Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

’’مسلمانو او مسلمانو! تم کہاں ہو؟ (قلم تلوار۔نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 581 - Naveed Masood Hashmi - nishana aur irani tajweez

مسلمانو او مسلمانو! تم کہاں ہو؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 581)

اللہ تعالیٰ کی مہربانی جب کسی کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو اسے ایک لمحے میں زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا جاتا ہے۔

اسلام ایسا دین ہے جس میں ایسے اعمال بہت کثرت سے رکھے گئے ہیں جو بندے کو بہت جلد بلندیوں اور ترقیوں تک پہنچا دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ امتوں کی لمبی لمبی عمروں کے مقابلے میں اس امت کی کم عمر کے باوجود اس کا مقام ومرتبہ سب سے بلند رکھا گیا۔

ایسے اعمال میں ایمان کے بعد جہاد فی سبیل اللہ کا خاص درجہ ہے جو انسان کو بہت جلد ایمانی بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔

اسلامی تاریخ کا یہ واقعہ اس بارے میں نہایت چشم کشا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے شخص کا ہے جو بکریوں کا چرواہااور حبشی نسل سے تعلق رکھتا تھا۔جسے اُس معاشرے میں نہایت حقیر نظروں سے دیکھا جاتا تھا اور ان کا وجود محض لوگوں نے اپنی خدمت گاری کے لیے رکھا ہوا تھا۔ اُس خطے کے غلاموں کی طرح اِس کا بھی رنگ سیاہ تھا۔روزانہ سخت محنت ومشقت کی وجہ سے اسکا پسینہ بے تحاشا بہتا تھا اور وہ گویا صبح و شام اسی حال میں رہتا تھا۔وہ سارا دن یہودیوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔اپنی زندگی میں مگن بکریاں چرانے کے علاوہ اسے دنیا کی کسی اور چیز سے غرض نہیں تھی او رشاید وہ کسی اور چیز سے آشنا بھی نہیں تھا۔ اس کی زندگی بس غلامی اور بکریاں چرانے میں کھو چکی تھی۔

پھر اس کی قسمت بدلنے کا وقت آیا۔ تاریخ نے ایک نیا موڑلے لیا تھا۔

ایک دن بیٹھا ہواتھا یہودی جنگی تیاریوں کے بارے میں باتیں کرتے ہوے اس کے پاس سے گزرتے ہے۔اچانک اس کے دل میں احساس پیدا ہوتا ہے پتہ تو کروں کہ وہ کونسی طاقت ہے جوہمارے سردار یہودیوں کے مقابلے پرآرہی ہے؟

وہ ان یہودیوں کے پاس گیااور ان سے پوچھایہ جنگ کس کے ساتھ کرنے والے ہو؟

وہ بولے ہماری جنگ اس شحض کے ساتھ ہوگی جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے

پھر اس کے دل میں نے خواہش کی کہ میں اس شحض کو دیکھوں تو سہی جو ان معاشی ومعاشرتی طاقت رکھنے والے قبیلوں سے لڑنے پر آمادہ ہوا ہے؟

وہ یہی سوچ کر اٹھا اور لوگوں سے پوچھتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا:آپ مجھے بتاہیں کہ آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟

ﷲکے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا:

’’میری دعوت توحید کی دعوت ہے کہ اﷲکے سوا کسی کی عبادت نہ کرو،اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہراو اور مجھے اﷲکا رسول مانواور یہ کہ میں اﷲکی وحی سے اُس کے احکام لوگوں کو پہنچاتا ہوں‘‘

اس نے کہا اگر میں ایک اﷲپر ایمان لے آؤں اور آپ کو نبی مان لوں توکیا ہوگا؟

آپ ﷺنے فرمایا: "جنت ملے گی"

وہ بہت حیران ہوااور کہا:

اے اﷲکے نبی! میراتو رنگ سیاہ ہے، میں خو بصورت بھی نہیں ہوں،اور میرے پاس کچھ مال و دولت بھی نہیں ہے۔

اوراگر میں اﷲ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہوے شہید ہو جاؤں تو کیا مجھے جنت ملے گی؟

نبی کریمﷺ نے فرمایا: ہاں اﷲتعالیٰ تجھے ضرور جنت دیں گے۔

یہودی سرداروں کی بکریوں کا ریوڑ اس کے ساتھ تھا۔ ان کا کیا بنے گا؟ یہ سوچ کر اس نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: مگر اب میں اس ریوڑ کو کیا کروں؟ بکریوں کا مالک قلعہ میں بند بیٹھا تھا یہ مالک یہودی تھا اور خیبر میں صرف یہودی آباد تھے

نبی کریمﷺ نے فرمایا:بکریاں جہاں سے ہانک لائے ہو اسی سمت ان کا رخ پھیر دو وہ خود بخود اپنے باڑے میں پہنچ جائیں گی۔

اس نے اس پر اتنا اور اضافہ کیا کہ مٹھی میں کنکریاں لیں اور ریوڑ پر پھینکتے ہوئے کہا:’’اب میں تمہاری چوپانی نہیں کرسکتا اپنے مالک کے پاس جاؤ ‘‘۔دیکھتے ہی دیکھتے وہ بکریاں قلعے کی دیوار کے نیچے پہنچ گئیں۔جہاں ان کا باڑہ تھا۔

اس کے بعد وہ اُٹھا اور یہودیوں کے خلاف جنگ میں شریک ہوگیا اور لڑتے لڑتے اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دے دی۔

جب سرور کائناتﷺ کو اس کی شہادت کہ خبر ملی تو آپ نے اس کی لاش کودیکھ کرفرمایا:

’’اﷲتعالیٰ نے اس کے چہرے کو حسین بنا دیا ہے،اس کے بدن کو خوشبوؤں سے معطر کر دیا ہے اورجنت کی دوحوریں اسے عطاکردی ہیں‘‘

آپ جانتے ہیں کہ یہ خوش نصیب کون تھے؟ یہ خوش نصیب حسین چہرے والے حضرت اسودراعی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔

انھوں نے ایمان لانے کے بعد سوائے جہادفی سبیل اﷲکے کوئی کام نہیں کیا۔ ایک نمازپڑھنے تک کی مہلت نہیں ملی،لیکن انھوں نے صدق دل سے نور ہدایت سے اپنے دل کومنورکیا، سچا ایمان تھا اور اس سچے ایمان پر جہاد کو گواہ بنایا اور شہادت کی مہر لگوا کراتنا بڑامرتبہ حاصل کر لیا۔ سچ کہتے ہیں:

ایں سعادت بزور بازو نیست

تانہ بخشد ، خدائے بخشندہ

یعنی: یہ سعادت اپنے زورِ بازو سے نہیں ملاکرتی، یہ تو تب ملتی ہے جب اللہ تعالیٰ کسی بندے پر اپنی بخشش کا انعام فرماتے ہیں۔

٭…٭…٭

بھارتی دہشت گردی نے ایک بار پھر دو اطراف سے پاکستان کو خون میں نہلایا ہے۔

ایک خبر کے مطابق :’’پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ پیر کو ضلع بھمبر کے تھوب سیکٹر میں لائن آف کنٹرول پر انڈین فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے تینوں پاکستانی فوجی جان بحق ہو گئے ہیں۔ان فوجیوں کے نام نائیک غلام رسول، نائیک عمران ظفر اور سپاہی امام بخش بتائے گئے ہیں۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق پاکستانی فوج نے بھی انڈین فوج کی فائرنگ کا مؤثر جواب دیا جس سے انڈین فوجیوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔تاہم بیان میں مبینہ طور پر ہلاک ہونے والے انڈین فوجیوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔گذشتہ برس انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے اوڑی میں واقع فوجی کیمپ پر حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں بیحد اضافہ ہوا ہے۔اس دوران فائرنگ کے دو طرفہ تبادلے میں متعدد سکیورٹی اہلکار اور عام شہری مارے جا چکے ہیں۔24 نومبر 2016 کو پاکستانی فوج کے مطابق کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب انڈین فوج کی فائرنگ سے تین فوج اہلکار اور سات شہری ہلاک جبکہ 11 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ‘‘

جب کہ دوسری طرف لاہور میں ہونے والے دلدوز سانحے نے بھی قوم کو سوگوار بنادیا ہے۔

یہ حقیقت مختلف قرآئن سے عیاں ہو چکی ہے کہ ایسی دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارت کے مفادات پورے ہورہے ہیں اور وہی اس کی بنیاد ہے۔ جو ایک طرف دھماکوں کی شکل میں ہماری قوم کا خون بہا رہا ہے تولائن آف کنٹرول پر بھی اشتعال انگیز فائرنگ کر کے پاکستانی انتظامی و سیکورٹی اداروں کو الجھانے کر اپنا وار کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

ہمارے حکمرانوں اور سیکورٹی اداروں کو بھارت کی اس چالاکی اور چانکیائی وار کو کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ ہمارے حکمران بھارت کو خوش کرنے کے لیے اپنوں پر کتنا ہی ستم کیوں نہ ڈھالیں مگر اس بھارتی حسینہ نے کبھی بھی اس سے خوش نہیں ہونا، وہ پاکستان کی سالمیت اور وجود کا ہی دشمن ہے ،اور وہ اس سے کم پر ہرگزراضی نہیں ہونے والا۔ ہمیں اپنی بقاء اور سلامتی بھارتی دوستی سے زیادہ عزیز ہونی چاہئے اور بھارت کے بلاواسطہ اور بالواسطہ ہروار کا اسے بھرپور جواب دینا چاہئے۔ بھارت کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ لاتوں کا بھوت ہے جو باتوں سے ہرگز نہیں مانتا۔

 

 

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor