Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

شہید اسامہ بن لادن (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 444 - Naveed Masood Hashmi - Shaheed osama bin laden

شہید اسامہ بن لادنؒ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 444)

2مئی2014ء کو حضرت الشیخ اسامہ بن لادنؒ کی شہادت کو تین سال پورے ہو گئے۔۔۔ حیرتناک امر یہ ہے کہ شیخ اسامہ بن لادنؒ کی شہادت کے تین سال بعد بھی۔۔۔ امریکہ کے محکمہ دفاع نے یہ اعلان کیا ہے کہ۔۔۔ ’’القاعدہ بدستور امریکہ کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہے‘‘مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں کے دلوں میں آج بھی شیخ اسامہ بن لادنؒ کی محبت نہ صرف یہ کہ موجود ہے۔۔۔ بلکہ مسلمان نوجوان۔۔۔شیخ اسامہ بن لادن کو اپنا آئیڈیل اور ہیرو سمجھتے ہیں۔۔۔

شہداء فاؤنڈیشن آف پاکستان نامی تنظیم نے آئندہ ہر سال 2مئی کو’’یوم شہیدِ اسلام‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کر کے۔۔۔ امریکہ اور اس کے حواریوں کیلئے بے چینیوں کا نیا سامان پیدا کر دیا ہے۔۔۔ میرے نزدیک شیخ اسامہ بن لادنؒ اللہ پاک کے اس عظیم مجاہد کا نام ہے کہ جس نے اپنا گھر، وطن، خاندان، آل اولاد، مال و متاع حتیٰ کہ جان تک اللہ کے راستے میں قربان کرنے سے دریغ نہ کیا۔۔۔

یہ سن1984ء کے موسم گرما کا واقعہ ہے۔۔۔ کہ جب ایک متمول سعودی خاندان سے تعلق رکھنے والا نوجوان حضرت شیخ عبداللہ عزامؒ شہید سے ملاقات کی غرض سے اردن آیا۔۔۔شیخ عزامؒ شہید چند دن قبل ہی افغانستان کے جہادی محاذوں سے واپس اردن پہنچے تھے۔۔۔ اور عرب نوجوانوںکو جہاد افغانستان میں شرکت کی دعوت دینے اور مجاہدین کے لئے اموال اکٹھا کرنے کی مہم میں مصروف تھے۔۔۔ متانت و وقار کے پیکر اس یمنی الاصل سعودی شہزادے نے کم وبیش چار گھنٹے شیخ عبداللہ عزامؒ سے افغان جہاد سے متعلق مختلف سوالات کئے۔۔۔ اور شیخؒ نے بھی اپنی روایتی پدرانہ شفقت اور پر اثر اسلوب بیان سے اس پاکیزہ قلب و ذہن کی ایک ایک خلش دور کی۔۔۔ امت کے غم میں کڑھنے والے ایک دل کا درد دوسرے دل میں منتقل ہو گیا۔۔۔ کون جانتا تھا کہ محض چار گھنٹوں پر محیط دو افراد کی یہ ملاقات امت مسلمہ کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو گی۔۔۔ اور یہ مختصرسی دعوتی اور تعارفی نشست کفر کے عالمی نظام کی بنیادیں ہلانے کا نقطہ آغاز بن جائے گی۔۔۔ نوجوان اسامہ بن لادنؒ نے وہیں بیٹھے بیٹھے دنیا کی حقیر لذتوں کو ٹھکرانے اور میدان جہاد کا شہسوار بننے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔ اور سال ختم ہونے سے پہلے ہی اپنا کام سمیٹ کر افغانستان جا پہنچے۔۔۔ دنیاوی لذتوں میں غوطے کھانے والوں کیلئے یہ فیصلہ بہت مشکل۔۔۔ بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔۔۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا کے متلاشی لوگوں کو اگر جہادی راستہ نظر آجائے تو پھر وہ اس راستے کا شہسوار بننے میں ایک سیکنڈبھی نہیں لگاتے۔۔۔ اسامہ بن لادنؒ بھی اللہ کو راضی کرنا چاہتے تھے۔۔۔ اور یہ بھی جانتے تھے قرآن فرماتاہے’’بے شک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو اس قیمت پر کہ ان کے لئے جنت ہے خرید لیا ہے، وہ لوگ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں پھر قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں یہ اللہ کے ذمہ سچا وعدہ ہے‘‘ روسی جارحیت کے سامنے چٹانوں کی سی مضبوطی سے کھڑی افغان قوم کی غربت، بے سرو سامانی اور دربدری دیکھ کر آپ بہت غمگین ہوئے اورمجاہدین کے ساتھ امت مسلمہ کی بے رخی نے اس غم کو مزید بڑھا دیا۔۔۔ اسامہ بن لادنؒ افغان جہاد کے آغاز پر اپنی قلبی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’ میں نے بذات خود اس بات کا مشاہدہ کیا کہ افغان مجاہدین کے پاس افرادی قوت اور مادی وسائل دونوںہی کی شدید قلت ہے۔۔۔ اور انہیں جنگ کے لئے درکار بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں۔۔۔ یہ احساس مجھے شدت سے دامن گیر ہوا کہ ہم اپنے مظلوم افغانی بھائیوں کا حق نہیںادا کر پائے، اورہم سے ان کا ساتھ دینے میں بہت کوتاہی ہوئی ہے۔۔۔ میں جان گیا کہ اس جرم کی تلافی کی بہترین صورت یہی ہے کہ انسان ان کے ساتھ مل کر جہاد کرے اور لڑتا لڑتا شہید ہو جائے۔۔۔ شاید اس طرح فرض عین پر لبیک کہنے میں تاخیر کا گناہ دُھل جائے‘‘۔۔۔

میدان جہاد میں صرف دو سال کا عرصہ گزارنے کے بعد1986ء میں شیخ اسامہ بن لادنؒ نے دنیا بھر سے ہجرت کر کے آنے والے عرب نوجوانوں کی تعلیم و تربیت اور انہیں جہادی نظم و نسق سکھانے کیلئے’’جاجی‘‘ کے علاقے میں’’ماسدۃ الانصار‘‘ کے نام سے ایک معسکر قائم کر دیا۔۔۔ اورپھر آنے والے دنوں میں یہی وہ معسکر ہے کہ جو عالم عرب کے نوجوانوں میں جہادی روح بیدار کرنے کا سبب بن گیا، جنہوں نے’’حبّ الدنیا و کراہیۃ الموت‘‘ کے مہلک شکنجے اور وطنی حدبندیوں کے دجالی سانچے سے آزادی پاکر امت مسلمہ کی شوکت رفتہ بحال کرنے اور دین اسلام کو ہر دوسرے دین پر غالب کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا

محض چند سال بعد۔۔۔1989ء میں چشم فلک نے یہ نظارہ دیکھا کہ وہ سویت اتحاد کہ جس کا سامنا کرنے سے نیٹو بھی کانپتا تھا۔۔۔ اور امریکہ بھی جس کے آگے سر اٹھانے کی ہمت نہیں کر پاتا تھا۔۔۔ اللہ رب العزت نے اسی سرخ ریچھ کو اپنے بے سروساماں مجاہدبندوں کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست سے دوچار کر دیا۔۔۔ اور ذلت آمیز شکست بھی ایسی کہ اس کے بعد سویت اتحاد خود اپنا وجود ہی برقرار نہ رکھ سکا۔۔۔ اور مشرق وسطیٰ کے مسلم علاقوں سمیت اس کے زیر قبضہ بیشتر علاقے آزاد ہو گئے۔۔۔ اس محیر العقول فتح نے قافلہ جہاد میں شریک جانبازوں بالخصوص شیخ اسامہ بن لادنؒ پر کیا انمنٹ نقوش چھوڑے۔۔۔آئیے’’شیخ‘‘ ہی کی زبانی سنتے ہیں۔۔۔

’’سویت اتحاد کی شکست مجاہدین کے لئے ایک اچھوتا تجربہ ثابت ہوئی۔۔۔ اس تاریخ ساز واقعہ نے ہمارے سامنے سوچنے کے لئے نئے زوائیے کھولے، ہمارے ذہنی اُفق کو وسعت بخشی۔۔۔ اور ہمارا یہ یقین مزید راسخ ہو گیا کہ بظاہر بہت طاقتور نظر آنے والی یہ وسیع و عریض کافرسلطنتیں حقیقت میں نہایت بودی اور بے اصل ہیں۔۔۔ اور اگرہم اللہ پر توکل کرتے ہوئے۔۔۔ اسی کے سہارے کو ساتھ لئے۔۔۔ شرعی احکامات کے عین مطابق ان عالمی طاقتوں کے خلاف جہاد کریں۔۔۔ تو ان شاء اللہ انہیں نہایت آسانی سے جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں گے۔۔۔ اور سرسری نگاہ میں ناممکن نظر آنے والا یہ کام بھی آرام سے ممکن ہو جائے گا۔۔۔ سویت یونین کی شکست کے بعد ہمیں امت مسلمہ کی مجموعی صورت حال پر ٹھنڈے دل سے غور و فکر کرنے کا موقع ملا۔۔۔ اور ہم سوچنے اور منصوبہ بندی کرنے لگے کہ کیسے اپنی’’محبوب امت‘‘ کو ظلم و جبر کے شکنجے سے نجات دلائی جائے۔۔۔پس روس کے خلاف جہاد کے تجربے نے ہمارے لئے پورے عالم اسلام میں تبدیلی لانے کی کنجی کا کام دیا‘‘۔۔۔

شیخ اسامہ بن محمد بن عوض بن لادن رحمۃ اللہ علیہ1984ء میں جس جذبہ صادق کے ساتھ افغانستان کے جہادی میدانوں میں اترے تھے۔۔۔ وہ اس سچے جذبے پر آخری سانسوں تک قائم و دوائم رہے۔۔۔ انہیں نہ تو اپنی شہرت مطلوب تھی، نہ دنیا کا مال و متاع اور جاہ وحشمت سے کوئی غرض تھی۔۔۔ بلکہ شیخ اسامہؒ تو بس اپنا فرض ادا کرنے اور اپنی جان کا سودا کرنے نکلے تھے۔۔۔

ضمیر، خمیر، نظریات اور قلم کے سوداگر کیا جانیں کے دنیاوی لذتوں کو ٹھکرا کر جہادی میدانوں میں اُترنے والوں کی اللہ کے ہاں عظمت کیا ہوتی ہے؟ اسامہ بن لادنؒ پر الزامات لگانے والے’’بونے‘‘ جن ڈالروں کی خاطر امریکی ڈگڈی پر رقص کرتے ہیں۔۔۔ وہ ڈالر، پاؤنڈ، درہم وریال شیخ اسامہؒ افغانستان کے مظلوم مسلمانوں اور مجاہدین پر لٹانا اپنا محبوب مشغلہ سمجھتے تھے۔۔۔ شیخ اسامہ بن لادنؒ تو اللہ کے عاجز لیکن کافروں کے مقابلے میں غیر معمولی بہادر شخص تھے۔۔۔ انہیں نہ محلات کی کوئی چاہت تھی نہ اقتدار کے ایوانوں سے پیار تھا۔۔۔ اور نہ درہم و دینار سے کوئی غرض تھی۔۔۔ وہ تو امت مسلمہ کو عروج دلانا چاہتے تھے۔۔۔ فلسطین،کشمیر، افغانستان،عراق، شیشان اور دیگر مقبوضہ مسلم علاقوں کو آزادی دلوانا چاہتے تھے۔۔۔

شیخ اسامہ بن لادن انسانی حقوق کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔۔۔ وہ امریکہ، برطانیہ، بھارت، اسرائیل اور دیگر کفریہ طاقتوں کو انسانی بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کی پامالی سے روکنا چاہتے تھے۔۔۔ وہ تو روس کے مقابلے میں شہادت کے شوق میں نکلے تھے۔۔۔ لیکن اللہ رب العزت کو یہی منظور تھا کہ شہادت کا یہ رتبہ آپ کو روس کی بجائے امریکہ کے ہاتھوں ملے۔۔۔ افغانستان کی بجائے پاکستان میں ملے۔۔۔اور سن84ء میں نہیں بلکہ اس کے ٹھیک27سال بعد دو مئی2011ء کے موسم گرما میں ملے۔۔۔ اور ایسے حال میں ملے کہ آپؒ ایک نام نہاد’’سپر پاور‘‘ کو شکست دینے میں شریک ہونے کے بعد دوسری سپر پاور یعنی امریکہ کی بربادی کی بنیاد ڈال چکے ہوں۔۔۔

کیا اب بھی کوئی یہ سمجھتا ہے کہ شیخ اسامہ بن لادنؒ ناکام گئے؟ ان بیوقوف جاہلوں کو کوئی بتائے کہ اللہ کا ایک عاجز بندہ محض27سال کی مختصر جہادی زندگی میں کفریہ طاقتوں کے تابوت میں جتنی کیلیں گاڑ گیا ہے۔۔۔ وہ یہود و نصاریٰ کو کسی پل بھی چین نہ لینے دیں گی۔۔۔ صرف27سال اور تن تنہا اسامہ بن لادنؒ۔۔۔ مگر مشرق، مغرب، شمال و جنوب کے یہودی ، عیسائی، ہنود اور منافق جس کی جہادی یلغار کے سامنے بھیگی بلی بنے رہے،اللہ کا عاجز بندہ اسامہ بن لادنؒ 27سالہ جہادی زندگی میں جتنی کامیابیاں سمیٹ گیا ۔۔۔ کافر اور منافق اس کا ادراک کر ہی نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ اسامہ بن لادنؒ کی شہادت کو قبول فرمائے، اور آپؒ کو انبیائ، صدیقین ، شہداء اور صالحین کا قرب نصیب فرمائے، آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor