Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

’’تھر‘‘!بچوں کا قبرستان (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 442 - Naveed Masood Hashmi - thar bachon ka qabristan

’’تھر‘‘!بچوں کا قبرستان

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 442)

تھر ، تھر تھراتا ہوا صحرا۔۔۔ تھر کہ جہاں پہلے ہزاروں جانور بھوک اور پیاس کی وجہ سے مرے اور پھر ’’تھر‘‘ کا صحرا دو سو سے زائد معصوم بچوں کا مدفن بن گیا۔۔۔ جانور مرتے رہے مگر ان کا کوئی پرسان حال نہ ہوا اور پھر ماؤں کی گودیوں میں ایک ایک کرکے معصوم بچے دم توڑتے رہے۔۔۔ ذرا سوچئے! کہ جن ماؤں کی گودیوں میں بھوک، پیاس اور بیماری کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر بچے مرے ہوں گے۔۔۔ ان ’’ماؤں‘‘ کے دلوں پر کیا بیت رہی ہو گی؟

 نامور جہادی شاعرہ ہمیشہ بابری آفریدیؒ نے کیا خوب منظر کشی کی ہے:

تھر کی آغوش میں فاقوں کا نوالہ بن کر

یہ تڑپتے ہوئے بچے نہیں دیکھے جاتے

اے خدا! چھین لے بینائی میری آنکھوں کی

مجھ سے مرتے ہوئے بچے نہیں دیکھے جاتے

’’تھر‘‘ دہلی، ممبئی، لندن اور پیرس میں نہیں بلکہ صوبہ سندھ میں واقع ہے۔۔۔ اور صوبہ سندھ پر شہید اسامہ بن لادن، ملا محمد عمر مجاہدیا مولانا محمد مسعود ازھر کی حکومت نہیں بلکہ۔۔۔ سیکولر پیپلز پارٹی کے ’’قدیمی‘‘ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی حکومت ہے۔۔۔ اور قائم علی شاہ کی سرپرستی ’’ٹویٹ کمانڈر‘‘ بلاول زرداری کر رہے ہیں۔۔۔’’تھر‘‘ میں بچے بدبودار ہسپتالوں کے دروازوں پر دم توڑتے رہے۔۔۔ تھر کے بچے پانی اور دودھ کی ایک ایک بوندکو ترستے ہوئے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتے رہے،تھر کی مائیں اپنے معصوم شہزادوں کو بھوک سے مرتا ہوا دیکھ کر آنسو بہاتی رہیں، اور’’ٹیوٹ کمانڈر‘‘ بلاول زرداری موہنجودوڑو میں’’مردوں کے ٹیلے‘‘ سے مقید عورتوں اور ناچ گانے والیوں کے ساتھ مل کر 5ہزار سالہ پرانی تہذیب تلاش کرتا رہا۔۔۔

سندھ فیسٹیول کے نام پر عیاشی، فحاشی اور بدمعاشی پر اربوں روپے لٹانے والے۔۔۔ اگر وہی پیسے بچا کر۔۔۔ تھر کے غریبوں پر خرچ کر دیتے۔۔۔ تو شاید’‘تھر‘‘ کی مائیں اپنے معصوم بچوں کو بھوک اور پیاس کی وجہ سے سسک سسک کر مرتے ہوئے دیکھنے پر مجبور نہ ہوتیں۔۔۔ ’’تھر‘‘ کے بچے قحط سالی کی وجہ سے بلکتے رہے۔۔۔ اور سندھ کے حکمران بلاول زرداری کے ہمراہ۔۔۔ ناچ گانوں کی محفلوں میں جھومتے رہے۔۔۔ ’’تھر‘‘ کی مائیں اپنے بچوں کی بے گور و کفن لاشوں سے لپٹ لپٹ کر روتی رہیں۔۔۔ اور بلاول ’’سپر مین‘‘ بن کر سندھ فیسیٹول کے نام پر گلچھرے اڑاتے رہے۔۔ آکسفورڈ کے نصاب تعلیم میں نجانے کون سا زہر بھرا ہوا ہوتا ہے کہ جونوجوانوں کو معصوم بچوں کی لاشوں پر بھی ڈسکو ڈانس پر مجبور کرتا ہے؟

کاش! کہ آکسفورڈ والوں نے۔۔۔ بلاول کو کچھ قرآن وسنت کی تعلیم سے بھی روشناس کروایا ہوتا۔۔۔ تو وہ’’موہنجودوڑو‘‘ کی5ہزار سالہ پرانی تہذیب پر لعنت بھیج کر۔۔۔ تھر کے مرتے ہوئے بچوں کو بچانے کی جدوجہد کرتا۔۔۔

ثابت ہوگیا کہ موہجودوڑو کی5ہزار سالہ پرانی تہذیب۔۔۔ اور یورپ کی تہذیب میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔۔۔ موہنجودوڑو کی 5ہزار سالہ پرانی تہذیب اگر کوئی تھی بھی تو اس تہذیب کے ماننے والے بھی بلاول ہی کی طرح کے ہوں گے۔۔۔ کہ جو معصوم بچوں کی لاشوں پر سپر مین بن کر ناچ گانوں کی محفلیں سجاتے ہوں گے۔۔۔

ایک ماہ تک مسلسل موہنجودوڑو اور ٹھٹھہ سے لے کر کراچی تک سندھ فیسٹیول کے نام پر رقض و سرور کی محفلیں برپا رہیں۔۔۔ راگ، رنگ، ڈسکو ڈانس اور موسیقی کی دھما چوکڑی برپا رہی۔۔۔ اور عین انہیں دنوں۔۔۔ تھر کے جانور اور بچے بھوک، پیاس اور بیماریوں سے تڑپ تڑپ کر مرتے رہے۔۔۔ کوئی آکسفورڈ، ایچی سن اور کیمبرج کا پڑھ لکھا بتا سکتا ہے کہ سندھ فیسٹیول کے نام پر مچائی جانے والی دھما چوکڑی کا تھر کے بچوں کو کیا فائدہ حاصل ہوا؟

بچے تو بچے ہوتے ہیں وہ کیا جانیں 5ہزار سالہ پرانی موہنجودوڑو کی تہذیب کو؟ وہ کیا جانیں گلوکارہ عینی اور شازیہ خشک کے ٹھمکوں کو؟ وہ کیا جانیں انڈیا سے آنے والی شبانہ اعظمیٰ کی اداؤں کو؟ مغرب کی شیطنت کو’’مردوں کے ٹیلے‘‘ پر متعارف کروانے والے۔۔۔ لندن اور امریکہ کے نائٹ کلبوں کی نقالی سے سندھ دھرتی پر مست پروگرام کرنے والے۔۔۔ تھر کے ان معصوم بچوں کے مجرم ہیں، مجرم ہیں، مجرم ہیں اوران مجرموں کے ہاتھ دنیا اور آخرت میں رسوائی کے سوا کچھ نہ آئے گا۔۔۔ بلاول کو اﷲتعالیٰ کی مقدس عبادت جہاد اور مجاہدین سے بہت چڑہے۔۔ سندھ حکومت میں بعض ایسے بیوقوف بھی ہیں کہ جنہیں مدارس سے خدا واسطے کا بیر ہے۔۔۔ اور اطلاعات تو یہ ہیں کہ سندھ حکومت نے نئے مدارس قائم کرنے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔۔۔ لیکن ذرادل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ اگر تھر میں مجاہدین کے مراکز ہوتے یا دینی مدارس ہوتے تو کیااسی طرح سے بھوک اور پیاس کی وجہ سے سینکڑوں معصوم بچے کبھی مرتے؟ ہرگز نہیں بلکہ مجھے یقین ہے کہ دینی مدارس کے علماء کہیں سے بھی لاتے مگر ان معصوم بچوں کی کفالت ضرور کرتے۔۔۔

تھر کی کل آبادی دس پندرہ لاکھ پر مشتمل ہے۔۔۔ اور سندھ پر گزشتہ66سالوں سے ’’لبرل اورسیکولر‘‘ ہی حکومت کرتے چلے آرہے ہیں۔۔۔ مگر یہ ان 66سالوں میں تھر کے عوام کو پینے کا پانی فراہم نہیں کر سکے۔۔۔ توکیوں؟

جو سیکولر اور لبرل66سالوں میں تھر کے چند لاکھ لوگوں کو پینے کا صاف پانی اور غذاء فراہم کرنے سے محروم رہے۔۔۔ وہ پاکستان کے 20کروڑ عوام کی کیا خدمت کر پائیں گے؟ انہیں چاہئے کہ وہ موہنجودوڑو سے5ہزار سالہ تہذیب ہی تلاش کریں تو بہتر ہے۔۔۔ ناچ گانوں کی محفلیں ہی ان کے لئے مفید رہیں گی۔۔۔ کیونکہ آکسفورڈ اور کیمبرج کا نصاب تعلیم انہیں یہ ہی کچھ سکھاتا ہے۔۔۔

مذہب اسلام تو سوا چودہ سو سال پہلے آیا تھا اور ہم مسلمانوں کی تہذیب و تمدن بھی اسلام کی آمد کے بعد سے ہی شروع ہوتا ہے۔۔۔ مسلمان اسلامی تہذیب و تمدن کے قائل ہیں اور قائل رہیں گے۔۔۔ مسلمانوں کے خلیفہ ثانی مراد رسولﷺ حضرت سیدنا عمر فاروقؓ فرمایا کرتے تھے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کوئی کتا بھی پیاسا مر گیا تو قیامت کے دن عمر فاروقؓ کو جواب دینا پڑے گا۔۔۔

لیکن خلیفہ اول حضرت صدیق اکبرؓ ، خلیفہ ثانی حضرت سیدنا عمر فاروق، خلیفہ ثالث حضرت سیدنا عثمان غنیؓ اور خلیفہ چہارم حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کو سمجھنے اور ان کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کیلئے۔۔۔ مذہب اسلام کو پڑھنا اور سمجھنا ضروری ہے، جبکہ آکسفورڈ اور کیمبرج کا نظام تعلیم مذہب اسلام کی بغاوت سکھاتا ہے۔۔۔ وہ نظام تعلیم اچھے بھلے مسلمان کو سیکولر اور لبرل بنا کر نہ اُسے گھر کا چھوڑتا ہے۔۔ اورنہ گھاٹ کا، کراچی ہو یا اندرون سندھ وہاں بسنے والے98فیصد عوام مسلمان ہیں۔۔۔ انہیں دین سے محبت ہے۔۔۔ اﷲ اور اس کے رسولﷺ اور صحابہ کرامؓ کے ساتھ بے پناہ محبت ہے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی اور سندھ میں دینی مدارس کا ایک بہت بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔۔۔

لیکن ظلم یہ ہے کہ سندھ کے مسلمانوں پر حکومت کر رہے ہیں آکسفورڈ، ایچی سن اور کیمبرج کے ’’سیکولر‘‘۔۔۔ اور یہ’’سیکولر‘‘ ذہنی طور پر اتنے پسماندہ ہیں کہ اس جدید دور میں بھی موہنجودوڑو کی 5ہزار سالہ پرانی تہذیب کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔۔۔ اب آپ خود ہی اندازہ لگائیے کہ کیا5ہزار سالہ پرانی تہذیب کے ماننے والے کبھی مسلمانوں کے حکمران بننے کے اہل ہو سکتے ہیں؟’’سندھ‘‘ اسلامی نظریاتی مملکت پاکستان کا صوبہ ہے۔۔۔ سندھ کو باب الاسلام بھی کہا جاتا ہے۔۔۔ سندھ میں بہت سی عظیم شخصیات اور کچھ مقدس صحابہؓ کرام بھی مدفون ہیں۔۔۔ کل کوئی اٹھے اور وہ اس بات کا اعلان کر ڈالے کہ وہ ابوجہل اور راجہ داہر کی تہذیب کو مانتا ہے۔۔۔ اور پھر ان بدبختوں کے ادوار کی تہذیب اور رسم و رواج کے مطابق۔۔۔ پروگرام کرنا شروع کر دے۔۔۔ تو کیا سندھ یا پاکستان کے مسلمان۔۔۔ اسے ایسا کرنے کی اجازت دیں گے؟

پیپلز پارٹی کی قیادت کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ پارٹی وفاق کی پارٹی ہے۔۔۔ کیا اتنی بڑی پارٹی میں کچھ ایسے صاحب بصیرت لوگ نہیں ہیں کہ جو موہنجودوڑو سے تہذیب تلاشنے والوں کو بتا سکیں کہ مسلمان تو مکی اور مدنی اسلامی تہذیب کا پابند ہے؟ جو انہیں سمجھا سکیں کہ تھر کے معصوم بچوں کا قاتل۔۔۔ کوئی جہادی لیڈر یا دینی مدرسے کامہتمم نہیں۔۔۔بلکہ آکسفورڈ کے اعلیٰ تعلیم یافتگان اور فرفر انگلش بولنے والے ہیں۔۔۔ تھر کے معصوم بچوں کے قاتل مذہب پسند نہیں بلکہ سیکولر شدت پسند ہیں۔۔۔ تھر کے معصوم بچوں کے قاتل داڑھیوں اور پگڑیوں والے نہیں بلکہ کلین شیو اور پینٹوں والے ہیں۔۔۔ تھر کے معصوم بچوں کے قاتل مدارس والے نہیں بلکہ دینی مدارس پر پابندی لگانے والے ہیں۔۔۔ تھر کے معصوم بچوں کے قاتل وہ ہیں کہ جو چھ سالوں سے سندھ پر حکمرانی کر رہے ہیں۔۔۔ کیا دو سو سے زائد معصوم بچوں کا بھوک، پیاس اور بیماریوں کی وجہ سے مرجانے سے موہنجودوڑو کی5ہزار سالہ پرانی تہذیب زندہ ہو گئی؟

اگر دریائے فرات کے کنارے پیاسا مرنے والے کتے کی موت کے حساب کی فکر سیدنا فاروق اعظمؓ کو تھی۔۔۔ تو پھر’’تھر‘‘ میں سینکڑوں بچوں کی موت سے سندھ کے حکمرانوں کو کیسے بری الذمہ قرار دیا جاسکتا ہے؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor