Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

’’اسلام‘‘ نشانہ اور اِیرانی تجویز (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 579 - Naveed Masood Hashmi - nishana aur irani tajweez

’’اسلام‘‘ نشانہ اور اِیرانی تجویز

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 579)

خبر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے7 مسلم ممالک کے شہریوں کو ویزہ اِجراء معطل کر دیا۔۔۔ خبر یہ بھی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز کارروائیاں شروع کر دیں۔’’ٹرمپ‘‘ تو صلیبی دہشت گردوں کو پروان چڑھا رہا ہے۔۔۔ سوال یہ ہے کہ دنیا کے ستاون مسلمان مملکتوں کے حکمران ان امریکی خباثتوں کے خلاف کیا کرر ہے ہیں؟

آخر مسلمانوں کو امریکہ کا ویزہ حاصل کرنے کا شوق ہی کیوں ہے؟ جو مسلمان امریکی ویزے کے حصول کیلئے جوتے، چٹخاتے پھر رہے ہیں وہ دراصل عالم اسلام کے چہرے پر بد نما داغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔۔ وہ دن کب آئے گا کہ جب سعودی عرب میں امریکیوںکے داخلے پر پابندی لگے گی؟ پاکستان میں امریکیوں کو محدود کیا جائے گا؟

امریکہ کے ساتھ مل کر اس کے مخالفین کو مارنے کیلئے سب سے اہم کردار مسلمان ملکوں کے حکمرانوں نے ادا کیا۔۔۔ جب امریکہ بظاہر محفوظ نظر آنے لگا تو وہاں سب سے زیادہ پریشان مسلمانوں کو ہی کیا جانے لگا۔۔۔ ہمارا روز اول سے ہی مؤقف تھا کہ امریکہ دنیا میں پھیلتے ہوئے’’اسلام‘‘ سے خوفزدہ ہے۔۔۔ امریکہ کی جنگ اسلام کے خلاف پہلے ہے، مسلمانوں کے خلاف بعد میں۔۔۔ چنانچہ اس نے مسلمانوں میں گھسی ہوئی سیکولر ذہنیت کو اپنے ساتھ ملا کر پہلے راسخ العقیدہ مسلمانوں کو بارود اور طاقت کے بل بوتے پر ختم کرنے کی کوشش کی۔۔۔ ’’القاعدہ‘‘ کا ھوا کھڑا کر کے مسلمان ممالک پر خونریز جنگیں مسلط کیں۔۔۔ اور اب امریکہ میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا شروع کر دیا۔

ورنہ امریکی پٹاری کا کوئی دانش چور بتا سکتا ہے کہ امریکہ میں اقلیت کی حیثیت سے رہنے والے مسلمانوں نے امریکیوں کا کیا بگاڑا ہے؟ ٹرمپ کے حامی بدمعاش جن مسلمان عورتوں کے چہروں سے زبردستی نقاب نوچتے ہیں کیا ان مسلمان عورتوں کا تعلق القاعدہ سے ہوتا ہے؟ واشنگٹن، نیویارک، نیو جرسی یا امریکہ کی جن دیگر ریاستوں میں امریکی صلیبی جن مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں کیا ان مسلمانوں کا تعلق القاعدہ یا طالبان سے ہے؟

امریکی ایئر پورٹس پر جن مسلمان مسافروں سے توہین آمیز سلوک روا رکھا جارہا ہے کیا ان کا تعلق القاعدہ یا داعش سے ہے؟ ہرگز نہیں۔۔۔ بلکہ وہ بھی امریکہ ہی کے شہری ہیں۔۔۔ امریکہ کو مضبوط بنانے میں ان کے کردار سے بھی انکار ممکن نہیںہے۔۔۔ جب ان کا تعلق نہ القاعدہ سے ہے، نہ طالبان اور نہ داعش سے تو پھر صلیبی امریکی وہاں کی مسلمان عورتوں، مردوں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ کیوں بنا رہے ہیں؟

جواب بڑا واضح ہے، یہ بات امریکی بھی جانتے ہیں کہ ان مسلمانوں کا تعلق نہ القاعدہ سے ہے نہ طالبان یا داعش سے ہے۔۔۔ ہاں البتہ ان کا تعلق مذہب اسلام سے ضرور ہے۔۔۔ اور ڈونلڈ ٹرمپ کا نشانہ دراصل’’اسلام‘‘ ہی ہے۔۔۔ زیادہ طویل عرصہ نہیں گزرا جب ہم جیسے گناہ گار انہیں صفحات پر لکھا کرتے تھے کہ امریکہ اسامہ بن لادن ؒ کا بہانہ بنا کر دراصل ملا محمد عمر مجاہدؒ کی اسلامی حکومت پر حملہ آور ہے۔۔۔ افغانستان کے28صوبوں میں نافذ اسلامی نظام کی وجہ سے امریکی نیو ورلڈ آرڈر لرزہ براندام ہے۔

اور امریکہ کسی صورت میں دنیا کے کسی خطے میں بھی نفاذ اسلام برداشت کر ہی نہیں سکتا۔۔۔ ہم گناہ گاروں کی اس وقت تو یہ بات تسلیم نہ کی گئی۔۔۔ مگر وقت اور حالات نے ثابت کر دیا کہ16سال قبل امریکی صدربش نے جس صلیبی جنگ کا آغاز کیا تھا۔۔ وہ’’جنگ‘‘ کسی گروہ، جماعت یا تنظیم کے خلاف نہیں بلکہ اسلام کے خلاف تھی۔۔۔ اور وہ جنگ آج بھی شروع ہے، صلیبی،یہودی ذہنیت اس حد تک متعفن اور بدبودار ہو چکی ہے کہ اب امریکی سرزمین پر بسنے والے انہیں وہ مسلمان بھی برداشت نہیں کہ جو انہیں کی زبان یعنی انگلش بولتے ہیں۔۔۔ اور انگلش مزاج کے مطابق ہی زندگی گزارتے ہیں۔۔۔ ان حالات میں مسلمانوں کی کامیابی کا راز امریکی ویزوں کیلئے جوتے چٹخانے میں نہیں۔۔۔ بلکہ مذہب اسلام پر سختی سے عمل پیرا ہونے میں مضمر میں ہے۔

امریکہ کے حکمرانون کی دہشت گردی، شدت پسندی اور ظلم و ستم کا مقابلہ کس طرح سے کیا جائے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کیلئے ہمیں اسوۂ رسولﷺ کا گہرائی سے مطالعہ کرنا پڑے گا۔۔۔ اگر مسلمان قرآن وسنت کو معیار بنا کر امریکہ اور دیگر طاغوتی طاقتوں سے مقابلے کیلئے میدان میں اتریںگے۔۔۔ تو کوئی وجہ نہیں کہ نصرت خداوندی ان کے شانہ بشانہ نہ ہو۔

٭…٭…٭

اب آتے ہیں دوسرے موضوع کی جانب۔۔۔ ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی وخارجہ پالیسی کمیشن کے چیئرمین علاؤ الدین بروجردی نے اپنے حالیہ دور پاکستان کے اختتام پر اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایک نئے چار ملکی اتحادی کی تجویز دی ہے۔۔۔ ان کے مطابق، چین، پاکستان، روس اور ایران پر مشتمل اتحاد خطے کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

’’اتحاد‘‘ تو جتنے بھی ممالک کے درمیان ہوجائے ایک اچھی اور مثبت بات ہے۔۔۔ جب سے پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ شروع ہوا ہے۔۔۔ تب سے خطے کے دیگر ممالک کی رال ٹپکنے لگی ہے، لیکن چار ملکی اتحاد کی اس ایرانی تجویز پر عمل درآمد سے پہلے یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہئے کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے39اسلامی ملکوں کے اتحاد کا پاکستان باقاعدہ حصہ بنا ہوا ہے۔۔۔ اور مسلمان ممالک کے اس بڑے ’’اتحاد‘‘ کی ایران بڑھ چڑھ کر مخالفت کر رہا ہے۔۔۔ یہاں تک کہ ایرانی لابی39مسلمان ممالک کے اس عالمی اتحاد کو ’’سنی‘‘ اتحاد قرار دے رہی ہے۔

 سوال یہ ہے کہ ایرانی پارلیمانی کمیشن کے چیئرمین نے چار ملکی اتحاد کی تجویز پیش کرنے سے پہلے اس بات پر غور کیا کہ۔۔۔ تہران کے سب سے عزیز دوست ’’بھارت‘‘ کا اس حوالے سے کیا ردعمل ہو گا؟ بھارت پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ملک ہے۔۔۔ تہران اور دہلی کی گہری دوستی۔۔۔ کسی چار ملکی نئے اتحاد کی کیسے متحمل ہو سکتی ہے؟

دنیا جانتی ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے39اسلامی ممالک کے اتحاد میں پاکستان کی شمولیت۔۔۔ ایران اور اس کے حامیوں کو قطعاً برداشت نہیں ہے۔۔۔ کہیں چار ملکی نئے اتحاد کی تجویز۔۔۔ پاکستان اور سعودی عرب میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کیلئے تو نہیں ہے؟ جب کہ مسلمان دنیا اس بات سے بھی واقف ہے کہ شام کے شہر’’حلب‘‘ میں ایران اور روس نے مل کر ہزارہا مسلمانوں کا قتل عام کیا۔۔۔ حلب میں مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہانے والے ایران اور روس کے ساتھ پاکستان کا اتحاد کہیں کسی نئی پریشانی کا سبب ہی نہ بن جائے؟ اس لئے ملکی سلامتی کے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ۔۔۔ وہ پاکستان کو کسی بھی نئے اتحاد کا حصہ بنانے سے پہلے اس کے وسیع نقصانات اور محدود فوائد پر بھی غور کرلیں۔۔۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor