Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ایرانی حکام کی بار بار دھمکیاں (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 441 - Naveed Masood Hashmi - irani hukkam ki bar bar dhamkiyan

ایرانی حکام کی بار بار دھمکیاں

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 441)

آخر ہمسایہ ملک اِیران پاکستان سے اتنا خفا کیوں ہے کہ اس نے اب پاکستانی سرحدی ایریا میں باقاعدہ بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے… گزشتہ چند دن قبل اخبارات میں چھپنے والی خبروں کے مطابق ایران کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ پر پاکستانی حکام نے ایران سے شدید احتجاج کیا ہے… خبر کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر تفتان محمد قاسم بلوچ اور کرنل اشتیاق نے ایک وفد کے ہمراہ ایرانی حکام سے ملاقات کی‘ ملاقات کے دوران چاغی پاک ایران سرحدی انتظامیہ نے ایرانی حکام کو بتایا کہ ایران کی جانب سے آئے روز بلااشتعال فائرنگ کی جارہی ہے…انہی دنوں ایرانی فائرنگ سے ایک پاکستانی خاتون زخمی بھی ہوئی… ایرانی اہلکار ہر وقت بلاوجہ پاکستان کی جانب فائرنگ کرتے ہیں… جس سے ہمارے سرحدی علاقوں میں آباد لوگوں کو نقصان پہنچ رہا ہے… اور وہ نفسیاتی خوف کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔

 پاکستان کے حکام نے ایران کے بلااشتعال فائرنگ پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ بلاوجہ فائرنگ کی گئی تو ہم جوابی کارروائی سے دریغ نہیں کریں گے۔اخبارات میں چھپنے والی دوسری خبر کے مطابق ’’ایران نے ایک دفعہ پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے پاکستان میں مبینہ طور پر کالعدم جیش العدل کی جانب سے اغوا کئے گئے… محافظوں کی بازیابی کے لئے سرجیکل کارروائی کا منصوبہ بنا لیا ہے‘ اس کے تحت دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ہدف بنا کر انہیں سخت جواب دیا جائے گا… اس بات کا انکشاف پارلیمانی صدارتی بورڈ کے رکن حسین سنجانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

 غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے تہران سے خبر دی ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک دفعہ پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے… سرحدی محافظوں کی جلد بازیابی عمل میں نہ لائی گئی تو وہ پاکستانی سرحدی علاقے میں فوجی آپریشن کے لئے تیار ہیں۔‘‘… ایران اور پاکستان کے بگڑتے تعلقات کے حوالے سے اس سے قبل بھی… خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں۔ لیکن اب تو معاملات جس تیزی کے ساتھ خرابی کی طرف جارہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں… ایرانی وزیر خارجہ سمیت ایران کے دیگر حکام بار بار پاکستان کے بارے میں دھمکی آمیز انداز اختیار کرتے ہیں… ایرانی حکام کے دھمکی آمیز لب و لہجے پر پاکستانی عوام میں بے چینی کی لہر دوڑنا ایک فطری بات ہے… پاکستان کے عوام حیران ہو کر سوال کرتے ہیں کہ کہاں گیس پائپ لائن کے طویل منصوبے … اور کہاں پاکستانی سرحدات کی طرف بلااشتعال فائرنگ… اور پاکستانی علاقوں میں گھس کر سرجیکل کارروائی کے منصوبے ؟ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کے عوام اپنے حکمرانوں سے جاننا چاہتے ہیں کہ یہ کالعدم جیش العدل نامی تنظیم کیا چیز ہے… اس میں پاکستانی شامل ہیں یا ایرانی؟ اور کالعدم تنظیم کیا واقعی اتنی طاقتور ہے کہ ایران میں گھس کر اس کے سرحدی محافظوں کو اغوا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے؟ سیدھی سی بات ہے کہ اگر ایران کا یہ الزام صحیح ہے تو پھر پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر اس تنظیم کے خلاف موثر کاروائی کرکے… ایرانی محافظوں کو آزاد کروائے… یہ تو ہوگئی اصولی بات۔

اب کچھ سوالات ایران سے بھی پوچھنا ضروری ہیں… ایک بردار ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے کیا ایران کے اعلیٰ حکام کو پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کرنا چاہیے؟ ایک ہمسایہ ملک ہوتے ہوئے کیا ایرانی فورسز کو پاکستانی علاقوں پر بلااشتعال فائرنگ کرنی چاہیے؟ ہمارے پاکستان میں تو ایک کہاوت مشہور ہے کہ ہمسایہ ‘ ماں جایا ہوا کرتا ہے… ایران کے سرحدی محافظوں کو اغوا کرنے والے صرف ایران ہی نہیں بلکہ پاکستان کے بھی دشمن ہیں… اگر ایران کے پاس کالعدم جیش العدل کے ٹھکانوں کی کوئی جامع اور مکمل معلومات ہیں تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوراً پاکستانی حکام سے ان معلومات کو شیئر کرے… پاکستانی فورسز ان معلومات کی روشنی میں یقیناًدہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے میں ایک منٹ بھی تاخیر نہیں کریں گی۔

لیکن ایران اگر پاکستانی علاقوں میں اپنی فورسز کو گھسا کر… کسی قسم کی بھی کوئی کارروائی کرنے کی کوشش کرے گا… تو اسے پاکستان کی سلامتی پر حملہ کی کوشش سمجھا جائے گا… اس سے قبل امریکہ نے بھی یہی بیوقوفی کی تھی… دومئی کے دن اسامہ بن لادن شہید کے خلاف آپریشن کرکے امریکہ نے پاکستان کے غلام حکمرانوں کو تو اپنی مٹھی میں رکھنے کی کوشش کی… مگر ’’امریکہ‘‘ پاکستانی عوام کے دل جیتنے میں مکمل ناکام رہا… کوئی سروے کرنے والی این جی او پاکستان کے گلی کوچوں میں گھوم کر امریکہ کے متعلق عوام کی رائے جاننے کی کوشش کرے… تو اسے اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستان کے عوام سب سے زیادہ نفرت ’’امریکہ‘‘ سے کرتے ہیں… پاکستانی علاقوں میں گھس کر ایرانی فورسز کی کوئی کارروائی دونوں ممالک کے تعلقات کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو گی… مقام شکر ہے کہ ایرانی وزیر داخلہ‘ ایرانی وزیر خارجہ اور دیگر ایرانی حکام کی دھمکیوں اور سخت ترین لب و لہجے کا جواب ابھی تک پاکستان نے نہایت نرمی سے دیا ہے… وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ شام کے معاملے میں مکمل غیر جانبدار ہیں… سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں توازن لانا چاہتے ہیں… یعنی پاکستان کی تو کوشش ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان موجود غلط فہمیاں اور دوریاں دور ہوں… جو پاکستان‘ ایران کی سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے… وہ پاکستان کیسے چاہے گا کہ اس کے اپنے تعلقات ایران کے ساتھ بگڑیں؟ ایرانی شہر مشہد میں پاکستانی قونصل خانے کے سامنے گزشتہ روز سینکڑوں ایرانیوں نے پاکستان مخالف مظاہرہ بھی کیا ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ پاکستان اغوا شدہ 5ایرانی محافظوں کو بازیاب کروائے۔

جاننے والے جانتے ہیں کہ نائن الیون کے بعد… افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی آمد کے بعد سے خطے میں عدم استحکام کا سلسلہ جاری ہے… افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سب سے زیادہ متاثر پاکستان ہوا… امریکہ اور بھارت کی وجہ سے پاکستان میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں نے بھی اپنے مضبوط نیٹ ورک قائم کرلئے‘ بدقسمتی کی انتہا تو یہ ہے کہ خود سینکڑوں پاکستانی اغوا ہو کر نجانے کن پہاڑوں‘ غاروں‘ جنگلوں یا صحراؤں میں چھپا دئیے گئے ہیں… کہ پاکستان ان کی رہائی کی کوششوں کے باوجود ابھی تک انہیں بازیاب نہیں کرواسکا۔

ایسے سنگین حالات میں اگر 5 ایرانی محافظ اغوا کرلئے جاتے ہیں تو اپنے محافظوں کی حفاظت کی ذمہ داری ایران پر ہے نہ کہ پاکستان پر… کیا ایران یہ چاہتا ہے کہ ایرانی محافظوں کی حفاظت کا ذمہ بھی پاکستان اٹھالے؟ ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ میرے پاس بہت سی معلومات بھی ہیں اور تلخ حقائق بھی… مگر میں اس کالم کے ذریعے دونوں ممالک کے حکمرانوں سے یہی گزارش کرونگا کہ وہ … آپسی تعلقات کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں… پاکستان تو مخصوص وجوہات کی وجہ سے ویسے ہی ایران کے سامنے بھیگی بلی بنا رہتا ہے … اُسے چاہیے کہ اگر ممکن ہو تو وہ اپنے ہمسائیے سے ’’معافی‘‘ مانگ کر ہی اسے راضی کرلے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor