Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جہاد اور دہشت گرد ی کا فرق (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 563 - Naveed Masood Hashmi - Jihad aur Dehshat Gardi ka Faraq

جہاد اور دہشت گرد ی کا فرق

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 563)

’’خدا گنجے کو ناخن نہ دے‘‘ کا محاورہ تو بہت سنا۔۔۔ اور یہ بھی کہ’’سروں گنجی تے گنگھیاں دے، دو جوڑے ‘‘ ۔۔۔ یعنی( سر سے گنجی اور کنگھیوں کے دو جوڑے) ان دونوں محاوروں کی سمجھ مجھے اتوار کے دن ایک’’گنجے‘‘ کا ’’کالم‘‘ پڑھ کر آئی، بھارتی پٹاری کے اس گنجے دانش چور نے جس طرح سے جہاد کشمیر کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔۔۔ اسے پڑھ کر اندازہ ہوا کہ موصوف دہلی کے’’موذی‘‘ کا دیا ہوا راتب حلال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

محاورہ تو’’خدا گنجے کو ناخن نہ دے‘‘ تھا ،کیوں؟ شائد اس لئے کہ گنجا ان ناخنوں سے سب پہلے اپنا گنج ہی زخمی کرتا ہے۔۔۔ جہادی تو مقبوضہ کشمیر میں ہیں۔۔۔تو کیا مقبوضہ کشمیر میں جہادیوں کے خلاف کوئی کارروائی ہونے جارہی ہے؟

کچھ بھاڑے کے ٹٹو۔۔۔ لشکر طیبہ اور جیش محمدﷺ کو پاکستان کیلئے ضرر رساں لکھ رہے ہیں۔۔۔حالانکہ یہ دونوں جہادی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر کی ہیں۔۔۔ یہ کہنا کہ بھارت کو راضی کرنا ہے تو مولانا محمد مسعود ازہر کا کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔ کیونکہ کشمیر میں کچھ بھی ہوتا ہے وہ جیش محمدﷺ کا نام لیتا ہے۔۔۔

یہ بھی لکھا جارہاہے کہ ’’اب جہاد کے دن گنے جا چکے۔۔۔ اب ایسی تنظیموں کے ساتھ ہلکے سے تعلق کی بھی پاکستان کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی‘‘۔۔۔ یہ باتیں لکھنے والا چونکہ’’پینے‘‘ ’’پلانے‘‘ کا عادی ہے۔۔۔ نشہ تیز ہو تو قلم بہک کر’’واہی، تباہی‘‘ اگلنا شروع کر دیتا ہے، ورنہ یہ بات باشعور ہر مسلم جانتا ہے کہ جہاد اللہ کا حکم ہے ، رسول اکرمﷺ کے اسوہ حسنہ کا نام ہے۔۔۔ ’’جہاد‘‘ کے دن گننے والے بھاڑے کے ٹٹو خود دھرتی کا بوجھ بن کر راندۂ درگاہ ہو جائیں گے۔۔۔ تجزیہ نگاری اور کالم نگاری کرتے ہوئے۔۔۔ ہمیں انصاف کا دامن کسی قیمت پر نہیں چھوڑنا چاہئے، جہاد اور دہشت گردی کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا ہر قیمت پر لازمی ہے۔۔۔

’’جہاد‘‘ عبادت خداوندی کانام ہے جب کہ دہشت گردی وہ ہے کہ جو اسرائیل فلسطین میں کر رہا ہے اور امریکہ نے افغانستان اور عراق میں کی، پھر بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں جو کررہی ہے وہ دہشت گردی اور خباثت ہے۔۔۔جہاد جیسی عبادت کو دہشت گردی قرار دینا۔۔۔ بذات خود فکری اور نظریاتی دہشت گردی کے مترادف ہے۔۔۔

دنیا جانتی ہے کہ بھارت میں کبھی کوئی پٹاخہ بھی پھوٹا تو وہاں کے حکمرانوں اور میڈیا نے ہمیشہ آئی ایس آئی کا نام لیا۔۔۔ اب کوئی سیکولر دانش چور اٹھے اور یہ کہنا شروع کر دے کہ اگر بھارت سے تعلقات بہتر کرنے ہیں تو پھر پاکستان کو آئی ایس آئی کا باب بند کرنا پڑے گا۔۔۔ تو ہر عقلمند شخص یہ بات کہنے والے کو صرف جاہل ہی نہیں بلکہ بھارتی دلال قرار دینے میں ایک منٹ بھی نہیں لگائے گا۔۔۔

بھارت کی پاکستان سے دشمنی نہ تو کوئی نئی خبر ہے اور نہ ہی نئی بات۔۔۔ بلکہ پاکستان کی آزادی کے ساتھ ہی بھارت دشمنی ہمیں جہیز میں ملی تھی،1965ء کی جنگ ہو یا1971ء میں مکتی باہنی کے ذریعے پاکستان کا ایک حصہ کاٹ کر اسے بنگلہ دیش بنانا۔۔۔ یہ بھارت کی پاکستان سے دشمنی نہیں تو کیا محبت تھی؟ پاکستان جیسے اسلامی نظریاتی ملک میں کیسے کیسے جاہل دانشوروں کا روپ دھا کر اس ملک اور قوم کاوقت ضائع کر رہے ہیں یہ سوچ کر انسان کو پسینہ آجاتا ہے۔۔۔

کیا1965ء اور1971ء کی پاک بھارت جنگیں بھی مولانا محمد مسعود ازہر کی وجہ سے لڑی گئی تھیں؟ کیا کارگل کی چوٹیوں پر لڑے جانے والا معرکے کی ذمہ داری بھی مولانا محمد مسعود ازہر پر ہی عائد ہوتی ہے؟ کراچی میں گزشتہ 30سالوں سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو فنڈز اورٹریننگ دیکر قاتل، لٹیرے اور ٹارگٹ کلرز بنا رہی تھی۔۔۔ کیا اس کی ذمہ داری بھی مولانا محمد مسعود ازہر پر عائد ہوتی ہے؟

بلوچستان کو پاکستان سے جدا کرنے کا بھارتی منصوبہ۔۔۔ وہاں جاری’’را‘‘ کی دہشت گردی۔۔۔ کیا بھارت یہ سارا کچھ بھی مولانا محمد مسعود ازہر کی وجہ سے کروا رہا ہے۔۔۔

بھارتی پٹاری کے ان دانش چوروں کو شرم کرنی چاہئے، غیرت کو ہاتھ مارنا چاہئے کہ جو بھارتی اور امریکی پروپیگنڈے اور ان کی ہاں میں ہاں ملا کر اپنے ہی پاکستانیوں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔۔۔ بھارت کی پاکستان سے دشمنی69سالوں پر محیط ہے جبکہ بے چارے مولانا ازہر ابھی عمر عزیز کی تقریبا46بہاریں ہی دیکھ پائے ہیں۔۔

46سال کے مولانا ازہر نے کیا اپنی پیدائش سے تقریباً43برس پہلے ہی بھارت کو پاکستان سے ناراض کرنے کی ٹھان لی تھی؟ لگتا ہے کہ بھارتی پٹاری کے دانش چور بھول گئے۔۔۔ورنہ انہیں چاہئے تھا کہ وہ نہرو، راجیو گاندھی اور اندرا گاندھی کے قتل کا الزام بھی مولانا مسعودازہر کے سر تھوپ کر مزید پیسے کھرے کر لیتے۔۔۔ اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔۔۔ ایک اور کالم اسطرح کا بھی سہی!

حق بات کہنے اور لکھنے سے نہ پہلے کبھی ڈرے اور نہ ان شاء اللہ اب ڈریں گے۔۔۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری موت اور ہمارے رزق کا مالک ہمارا اللہ ہے۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor