Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خانؒ اوران کی وصیت (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 578 - Naveed Masood Hashmi - Maulana Salimullah Khan aur unki Wasiyat

حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خانؒ اوران کی وصیت

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 578)

15جنوری اتوار کی شب اتحاد مدارس دینیہ اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ شیخ الحدیث حضرت اقدس مولانا سلیم اللہ خان اس جہاں فانی سے کوچ فرما گئے۔۔۔ حضرت اقدس مولانا سلیم اللہ خانؒ کو دینی علوم کے آسمان کا’’چاند‘‘ قرار دے دیا جائے تو یقینا غلط نہ ہوگا، حضرت اقدس مولانا سلیم اللہ خانؒ25دسمبر1926ء؁ کو ہندوستان کے ضلع مظفر نگر کے مشہور قصبہ حسن پور لوہاری کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔۔۔ آپؒ نے ابتدائی تعلیم حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خلیفہ اجل مولانا مسیح اللہ خانؒ کے مدرسہ مفتاح العلوم میں حاصل کی۔۔۔1942ء؁ میں آپ اعلیٰ دینی تعلیم کے لئے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاںآپؒ نے فقہ،حدیث و تفسیر و دیگر علوم و فنون کی تکمیل کی۔۔۔ اور1947ء؁ میں امتیازی حیثیت کے ساتھ سند فراغت حاصل کی۔

دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد آپ نے نے مولانا مسیح اللہ خانؒ کی زیر نگرانی مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد بھارت میں8سال تک تدریسی و انتظامی امور سر انجام دیئے، پاکستان بننے کے بعد شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خانؒ ، شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کی قائم کردہ دینی درسگاہ دارالعلوم ٹنڈو الہیار (سندھ) میں3سال تک تدریسی خدمات سر انجام دینے کے بعد، پھر دارالعلوم کراچی سے منسلک ہو گئے،جہاں دس برس تک آپؒ حدیث،تفسیر، فقہ، تاریخ، ریاضی،فلسفہ اور عربی ادب وغیرہ کی تدریس میں مشغول رہے۔ بعد ازاں23جنوری1967ء کو آپ نے کراچی شاہ فیصل کالونی میں جامعہ فاروقیہ کی بنیاد رکھی۔۔۔

حضرت اقدس مولانا سلیم اللہ خانؒ نے96برس عمر پائی۔۔۔ اور عمر عزیز کے سارے لیل و نہار قرآن وسنت کی اشاعت میں گزار دیئے۔۔۔ یہ منفرد اعزاز بھی حضرت اقدسؒ کو ہی حاصل ہے۔۔۔ کہ پاکستان بھر کے دینی مدارس کے بیشتر شیوخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خانؒ ہی کے شاگرد ہیں۔۔۔ صرف27دنوں میں قرآن پاک کو حفظ کرنے کا اعزاز بھی اللہ نے آپ کو عطاء فرمارکھا تھا۔۔۔ لاکھوں انسانوں نے آپؒ کے جنازے میں شامل ہو کر۔۔۔ یہ بات ثابت کر دی کہ خلق خدا حضرت اقدس مولانا سلیم اللہ خانؒ سے بے پناہ محبت کرتی ہے۔۔۔

اس خاکسار کی حضرت اقدس مولانا سلیم اللہ خانؒ سے کئی نیاز مندانہ ملاقاتیں ہوئیں، اس کے علاوہ بھی حضرت اقدسؒ کے حوالے بہت سی یادیں موجود ہیں، مگر یہ سب کچھ کسی دوسرے کالم کیلئے اٹھا رکھتے ہیں۔۔۔ پیر کے دن حضرت اقدسؒ کے صاحبزادے مولانا عبیداللہ خالد سے موبائل پر بات ہوئی تو تعزیت کے الفاظ ڈھونڈنا مشکل ہو رہے تھے،اس خاکسار کو عرض کرنا پڑا کہ حضرت اقدس مولانا سلیم اللہ خانؒ تو صرف ہم سب کے ہی نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مشترکہ سرمایہ تھے۔۔۔ ان کی وفات سے ان کے بچے تو یتیم ہوئے ہی۔۔۔ مگر ایسے لگا کہ جیسے ملک بھر کے دینی حلقے بھی یتیم ہوگئے،میں نے ان سے علماء، خطباء، اور ائمہ مساجد کے نام حضرت اقدسؒ کی وصیت کے حوالے سے تصدیق چاہی۔۔۔ تو مولانا عبیداللہ خالد نے بتایا کہ یہ وصیت حضرت اقدسؒ ہی کی ہے چنانچہ آج کے قلم تلوار میں حضرت اقدس مولانا سلیم اللہ خانؒ کی آخری وصیت من و عن پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔

’’السلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

امید ہے مزاج گرامی بعافیت ہوں گے۔ ایک عرصے سے دل میں خیال پختہ ہو رہا تھا کہ آپ حضرات کی خدمت میں اپنے دلی جذبات کا اور عمومی طور پر ہمارے دینی احوال پر اپنی فکر مندی کا اظہار کیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علوم نبوت کا وارث و امین بنایا ہے اور منبر و محراب کے ذریعے دین حق کے بیان اور تبلیغ و اشاعت کے لئے منتخب فرمایا ہے، یہ ایک بہت بڑا اعزاز بھی ہے اور ذمے داری بھی، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے پاس منبر و محراب اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لئے طاقتور ذریعہ ہے اور اس ذریعے سے امت مسلمہ کیلئے دینی خدمات کا فریضہ کافی حد تک انجام دیا جارہا ہے لیکن اگر معاشرے میں پھیلے فساد و بگاڑ کے ساتھ اپنی سعی و کاوش کا موازنہ کیا جائے تو غالباً ہمیں خود پر شرمندگی ہو گی۔

آج کے دور میں معاشرتی بگاڑ جس قدر بڑھ گیا ہے، اس کا احاطہ کرنا شاید ممکن نہ ہو، پہلے یہ بگاڑ اپنے اثرات کے اعتبار سے محدود ہوتا تھا،بعض مخصوص اذہان و افراد یا مخصوص طبقات ہی اس کا شکار ہوتے تھے،مگر اب ایسا نہیں ہے، اس بگاڑ نے ہمارے ان طبقوں کو، افراد و اشخاص کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جو امت کے مقتدا اور پیشوا ہیں۔ اخلاقیات کے باب میں وہ تمام برائیاں جن کا تصور کیا جا سکتا ہے ہمارے معاشرے میں پائی جارہی ہیں۔ منکرات و محرمات کا شیوع بڑھ گیا ہے۔ مسلمانوں کوبے دینی، اخلاقی بے راہ روی اور بدعقیدگی میں مبتلا کرنے کے لئے باطل ہر رنگ و روپ میں اپنی تمام سائنسی ایجادات اور آلات و وسائل کے ساتھ مصروف ہے۔ باطل کے پاس ٹیکنالوجی بھی ہے اور حکومت و قانون کی لاٹھی بھی۔وہ اپنے نصاب تعلیم و تربیت اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے دماغوں کو بدل رہا ہے اور ہمارے معاشرتی نظام میں پوری قوت کے ساتھ شگاف ڈال رہا ہے۔ اگر اپ اس سلسلے میںکچھ جاننا چاہیں تو صرف ایک دن کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ آپ کو اپنی قوم کے اخلاقی دیوالیہ پن اورباطل کی کامیاب محنتوں کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔ ماہنامہ’’وفاق المدارس‘‘ ربیع الاول 1438 ھ کے شمارے میں ہم نے متحدہ امریکا کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے تعاون سے شائع ہونے والی رپورٹ’’پاکستان میں عدم برداشت کی تدریس‘‘ کا جائزہ پیش کیا تھا۔ یہ رپورٹ ہم سب کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔ باطل نے نہایت مسرت کے ساتھ بتایا ہے کہ اس کا پیغام اپنے اثرات سے اس قدر پُر امید ہے کہ اب وہ دیدہ دلیری اور دریدہ دہنی کے ساتھ ہمیں کہہ رہا ہے کہ خاکم بدہن، العیاذ باللہ ہم اسلام کو سچا دین سمجھنا چھوڑدیں۔

اس کے بعد ذرا ہم اپنی ذمہ داریوں اور اپنی مساعی کا جائزہ لیںگے تو معاف فرمائیے گا بہت حوصلہ شکن صورتحال سامنے آئے گی۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ہم میں سے اکثریت، جس کا علوم نبوت پر دسترس کا دعویٰ ہے وہ محض جمعہ کے بے روح بیان پر قانع ہیں یا پانچ وقت کی نماز پڑھا کر خود کواپنے فرائض سے سبکدوش خیال فرماتے ہیں،حالانکہ وارث علوم نبوت ہونے کے ناطے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ امت میںخیر و بھلائی کا حکم کریں اور منکرات کی نکیر کریں۔ موجودہ دور میں پھیلے بے پناہ شر و فساد اور بگاڑ کے سیلاب کے سامنے بند باندھنے کے لئے کسی اور کو نہیں آپ علماء کو ہی آگے بڑھنا ہے، مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کے لئے جس تڑپ، دل سوزی، لگن اور محنت کی ضرورت ہے، وہ مفقود ہے۔ آج کاماحول ہر ہر عالم سے حضرت مجدد الف ثانی، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت مولانا سیدحسین احمدمدنیؒ،حضرت مولانا محمد الیاس دہلوی، حضرت مولانا احمدعلی لاہوری رحمہم اللہ جیسے کردار کا تقاضا کرتا ہے۔

 آپ ما شاء اللہ عالم دین ہیں، آٹھ دس سال لگا کر آپ نے جس مدرسہ یا دارالعلوم میں دینی تعلیم کی تکمیل کی، اس کے بعد تو آپ پر خود بخود بلغو اعنی ولو آیۃ کے مصداق معاشرے کی صلاح و اصلاح کی ذمے داری عائد ہو جاتی ہے۔آپ پر لازم ہو جاتا ہے کہ جس دین کوآپ نے آٹھ دس سال لگا کر پڑھا اور سیکھا وہ نہ صرف آپ کے کردار و عمل اور افکار و خیالات سے جھلکے بلکہ اہلیت و استعداد کے مطابق اپنے گھر، محلے اور مسجدو مدرسہ کے ماحول میں اس کے بیان و تبیان کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔

 اسلام ٹیکنالوجی کے سہاروں کے بجائے براہ راست مخاطب کی باطنی و قلبی اور اخلاقی و روحانی تبدیلیوں کا داعی ہے۔ یوں بھی بسا اوقات ٹیکنالوجی کے ذریعے دین کی تبلیغ و اشاعت کے اثرات نہ صرف محدود ہوتے ہیں بلکہ منفی نتائج بھی دیتے ہیں۔ ہمارے پاس نبی کریم ﷺ کا اسوۂ حسنہ اوردعوت کے باب میں آپﷺ کے مبارک طریقے متوارث چلے آرہے ہیں ، یقین فرمائیے ان طریقوں کو ان کی روح کے مطابق عمل میں لایا جائے تو دیر پا اثرات کے حامل نظر آئیں گے اور وہ حسب ذیل ہیں:٭ منبر و محراب کے ذریعے خطبہ و خطابات٭انفرادی اور شخصی ملاقاتوں کے ذریعے دینی دعوت، دینی تعلیم اور تزکیہ نفس کی کوششیں ٭ مکاتیب(خطوط) کے ذریعے تبلیغ دین کا اہتمام٭ صُفّہ(یعنی مدرسہ) کے ذریعے اجتماعی تعلیم دین

الحمد للہ یہ تمام مسنون طریقے ہماری دسترس میں ہیں، مگر فرق یہ پڑ گیا ہے کہ بوجوہ ہم ان طریقوں کو اپنانے سے گریزاں ہیں۔ ہماری آپ سے درخواست ہے کہ موجودہ معاشرتی بگاڑ کو ہلکا خیال نہ فرمائیں، چاروں جانب باطل نے اپنے فتنہ و فساد کی آگ دھکا رکھی ہے۔ اس آگ کو فروکرنے میں آپ سے جو بن پڑتا ہے کر گزریں۔ یہ موجودہ و آئندہ نسلوں پر آپ کا احسان ہو گا۔ آپ مسجد کے امام ہیں یاخطیب تو خود کو صرف نماز پڑھانے اور جمعہ کا بیان کرنے تک محدود نہ رکھیں، ممکن ہو سکے تو مندرجہ ذیل امور کا اہتمام کرنے کی سعی فرمائیں۔

درس قرآن مجید روزانہ، ورنہ ہفتے میں ایک دن ضرور مقرر کر کے اہل محلہ کیلئے عمومی درس قرآن مجید کا اہتمام فرمائیں، اس سلسلے میں خاص طور پر تیاری بھی کریں۔کتب و تفسیر و حدیث سے رجوع کریں۔ البتہ ایک بات کا خیال رکھیں کہ عمومی درس قرآن میں صرف نحوی ترکیبوں اور خالص علمی اسلوب اختیار نہ کریں بلکہ علیٰ قدر عقو لہم پیرایہ گفتگواختیار کریں۔

درس حدیث:پانچ وقت نمازوں میں سے کسی ایک نمازکے بعد کم از کم پانچ منٹ کا درس حدیث ضرور دیں۔ اس سلسلے میں کتاب الاخلاق، کتاب البر و الصلہ، کتاب الرقاق، کتاب المعاشرۃ والمعاملات، کتاب اشراط الساعۃ کو خاص طورپر مدنظر رکھیں ، حضرت مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کی’’معارف الحدیث‘‘ آپ کی بہترین رفیق ہو سکتی ہے۔

فقہی مسائل کا بیان: کسی ایک نماز کے بعد دعاسے قبل نمازیوں کو روزانہ صرف ایک مسئلہ بتانے کا اہتمام فرمائیں، ایسے روزمرہ پیش آمدہ مسائل جن میں عوام مبتلا ہوتے ہیں مختصر اور عمومی اندازمیں شرعی راہ نمائی کا فریضہ انجام دیں، ’’بشروا ولا تنفرو‘‘کی ہدایت کے ساتھ حکمت ودانائی کو پیش نظر رکھتے ہوئے الفاظ اور جملوں کے انتخابات میں احتیاط برتی جائے۔ فرقوں یا افراد کے ناموں کے ساتھ تنقید کی بجائے صحیح مسائل کو سامنے رکھا جائے۔

اس بات کاضرور خیال رکھیے کہ آپ کی مسجد میں پہلے سے جو تعلیمی، تبلیغی اور خانقاہی سلسلے جاری ہیں وہ بالکل متاثر نہ ہوں، دیگر دینی کاموںمیں رفیق و حلیف تو بنیں فریق ہرگزنہ بنیں۔ اگر کوئی شخص یا جماعت آپ کے کام میں مزاحم ہو تو دل گرفتہ نہ ہوں محبت اور شفقت سے سمجھائیں۔ دعوت دین کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کا اسوہ آپ کے پیش نظر رہے گا، ہمدردی، دل سوزی، دین حق کے بیان کا جذبہ کار فرمارہے گا تو ان شاء اللہ کامیابی ملے گی۔

جمعہ کا بیان بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ جمعہ کے دن لوگوں کی حاضری کو اللہ پاک کی عنایت سمجھئے۔ اس موقع کو سرسری بیان میں ضائع مت کیجئے۔ جمعہ کے بیان کے لئے کوئی موضوع سوچ کر ہفتہ بھر اس کے لئے محنت کیجئے۔ محض فضائل کے بیان پر اکتفانہ کیجئے بلکہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا حق اداکیجئے۔ اسلامی اعتقادات، اسوہ حسنہ رسول، اسلامی اخلاق و معاشرت،صحابہ کرام کے مقام و مرتبہ ،صحابہ کے طرز معاشرت کا بیان عصر حاضر میں پھیلے گمراہ کن جدید فتنوں سے آگاہی، خصوصاً جدیدیت کے طوفان سے امت کو بچانے کی فکر کریں۔ آخری بات یہ کہ آپ اس سلسلے میںاللہ تعالیٰ سے توفیق بھی چاہیں کہ وہ پروردگار آپ کو اس مبارک عمل کیلئے منتخب فرمالیں ،تضرع، زرای، تبتل اوردعا اس راہ کا بہترین توشہ ہے… اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصرہو، اپنی رضا کے مطابق کام لے لیں‘‘۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor