Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

’’حیدر آباد یکجہتی کشمیر ریلی سے کراچی آزادیٔ کشمیر کانفرنس تک (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 580 - Naveed Masood Hashmi - nishana aur irani tajweez

حیدر آباد یکجہتی کشمیر ریلی سے کراچی آزادیٔ کشمیر کانفرنس تک

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 580)

حیدر آباد کی سڑکیں اور بازار’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘۔۔۔ اور ’’کشمیریوں سے رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ‘‘ کے نعروں سے گونج رہے تھے۔۔۔ ہالاناکہ سے شروع ہونے والی یکجہتی کشمیر ریلی کہ جس میں ہزاروں افراد شریک تھے مختلف شاہراوں سے ہوتی ہوئی حیدر آباد پریس کلب سے متصل چوک پر پہنچ کر جلسے کی صورت اختیار کر گئی۔۔۔ ریلی میں سندھی، پنجابی، مہاجر اور پٹھان سب ہی شامل تھے۔۔۔ وہ کشمیر کی آزادی کیلئے اپنی جان اور مال ہر قسم کی قربانی دینے کا عزم دُہرا رہے تھے۔۔۔

اس خاکسار نے یکجہتی کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عرض کیا کہ۔۔۔’’اسلام آباد کے حکمرانوں کی زبانوں پر تو یکجہتی کشمیر کے نعرے ہیں۔۔۔ لیکن ان کے دلوں میں کیا ہے؟ یہ کوئی نہیں جانتا، کشمیر ہندوؤں کی ’’مذمت‘‘ نہیں بلکہ مرمت سے آزاد ہو گا، بھارتی فوج کے درندے کشمیری مسلمانوں پر قیامت خیز مظالم ڈھا رہے ہیں اور ’’شریف‘‘ حکومت پاکستانی قوم کو بھارتی فلموں کی نمائش کا تحفہ دے رہی ہے۔

کشمیر کے بوڑھے،بچے اور جوان موت اور زندگی برابر کر چکے ہیں، ان کے دلوں سے بھارتی فوج کا خوف اور رُعب نکل چکا ہے، موت ہروقت کشمیر میں بسنے والے ہر انسان کے سر پر منڈلاتی رہتی ہے۔۔۔ لیکن اس سب کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھارتی تسلط سے آزادی چاہتے ہیں۔

بھارتی فوج کی سنگینیں، ہتھکڑیاں اور بیڑیاں کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو حق آزادی کے مطالبے سے نہیں روک سکتیں۔۔۔ کشمیری خواتین پر بھارتی فوج کے مظالم کی داستانیں بھی نہایت خوفناک ہیں، لیکن تمام تر مظالم کے باوجود کشمیر کی مائیں، بہنیں،بیٹیاں بھارتی غلامی سے آزادی کے سوا کچھ نہیں چاہتیں۔

بھارت کی آٹھ لاکھ دجالی فوج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے والے کشمیر کے نہتے مسلمان بھارت سے حق خود ارادیت چاہتے ہیں اگر بھارت اپنی ہٹ دھرمی اور دہشت گردی سے باز نہ آیا۔۔۔ تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں کشمیر میں جاری جنگ پورے خطے کو ہی اپنی لپیٹ میں نہ لے لے، ریلی سے مولانا عطاء اللہ کاشف کے علاوہ الرحمت ٹرسٹ سندھ کے قائدین محمد زبیر فاروقی اور قاری عبدالرحمن نے بھی خطابات کئے۔

حیدر آباد یکجہتی کشمیر ریلی کے اختتام کے فوراً بعد۔۔۔شام5بجے ہم ایک دفعہ پھر شہر کراچی کی طرف عازم سفر ہوئے۔۔۔اور75کلومیٹر تک بننے والی موٹروے پر سفر کرنے کے باوجود تین گھنٹے میں کراچی سٹی میں چورنگی کی مین شاہراہ پر منعقدہ عظیم الشان ’’آزادی کشمیر‘‘ کانفرنس میں پہنچ سکے۔۔۔اس کانفرنس کا اہتمام ورثائِ شہداء جموں و کشمیر کی طرف سے کیا گیا تھا۔۔۔ یعنی کہ کراچی کے جو سینکڑوں نوجوان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندوں سے مقابلے میں شہید ہوئے تھے، کانفرنس کے انتظامات ان شہداء کرام کے ورثاء کے ہاتھوں میں تھے۔۔۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق آزادی کشمیر کانفرنس میں تقریبا بیس ہزار کے لگ بھگ افراد شریک تھے۔۔۔ کانفرنس میں جہادی ترانے پڑھے جا رہے تھے، عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا، رات تقریباً سوا نو بجے اس خاکسار کو اسٹیج سیکرٹری نے خطاب کی دعوت دی، خطبہ مسنونہ کے بعد اس خاکسار نے اپنی تقریرمیں عرض کیا کہ بھارت کے ظالم حکمران نہ سڑکوں کے احتجاج کو مانتے ہیں، اور نہ جلوسوں اور ہڑتالوں کو، گزشتہ ستر برسوں کی کہانی تو چھوڑیئے، صرف 8جولائی2016ء سے لیکر فروری 2017ء تک بھارتی فوج سینکڑوں کشمیری مسلمانوں کو شہید کر چکی ہے۔

’’انشائ‘‘ جیسی سینکڑوں بیٹیاں اب چلتی پھرتی لاشیں بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، بھارتی درندوں نے مقبوضہ کشمیر کو انسانی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے، وہاں نہ کسی کی عزت محفوظ ہے، نہ کسی کا کاروبارمحفوظ ہے اور نہ کسی کی جان محفوظ ہے، بھارت نہ تو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو مانتا ہے اورنہ ہی انسانی، اخلاقی تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے تیار ہے۔

ان حالات میں پاکستان کے حکمرانوں کی شرعی، اخلاقی اور اصولی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ پاکستان کی شہہ رگ کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کروانے کیلئے بھرپور جدوجہد کرتے، لیکن بدقسمی سے ایسا بھی نہ ہو سکا۔۔۔عملاً صورتحال یہ ہے کہ دنیا میں موجود پاکستانی سفارت کاروں میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ جنہیں خود بھی سرے سے معلوم ہی نہیں ہے کہ اصل میں مسئلہ کشمیر ہے کیا؟

آزادکشمیر کہ جس کو کشمیر کی جدوجہد آزادی کا بیس کیمپ ہونا چاہئے تھے، وہاں بھی سیاسی انتشار کا اتوار بازارسجا ہوا ہے، ایسا لگتا ہے کہ جیسے شریف حکومت نریندر مودی جیسے بدنام زمانہ قاتل سے ذہنی طورپر مرعوب ہے، اگر بیرون دنیا میں قائم پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر کے حوالے سے ایک خصوصی سیل قائم ہوتا۔۔۔اور پاکستانی حکومت سفارت کاری کے ذریعے مظلوم کشمیری قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم کو عالمی سطح پر بھرپور انداز میں آشکارہ کرتی تو ممکن ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر کشمیر کے حوالے۔۔۔ تنہائی کا شکار نہ ہونا پڑتا، کشمیر کی آزادی کیلئے ضروری ہے کہ اسلام آباد میں ایک ایسی حکومت قائم ہو کہ جو کشمیر کے حوالے سے مکمل کمیٹڈ اور مسئلہ کشمیر کی تمام نزاکتوں سے بخوبی واقف ہو، غزوہ ہند کی خوشخبری ساڑھے چودہ سو سال پہلے حضرت محمد کریمﷺ نے سنائی تھی۔۔۔ ہمارے حکمران اور سیاست دان آپس کی لڑائیوں کو تو جہاد سمجھتے ہیں۔۔۔ لیکن اصل جہاد ’’ہند‘‘ میں شریک ہونا تو درکنار الٹا اس جہاد میں شریک ہونے والوں پر زمین تنگ کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔

حالانکہ’’جہاد و قتال‘‘ اللہ کا حکم اور نبی کریمﷺ کا اسوۂ حسنہ ہے، ’’جہاد‘‘ اپنوں اور پرائیوں سب کیلئے رحمت ہی رحمت ہے، امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازہر کے جانباز ساتھیوں نے5فروری کے دن صرف حیدر آباد کراچی ہی نہیں بلکہ بہاولپور سے لیکر راولپنڈی، پشاور اور کوہاٹ تک انتہائی پرامن اور منظم انداز میں سڑکوں پر نکل کر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کشمیر کی مکمل آزادی تک کشمیر کے جہاد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔۔۔ آزادی کشمیر کانفرنس کے ہزاروں شرکاء وقفے وقفے کے ساتھ انتہائی والہانہ انداز میں سبیلنا، سبیلنا… الجہاد، الجہاد۔۔۔ کے فلک شگاف نعرے بلند کر رہے تھے، کراچی کے نوجوانوں کی پیشانیوں سے جہادی نور چھلکتا دیکھ کر دل مطمئن و مسرور ہوا کہ’’دانش چوروں‘‘ کا جہاد کے خلاف واویلا۔۔۔ قلم فروشوں کا جھوٹا پروپیگنڈا، اینکرنیوں اور اینکرز کا جہاد مقدس کے خلاف شور شرابا سب ناکام ہوگیا، یہ سارے مل کر بھی کشمیر کی آزادی کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے والے جانبازوں کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے، ’’ان شاء اللہ ‘‘

سخی حسن چورنگی کے مرکزی روڈ پر تاحد نگاہ انسانی سر ہی سر نظر آرہے تھے، اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سارے انسان کھڑے ہو کر۔۔۔ تین منٹ تک سبلینا سبیلنا الجہاد الجہاد، کے نعرے بلند کرتے رہے۔۔۔ انہیں جذباتی نعروں کی گونج میں متحدہ جہاد کونسل کے مرکزی رہنما اورمولانا محمد مسعودازہر کے برادر صغیر مفتی عبدالرؤف اصغر خطاب کیلئے مائیک پر تشریف لائے۔۔۔ اور انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں جہاد کی ضرورت و اہمیت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ جہاد کے خلاف جاری’’فتنوں‘‘ کا بھی بڑے دلچسپ انداز میں پوسٹ مارٹم کیا۔۔۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری قوم نے آزادی کے حصول کیلئے قربانیوں کی جو عظیم تاریخ مرتب کی ہے۔۔۔ وہ اپنی مثال آپ ہے، اور ان شاء اللہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی قربانیاںرائیگاں نہیں جائیں گی اور کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہو کر رہے گا، انہوں نے مجاہدین کو سوکنوں والے طعنے دینے والے جاہلوں کے گروہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بصیرت کے اندھوں کو جہاد کے ثمرات نظر آہی نہیں سکتے، کانفرنس سے مولانا محمد مجاہد عباس، مولانا محمد عمار اور مولانا عطاء اللہ کاشف نے بھی خطاب کیا۔

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor