Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

برطانوی انصاف (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 564 - Naveed Masood Hashmi - Bartanvi Insaaf

برطانوی انصاف

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 564)

خبر پڑھئے اور سر دھنیے۔۔۔۔ میٹرو پولیس اسکاٹ لینڈ یارڈ نے ایم کیوایم کے بانی الطاف حسین سمیت 6افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کیس ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ثبوت ناکافی ہیں۔۔۔ اس لئے مقدمہ بند کیا جارہا ہے، کیس آگے چلے گا،نہ آئندہ کوئی کارروائی ہوگی،2012، اور2014ء کے درمیان ملنے والے پانچ لاکھ پاؤنڈ کی رقم جرائم کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔۔۔ یا اس رقم کو غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کیا جانا تھا؟ پاکستانی قوم کی توقعات کے عین مطابق میٹروپولیس اسکاٹ لینڈ یارڈ نے منی لانڈرنگ کیس میں ’’پیر مغاں‘‘ الطاف حسین کو بری کر کے ثابت کر دیا کہ برطانوی انصاف کی’’خُو‘‘ ابھی تک1947ء؁ سے پہلے والی ہی ہے، وہ بھلا کیسے؟آئیے1947ء؁ سے پہلے والے برطانوی انصاف کی جھلکیاں بھی ملاحظہ فرما لیجئے

ریاست جموں و کشمیر دنیا کا بدقسمت خطہ ہے جسے برطانیہ نے اپنی بدترین کاروباری ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 16مارچ1846ء؁ کو75 لاکھ نانک شاہی روپے کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر کے تاریخ عالم میں’’انسان فروشی‘‘ کا پہلا باقاعدہ سودا کیا تھا، جسے بیع نامہ امرتسر بھی کہا جاتا ہے۔۔۔ برطانوی انصاف پسندوں نے ریاست جموں و کشمیر کے فی آدمی کی قیمت7روپے مقرر کر کے ، ریاست کی کل آبادی پر ڈوگروں کو مالکانہ حقوق دیکر جس’’انصاف پسندی‘‘ کا مظاہرہ کیا تھا اس پرشاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبالؒ کو بھی تڑپ کر کہنا پڑا تھا کہ

دہقاں و کشت و جُو و خیاباں فروختند

قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند

برطانوی فرنگی سامراج کے ’’انصاف‘‘ کا نشانہ دوسری بار بھی کشمیر کے مظلوم عوام ہی بنے، وہ ایسے کہ1947ء میں تقسیم ہند کے وقت فارمولہ یہ تھا کہ اکثریتی مسلم یا ہندو آبادی کے تناسب کی مناسبت سے پاکستان یا ہندوستان میں شامل ہو جائیں۔۔۔ مگر برطانوی انصاف نے جموں وکشمیر کے عوام کو اس حق سے محروم کر کے انہیں بھیڑ بکریاں سمجھ کر آزادی سے محروم کر دیا۔۔۔چنانچہ فرنگی سامراج اور مہاراجہ ہری سنگھ اور بھارت کے درمیان ایک سہہ فریقی سودا ہوا۔۔۔ جس کے نتیجے میں ریاستی عوام سے پوچھے، ان کی مرضی معلوم کئے بغیر27اکتوبر1947ء کو باقاعدہ بھارتی فوج جہازوں کے ذریعے سرنگر پہنچا دی گئی۔۔۔ برطانوی انصاف کا اس سے بڑھ کر بول بالا کیا ہو سکتا ہے کہ کشمیری قوم پہلے ڈوگرہ مہاراجاؤں کے پنجہ استبداد میں جکڑی۔۔۔ سو سال تک ظلم وبربریت اوردرندگی کا نشانہ بنتی رہی۔۔۔ اور27اکتوبر1947 کے بعد سے لیکر15اکتوبر2016ء تک، گزشتہ69سالوں سے بھارتی وحشت ودرندگی کا نشانہ بن رہی ہے۔۔۔ برصغیر کے مسلمانوں کو برطانیہ کا یہ ’’انصاف‘‘ قیامت تک نہیں بھول پائے گا، اب اگر پیر مغاں الطاف حسین منی لانڈرنگ کیس سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ملکہ برطانیہ کا وفادار الطاف حسین بھی اگر برطانیہ میں سزا پا جاتا تو مخبروں اور ایجنٹوں کی دنیا میں بھونچال آجاتا۔۔۔

یہ تو صرف5لاکھ پاؤنڈ تھے جولندن کے بال ٹھاکرے کے گھر سے برآمد ہوئے تھے۔۔۔ اگر ایسے کروڑوں پاؤنڈز بھی الطاف کے لندن والے گھر سے برآمد ہو جاتے تو تب بھی کوئی فرق نہ پڑتا، ٹھیک کہا اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے کہ اس بات کے کوئی ثبوت نہیں ملے کہ الطاف حسین کے گھر سے برآمد ہونیوالے 5لاکھ پاؤنڈز جرائم کے ذریعے حاصل کئے گئے تھے۔۔۔

میٹرو پولیس کو ایک’’شریف‘‘ مسکین اور دیانت دار الطاف حسین کے خلاف مل بھی کیسے سکتے تھے؟ دنیا جانتی ہے کہ الطاف حسین کی کراچی کے ہر ضلعے، ہرٹاؤن میں فیکٹریاں اور کارخانے لگے ہوئے تھے۔۔۔ کراچی کا ہر تھانہ پیرمغاں الطاف حسین کا کارخانہ تھا۔۔۔ رمضان کا چندہ ہویا کھالوں کا چندہ، بھتوں سے آنے والے کروڑوں روپے کی آمدن ہو، یا جوئے کے اڈوں اور شراب خانوں سے موصول ہونے والی دولت۔۔۔ حتیٰ کہ بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ سے ملنے والے فنڈز ہی کیوں نہ ہوں۔۔۔ کیا انہیں جرائم سے حاصل کی جانے والی دولت قرار دینا’’ انصاف‘‘ ہو گا؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں۔۔۔ توبہ کیجئے توبہ، ایسا بھلا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بڑے بھولے بادشاہ ہیں۔۔۔ جو یہ کہتے ہیں کہ’’ہم الطاف حسین کے خلاف تمام کیسزز کی سختی سے پیروی کرتے رہیں گے۔۔۔ الطاف کے خلاف برطانیہ کو بجھوائے گئے ریفرنس کا باضابطہ سرکاری فیصلہ موصول ہو گیا ہے۔۔۔ جو نہ صرف غیر تسلی بخش ہے بلکہ اس پر شدید تشویش بھی ہے‘‘

ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے ہائی کمشنر پرواضح کر دیا ہے کہ ایک شخص کی خاطر دونوں ملک بند گلی میں نہ پھنسیں۔۔۔

چوہدری نثارکوکوئی بتائے کہ جسے وہ ایک’’شخص‘‘ کہہ رہے ہیں۔۔۔ وہی ایک’’شخص‘‘ تو پاکستان کے خلاف بھارت،امریکہ اور برطانیہ کا اصل مہرہ ہے۔۔۔ اس لئے برطانیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو بند گلی میں مت جانے دیجئے۔۔۔ کیونکہ آصف علی زرداری ہو، بلاول زرداری، وزیراعظم نواز شریف ہو، حسین نواز ہو یا حسن نواز، جنرل(ر) پرویز مشرف ہو، یا بعض دیگر سیاست دان اور دانشور ان کا اصل وطن تو’’برطانیہ‘‘ ہی ہے اگر برطانیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بند گلی میں چلے گئے۔۔۔ تو ان سب کا کیا بنے گا؟

بس اتنا کیجئے کہ برطانیہ کے تازہ ترین انصاف پر۔۔۔ تالیاں پیٹئے اور نعرے لگائیے ۔۔ برطانوی انصاف زندہ باد

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor