Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اُستاد ابو بکر (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 443 - Naveed Masood Hashmi - ustad abu bakar

اُستاد ابو بکرؒ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 443)

میری والدہ محترمہ15دنوں سے ہسپتال میں ہیں۔۔۔’’ماں‘‘ ہسپتال میں داخل ہو تو اولاد کی زندگی بالکل بے سکون اور بے کیف ہو جاتی ہے۔۔۔ میرے دل کی حالت بھی آج کل کچھ اسی طرح کی ہو رہی ہے۔۔۔ ماں تو رحمتِ خداوندی کا مظہر ہوتی ہے۔۔۔ ماں او رباپ کے جو حقوق قرآن وسنت نے متعارف کروائے ہیں۔۔۔ اگر اولاد ان حقوق کی ادائیگی شروع کر دے۔۔۔ تو ہر گھر اَمن و سکون کا گہوارہ بن جائے۔۔۔ افسوس تو یہ ہے کہ سیکولر لادین طبقے نے یورپ کی نقالی میں چائلڈ ڈے، لیبر ڈے، بسنت ڈے کے بعد اب’’مدر ڈے‘‘ کو بھی منانا شروع کر دیا ہے۔۔۔ یعنی جس’’ماں‘‘ نے اپنی کوکھ سے پیدا ہونے والی اولاد کو اپنے خون جگر سے سینچ سینچ کر گھبروجوان بنایا تھا۔۔۔ اس عظیم’’ماں‘‘ کیلئے بھی صرف سال کا ایک دن۔۔۔ یورپ میں رشتوں کی اس قدر ناقدری دیکھ کر۔۔۔ انسال ہل کر رہ جاتا ہے۔۔۔ بہرحال دعا کریں اﷲ تعالیٰ میری والدہ محترمہ کو شفاء کامل عاجل مستمر عطاء فرمائے’’ آمین‘‘

 مجھے ہسپتال میں ہی مجاہدین کے ہر دلعزیز استاذ ابو بکر کی ایکسیڈنٹ میں رحلت کی اطلاع ملی۔ آہ’’دل‘‘ جو پہلے ہی مغموم تھا۔۔۔ یہ اندوہ ناک اطلاع سن کر مزید غم سے بھر گیا، استاذ ابو بکر وہ تھے کہ جن پر جوانی کو بھی ناز تھا۔۔۔ اونچا لمبا قد، کڑیل جوان۔۔۔ لیکن یہ جوانی کبھی جہادی محاذوں پر، کبھی جہادی معسکرات میں، کبھی مصلے پر اور کبھی جہادی دعوت وتبلیغ کے میدانوں میں گزری، ہفتے کی رات جب اس پاکیزہ جوان کو قبر کی لحد میں اتارا جارہا تھاتوجنازے میں صرف شریک مجاہدین ہی نہیں بلکہ۔۔۔پاکستان سے لیکر افغانستان اور کشمیر تک کے مجاہدین اپنے استاد اور مربی کی دنیا سے رخصتی پر آنسوبہا رہے تھے۔۔۔ میری استاذ ابو بکر سے آشنائی تقریباًدو عشروں پر محیط تھی۔۔۔ میں نے انہیں ہمیشہ جہادی جذبوں سے سرشار پایا۔

اقبالؒ نے جو کہا تھا کہ:

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

 اور یہ کہ:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

ہمارے بھائی ابو بکر ان اشعار کا صحیح مصداق تھے۔۔۔بہادری ان کے انگ انگ سے پھوٹتی تھی، جس راہ سے ابو بکر گذرتا تھا بزدلی وہ راہ بدل لیا کرتی تھی۔۔۔امیر المجاہدین حضرت اقدس مولانا محمد مسعود ازہر کے ایام اسارت کے دوران میری جب بھی استاد ابو بکر سے ملاقات ہوئی۔۔۔ تو ایک جملہ وہ اپنی گفتگو میں بار بار کہا کرتے تھے کہ’’نجانے وہ زمانہ کب آئے گا کہ جب حضرت الشیخ رہائی پاکر ہمارے درمیان پہنچیں گے۔۔۔ پتہ نہیں کہ حضرت الشیخ کی رہائی کا زمانہ ہم دیکھ بھی سکیں گے یا نہیں؟‘‘

میں ابو بکر بھائی کی حسرت کو محسوس کر کے انہیں تسلی دیتا کہ ان شاء اللہ وہ زمانہ بہت جلد آئے گا کہ جب صرف ہم ہی نہیں بلکہ پوری دنیا ہمارے ’’حضرت الشیخ‘‘ کو رہا ہوتا دیکھے گی۔۔۔ اور یہ کہ اطمینان رکھو ہم ابھی اتنی جلدی مرنے والے نہیں، ہم نہ صرف یہ کہ’’ حضرت الشیخ‘‘ کی رہائی کا زمانہ دیکھیں گے۔۔۔ بلکہ اللہ کے فضل سے ان کے قافلے میں شریک ہو کر کافروں پر ضربیں بھی لگائیں گے۔۔۔

استاذ ابو بکر میری اٹل گفتگو سن کر حیرت سے پوچھتے کہ آپ یہ سب کچھ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں؟ میں بے اختیار ہنس پڑتا۔۔۔ اور ہنستے ہوئے کہتا کہ کیونکہ میرا گہرا رابطہ حضرت الشیخ مولانا محمد مسعود ازھر کی محبت کے ٹرانسفارمر سے ہے۔۔۔ وہ بڑی معصومیت سے سوال کرتے کہ ہائیں۔۔۔ کیا مطلب؟ حضرت مولانا محمد مسعود ازھر کی محبت کے ٹرانسفامر سے آپ کی مراد کیا ہے؟

میں مزے کے ساتھ جواب دیتا کہ میری مراد ان کے والد محترم اللہ بخش صابرؒ صاحب ہیں۔۔۔’’بیٹے‘‘ کی گرفتاری اور اسارت کا غم، باپ سے زیادہ اور کسے ہو سکتا ہے؟ اور بیٹا بھی جب ’’محمد مسعود ازھر‘‘ جیسا فرمانبردار اور ماں،باپ سے بے پناہ محبت کرنے والاہو، اس وقت بے گناہ بیٹے کی گرفتاری کا غم باقاعدہ درد دل میں تبدیل ہو جایا کرتا ہے۔۔۔میں پورے ملک میں پروگراموں میں شریک ہوتا ہوں، جس شہر، یا صوبے میں بھی جاؤں تو وہاں کے کارکن اور بزرگ حضرت الشیخ کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔۔۔

لیکن ملک میں محترم اللہ بخش صابرؒ وہ واحد شخصیت ہیں کہ میری ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ہے تووہ مجھے گلے سے لگا کر ماتھا چومتے ہیں اور پھر بڑے پرسکون لہجے میں فرماتے ہیں کہ قاری صاحب پریشان مت ہوں’’میرا مسعود‘‘ بہت جلد رہا کر واپس آجائے گا۔۔۔ استاذ ابو بکر میری گفتگو سن کر نہایت مطمئن انداز میں سرہلاتے اور پھر جہادی سرگرمیوں میں نہایت تندہی سے مصروف ہو جاتے۔۔۔ استاذ ابو بکر، پکے نمازی، تہجد گزار اور مجاہدین کے انتہائی باکمال استاد تھے۔۔۔ ان سے جس نے بھی ’’تعلیم‘‘ حاصل کی۔۔۔ وہ پکا مجاہد تو بنا ہی۔۔۔ مگر ساتھ ہی اپنے استاد ابو بکر کی محبت میں بھی گرفتار رہا، کچھ سبقت لسانی کے ماہربعض مرتبہ یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ استاد ابو بکر کو تقوے کا ہیضہ ہوا ہے۔۔۔ ایسے ہی ایک ’’ماہر سبقت لسانی‘‘ نے جب یہ جملہ میرے سامنے کہا تو مجھے یہ کہنا پڑا کہ’’برادر‘‘ اس کا مطلب ہے کہ آپ یہ بات تو تسلیم کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں کہ استاد ابو بکر میں تقویٰ موجود ہے۔۔۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے جلدی سے کہا کہ اخلاص اور تقوے کی پہلی کرامت ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ مخالفین سے بھی اپنی طاقت منوالیا کرتے ہیں۔۔۔

استاد ابو بکر نے اپنی جوانی کے قیمتی ترین سال جہاد مقدس کی عبادت میں گزارے۔۔۔ اور اس سے بڑی خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ جب انہیں لحد میں اتارا جارہا تھا۔۔۔ تب بھی وہ اپنپے پیارے امیر کی اطاعت میں جماعتی تشکیل پر تھے۔۔۔ کچھ فتنہ پرور گماشتے یہ پروپیگنڈا کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ’’مجاہدین‘‘ مال کھاتے ہیں۔۔۔جائیدادیں بناتے ہیں،مجاہدین کے پاس لمبی لمبی گاڑیاں اوربینک بیلنس ہوتے ہیں۔۔۔ ان فتنہ پرور گماشتوں کو کوئی بتائے کہ مال کی محبت میں اندھا ہو جانے والے مجاہد نہیں ہوا کرتے۔۔۔ استاد ابو بکر کی ساری جوانی جہادی میدانوں اور جہادی معسکرات میں گزری، لیکن نہ تو ان کی کوئی ذاتی گاڑی، نہ قیمتی بنگلہ، نہ پلاٹ، نہ بینک بیلنس، نہ ان کی حبّ مال سے آشنائی اور نہ ہی حب جاہ سے کوئی دوستی۔۔۔ مجاہدین کا محبوب استاد جس فقیری میں جہادی میدانوں میں اتراتھا،اسی درویشی کی حالت میں قبر کی لحد میں جا اترا، اس نے اپنی ساری جوانی بے داغ، صاف اور شفاف گزار دی، اسے جب قبر میں اتارا جارہا تھا۔۔۔ تب اس کو پہنایا جانے والے کفن بھی نہایت اُجلا بے داغ اور سفید تھا۔۔۔

استاد ابو بکر قبر کے پاتال میں گم ہو چکا ہے۔۔۔ لیکن پاکستان میں اس کے ہزاروںشاگرد اسے اپنے دل میں زندہ رکھیں گے، میری ابو بکر بھائی کے ساتھ بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔۔۔ لیکن میں ان سب یادوں کو قلم کی نوک سے اس لئے بچا کر رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ ہمارے درمیان یہ طے ہوا تھا کہ ہم ان یادوں کی حرارت سے اپنے ایمان کو جلا بخشیں گے۔۔۔ ہر بات میں دوسروں کو حصہ دار بنانا کوئی ضروری بھی نہیں۔۔۔ میری آنکھوں سے بہنے والے اشکوں نے کاغذ کو بھگونا شروع کر دیا ہے۔۔۔ شاید یہ استاد ابوبکرؒکی یاد میں بہہ رہے ہیں:

اشکوں سے تر ہے ہر اک پھول کی پنکھڑی

رویا ہے کون تھام کے دامن بہار کا

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor