہ کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔ جس دن مولانا محمد مسعود ازہر کی پکار پر پاکستان کے لاکھوں بیٹے جہادی میدانوں کے شہسوار بن کر تمہاری طرف نکلے تو تمہیں جنم دینے والی مائیں تم پر ہمیشہ کیلئے روئیں گی۔۔۔

نوّے دن ہونے کو ہیں انڈیا کے’’موذی‘‘ نریندر مودی نے کرفیو لگا کر، پیلٹ گن سے گولیاں برساکر۔۔۔ سوا سو سے زائد مسلمانوں کا خون بہا کر کیا کشمیریوں سے آزادی کا نعرہ چھین لیا؟ اس بے شرم، بے حیاء، بے غیرت، لعین، موذی، مودی کو کوئی بتائے کہ گولیوں، اور لاٹھیوں کے زور پر اگر تم کشمیری قوم سے’’آزادی‘‘ کا نعرہ ختم نہیں کروا سکتے تو جس دن بحیثیت قوم یہ سارے ’’جہاد‘‘ کی پٹری پر چڑھ گئے۔۔۔ اس دن تمہیں کوئی مندر اور سمندر پناہ نہیں دے سکے گا۔۔۔

میرا ارادہ کالم کو ہلکے پھلکے انداز میں لکھنے کا تھا۔۔۔ مگر’’قلم‘‘ خود بخود ہی’’تلوار‘‘ بنتا چلا گیا۔۔۔’’تلوار‘‘ کو’’قلم‘‘ بناتے ہوئے میں پاکستانی قوم کو یہ خوشخبری سنانا چاہتا ہوں کہ چلو چھ مہینے کیلئے ہی سہی۔۔۔ مگر فی الحال الشیخ مولانا محمد مسعود ازہران ہندؤوں کی چاہت کے مطابق’’دہشت گرد‘‘قرار دئیے جانے سے بچ گئے۔۔۔

مستقبل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔۔ اس لئے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor