Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بھارت میں مستقبل کا پاکستان (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 446 - Naveed Masood Hashmi - Bharat mein Mustaqbil ka Pakistan

بھارت میں مستقبل کا پاکستان؟

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 446)

آٹھ سال کی عمر میں انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس جوائن کرنے والا نریندرمودی2002ء میں گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کاقاتل ہونے کے باوجود لوک سبھا کی282سیٹیں لے کر بھارت کا وزیراعظم بن گیا۔۔۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارتی ووٹوں سے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی بھارتی جنتا پارٹی کے282 کامیاب امیدواروں میں سے کوئی ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔۔۔ یوں اگر یہ لکھ دیا جائے کہ جنونی قاتل کو وزیراعظم بنا کر بھارت کی اکثریتی ہندو آبادی نے جنونیت اور انتہا پسندی کی معراج کو چھو لیا تویقینا غلط نہ ہو گا۔۔۔ نریندرمودی کی انتخابی مہم کے دوران آسام میںشدت پسند ہندوؤں نے 50مسلمانوں کو صرف اس لئے زندہ جلا کر شہید کر ڈالا کیونکہ وہ نریندر مودی کو ووٹ نہیں دینا چاہتے تھے۔۔۔ اور اب جب کہ نریندر مودی21مئی کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا چکا ہے، اقتدار سنبھالنے سے دو دن قبل یعنی19مئی کو بھارتی جنتا پارٹی نے ہندو دہشت گردی کی تاریخ دھراتے ہوئے۔۔۔ بھارتی پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کا جشن منانے کیلئے مسلم کش پالیسی کو بحال کر دیا ہے۔۔۔ فتح کے نشے میں چور حکمران بی جے پی کے سینکڑوں مسلح کارکنوں نے’’منگلور‘‘ کی تین مساجدپر حملہ کر کے وہاں زبردست پتھراؤ اور توڑپھوڑ کی۔۔۔مسجدوں کے دروازے، شیشے اور منبر تک توڑ ڈالے گئے، حکمران بی جے پی کے دہشت گرد نریندر مودی کی انتخابی مہم کو بے گناہ مسلمانوں کے لہو سے سرخ کرنے کے بعد اپنی کامیابی کا جشن مسلمانوں کی عبادت گاہوںپر حملے کر کے منا رہے ہیں۔۔۔ اور پاکستان میں ایک شیطانی گروہ امن کی آشا کے نام پر پاکستان کی عوام کو گمراہ کر کے ان کے سروں کو ہندو ازم کے سامنے جھکانے کیلئے سرتوڑ کوششیں کر رہا ہے۔۔۔

بدقسمتی کی انتہا دیکھئے۔۔۔ پاکستان کے شہروں میں تو بھارت کیلئے امن کی آشا کے دعوے اور نعرے، لیکن بھارت کے شہروں میں پاکستانی قوم کے خلاف نفرت کی بھاشا کا پرچار، پاکستان میں تو امن کی آشا کے نام پر قوم کو دھوکا۔۔۔ اور بھارت میں پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف کھلا اعلان جنگ۔۔۔ پاکستان کے ایوانوں میں تو انڈیا کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی تیاریاں۔۔۔ اور بھارت میں بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کے منصوبے۔۔۔ اسلام آباد میں تو بھارت سے دوستی کا اعلان۔۔۔ مگر دہلی میں پاکستان کو توڑنے کی سازشیں۔۔۔ بھارت میں آر ایس ایس کے عسکری ونگ’’بجرنگ دل‘‘ کے زیر اہتمام تمام ہندو نوجوانوں کو عسکری ٹریننگ کے مراحل سے گزار کر انہیں مسلمانوں اور پاکستان سے لڑنے کیلئے تیار کیا جارہا ہے۔۔۔ مگر پاکستان میں جہاد مقدس پر پابندی، جہاد مقدس کے خلاف پروپیگنڈا، مجاہدین کے خلاف ہرزہ سرائیاں۔۔۔؟؟

پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ بنانے کی گھٹیا کوششیں کرنے والے آستین کے سانپ’’سیکولر‘‘ بھارت کو ہندو انتہا پسندی کے گڑھے میں گرنے سے کیوں نہ روک سکے؟ ان ڈالر خور’’بونوں‘‘ کو کوئی بتائے کہ نریندر مودی کی کامیابی سے ’’امن‘‘ تو اُڑن چھو ہو گیا۔۔۔ اب ’’آشا‘‘ کی مورتی بنا کر وہ اپنے گھروں میں سجا لیں۔۔۔

شہدائِ کشمیر کے خون سے غداری کرنے والے یہ’’بونے‘‘ پاکستان میں رہ کر ، پاکستان کا کھا کر، پاکستان میں پروٹوکول لے کر بھی بھارتی مفادات کی نگرانی کرتے رہے۔۔۔ لیکن بھارت کے ہندو اپنے مندروں اور پنڈتوں کے وفادار نکلے۔۔۔تبھی تونریندر مودی جیسا کٹر ہندو نظریات کے حامل چیلے کو انہوں نے اپنا وزیراعظم چن لیا ہے۔۔۔

اس میں کوئی شک و شبہے کی گنجائش نہیں کہ نریندر مودی کو مسلمانوں کی نسل کشی اور پاکستان دشمنی کے ووٹ ملے۔۔۔ آج کل امن کی آشا کے سرخیل’’جیو‘‘ اور ’’جنگ‘‘ گروپ پر جو عذاب آیا ہوا ہے۔۔۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شہدائِ کشمیر کے مقدس خون سے غداری کرنے والوں، پاکستان میں فحاشی، عریانی اور بے حیائی کو پروان چڑھانے والوں، جہاد مقدس اورمجاہدینِ اسلام کے خلاف جھوٹاپروپیگنڈا کرنے والوں۔۔۔ اور حدود اللہ کو کھلے عام پامال کرنے والوں کے دن تھوڑے ہی ہوا کرتے ہیں۔۔۔ بے شک کائنات میں سب سے بڑی ذات میرے پروردگار کی ہے۔۔۔ پروردگارِعالم، ظالموں اور نافرمانوں کی رسی کو ڈھیلا کر دیں تو۔۔۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فاتح اور غالب ہوجائیں گے۔۔۔

گذشتہ12سالوں سے’’جیو‘‘ سمیت تمام چینلز نے جس اخلاق باختہ کلچر کو پروان چڑھانے کی پالیسی کو اختیار کر رکھا تھا۔۔۔ اسے دیکھ کر تو پاکستانی قوم کے درد مند دل رکھنے والے مسلمان خون کے آنسو رونے پر مجبور تھے۔۔۔ ’’جیو‘‘ اور بعض دیگرچینلز کے پروگراموں کی وجہ سے پاکستان میں’’شرافت‘‘ اپنا منہ چھپانے پر مجبور ہو گئی تھی۔۔۔ عزت و افتخار کے پیمانے بدل گئے تھے۔۔۔ ’’جھوٹ‘‘ سچ بن چکا تھا۔۔۔ نوسر بازی، فراڈ، ڈسکو ڈانس، بے پردگی، بے حیائی اور فضول حجت بازی کو’’آئیڈیلزم‘‘ کا جامہ پہنا دیا گیا تھا، جیو اور دیگر نجی چینلز کو دیکھ کر ایسے لگتا تھا کہ جیسے یہ سب اسلام اور نظریہ پاکستان کے خلاف برسر پیکار ہو چکے ہوں۔۔۔ لیکن ’’برائی‘‘ چاہے آسمانوں کے قریب بھی پہنچ جائے وہ برائی ہی رہتی ہے، ’’برائی‘‘ چاہے اوج ثریا کی بلندیوں کو بھی چھولے اسے ایک نہ ایک دن اپنے عبرتناک انجام سے دوچار ہونا ہی ہوتا ہے۔۔۔’’قارئینِ ’’القلم‘‘ کو یاد ہوگا کہ اس خاکسار نے انہیںصفحات پر الیکڑانک چینلز سمیت میڈیا میں گھسی ہوئی تمام بدروحوں کے خلاف ہمیشہ علم جہاد تھامے رکھا، یار لوگوں کو’’جیو‘‘ پر اس وقت غصہ آیا۔۔۔ کہ جب’’جیو‘‘ ملکی سلامتی کے ادارے آئی ایس آئی پر چڑھ دوڑا۔۔۔ لیکن ہم نے اس نجی چینلز کی شیطنت کے خلاف اس وقت بھی اپنے قلم کو تلوار بنایا تھا کہ جب اس نے رسوائے زمانہ پرویز مشرف کے دور میں’’حقوق نسواں بل‘‘ کے حق میں زبردست کمپین چلا کر۔۔۔ حدود اللہ کو کھلا چیلنج کیا تھا… ملکی سلامتی کے ادارے کو ٹارگٹ بنانا ظلم ہے۔۔۔ لیکن بے پردگی، فحاشی اور عریانی پھیلا کر پاکستان کی نوجوان نسل کے اخلاق و کردار کو تباہ کرنا اس سے بڑا ظلم ہے۔۔۔بھارت کے یکطرفہ امن کی آشا کے ایجنڈے کو پرموٹ کرنا شہداء کشمیر کے خون سے غداری اور پاکستان کی سلامتی کو داؤ پر لگانے کے مترادف تھا۔۔۔ جہاد مقدس اور حقیقی مجاہدین اسلام کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنا بھی ظلم عظیم کے مترادف تھا۔۔۔

یہ وہی چینل ہے کہ جس کے سٹوڈیوز میں بعض ناپاک مرد اور عورتیں اینکرز اور اینکرنیوں کا روپ دھار کر شعائراسلام کا سرعام مذاق اڑاتے تھے، افواہوں کو خبر بنا کے بے گناہ اور شریف مسلمانوں کی پگڑیاں اچھالتے تھے۔۔۔ اور ہم نے پوری صحافتی امانت داری کے ساتھ پاکستانی قوم کو ان کے شر سے بچانے کیلئے اپنی مقدور بھر کوشش جاری رکھی(الحمدللہ)

آج خوشی کی بات یہ ہے کہ ساری قوم یک زبان ہو کر اس نجی چینل کو بند کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔۔۔ لیکن میرا یہ کہنا ہے کہ صرف ایک نجی چینل ہی نہیں بلکہ ہر اس چینل یا اخبار کو بند ہو جانا چاہئے کہ جو’’صحافت‘‘ کے مقدس پیشے کی آڑ میں یہود وہنود اور نصاریٰ کے ایجنڈے کو پاکستانی قوم پر مسلط کرنا چاہتاہے۔۔۔ مجھے نہ تو بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں سے کوئی شکوہ ہے اور نہ ہی نریندر مودی سے کوئی شکایت۔۔۔ اس لئے کہ انتہا پسند ہندو اگر اپنے ہندو ازم کے ساتھ مخلص ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔۔۔ اگر وہ ہندو ازم کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کے جان و مال اور اقلیتوں کے تمام حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی کر سکتے ہیں۔۔۔۔ مجھے اگر شکوہ ہے تو ان نمک حراموں سے ۔۔۔ کہ جو اس پاک سر زمین پر رہتے ہیں کہ جہاں98 فیصد مسلمان بستے ہیں۔۔۔98فیصد مسلمانوں کی آبادی والے ملک میں وہ مذہب اسلام کے نفاذ کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، مجھے شکوہ ہے ان دانش فروشوں اور قلم فروشوں سے جو غیروں سے ڈالر لے کر اسلام کی مقدس عبادات کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔۔۔ بھارت اوریورپ کے کلچر کو پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔۔۔ مجھے شکایت ہے ان سے کہ جو شہداء پاکستان اور شہداء کشمیر کے خون سے نہ صرف یہ کہ خود غداری کرتے ہیں۔۔۔ بلکہ دوسروں کو بھی غداری پر اکساتے ہیں۔۔۔

رہ گیا نریندر مودی، بھارت سرکار اور وہاں بسنے والے ہندو انتہا پسند۔۔۔ مجھے ان کی فکر اس لئے نہیں ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ الحمدللہ ابھی مسلمانوں میں جذبہ جہاد اُبل رہا ہے، مسلمان نوجوانوں کے دل شہادت کے عشق سے دھڑک رہے ہیں، مسلمان مائیںاپنے لخت جگر۔۔۔ جہادی میدانوں کے لئے وقف کرنا اپنے لئے سعادت سمجھتی ہیں۔۔۔ مجھے بھارتی موذیوں کی گیدڑ بھپکیوں کی اس لئے بھی زیادہ فکر نہیں ہے کہ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ الحمدللہ ابھی امیر المجاہدین مولانا محمد مسعود ازھر بھی زندہ ہیں( اللہ انہیں صحت و تندرستی اور ایمان کی سلامتی عطاء فرمائے ۔ آمین)

نریندر مودی سرکار اگر مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کے بازار سجائے گی۔۔۔ تو پھر ہندوستان میں جہادی میدان بھی سجیں گے۔۔۔ ہندوستان کے مسلمان بھارت میں اقلیت ضرور ہیں۔۔۔ مگر’’بے غیرت‘‘ نہیں۔۔۔نریندر مودی اگر ان سے بھارتی سرزمین پرزندہ رہنے کا حق چھیننے کی کوشش کرے گا۔۔۔ تو پھر چشم فلک ہندوستان کی سرزمین پر اک نئے پاکستان کو ابھرتا ہوا دیکھے گی۔۔۔ کاش! نریندر مودی کو کوئی بتائے کہ اسلام، اور مسلمانوں کے دفاع میں سروں کی فصل کٹانا مسلمان عبادت سمجھتے ہیں۔۔۔تم مسلمانوں کے سروں کی فصل کاٹو گے تو تمہارے قدموں سے ہندوستان کی سرزمین بھی کھسکنا شروع ہو جائے گی۔۔۔ پھر نہ تم رہو گے اور نہ تمہارا راج۔۔۔ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor