Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ہادی، مہدی سیدنا امیر معاویہ (قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی)

Qalam Talwar 447 - Naveed Masood Hashmi - hadi mehdi syedna ameer muawiya

ہادی، مہدی سیدنا امیر معاویہ ؓ

قلم تلوار...قاری نوید مسعود ہاشمی (شمارہ 447)

مجھے حضرت سیدنا امیر معاویہؓ سے اس لئے محبت ہے۔۔۔ کیونکہ حضرت امیر معاویہؓ سے محسن عالمﷺ محبت فرماتے تھے۔۔۔ مجھے حضرت سیدنا امیر معاویہؓ سے اس لئے پیار ہے کیونکہ سیدنا امیر معاویہ آقا و مولیٰ ﷺ کو پیارے تھے۔۔۔ میں سیدنا امیر معاویہؓ کی عظمت کو اس لئے سلامِ عقیدت پیش کرتا رہوںگا۔۔۔ کیونکہ ان کے بارے میں آقا مدنیﷺ نے فرمایا تھا کہ ’’معاویہؓ میری امت میں سب سے زیادہ صاحبِ حلم یعنی برد باد اور جودو سخا کے حامل ہیں‘‘۔۔۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن معاویہؓ کو اٹھائیں گے تو ان پر نورِایمان کی چادر ہوگی۔۔۔(کنز العمال)

محسن عالم ﷺ حضرت معاویہؓ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’ اے اللہ! معاویہ کو کتابُ اللہ کا علم عطا فرما اور حساب کا علم عطا فرما اور عذاب سے محفوظ رکھ‘‘(کنز العمال)

مجھے حضرت سیدنا امیر معاویہؓ سے اس لئے پیار ہے کیونکہ پیارے نبیﷺ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں دعاء مانگتے ہوئے فرمایا:’’ اے اللہ(معاویہؓ) کو ہادی، مہدی اور ذریعۂ ہدایت بنا‘‘(ترمذی) اس حدیث مبارکہ میں تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ایک ہادی یعنی لوگوں کو ہدایت کی راہنمائی کرنے والے، دوسرا مہدی خود ہدایت یافتہ اورتیسرا ذریعۂ ہدایت۔۔۔ جس کولسانِ نبوتﷺ سے ہادی مہدی اور ذریعہ ہدایت کے پروانے ملے ہوں۔۔۔ اس سے محبت اور عشق نہ کیا جائے تو یہ اپنے ایمان کی دشمنی کے مترادف ہو گا

لفظ معاویہ کے معانی

معاویہ کے نامِ نامی اسمِ گرامی کے معنیٰ لغت کی مشہور کتاب منتقی الارب کے صفحہ215جلد نمبر 2۔۔۔ لسان العرب اور تاج العروس وغیرہ میں درج ذیل معانی لکھے ہوئے ہیں:

(۱) تیس برس کی جوانی کو پہنچ کر ایسی طاقت کا حامل ہونا جو دشمن کا پنجہ مروڑ دے۔۔۔ (۲) کسی چیز کو مروڑنا(۳) کسی چیز کی مدافعت کرنا(۴) آواز دیکر پکارنا

کہتے ہیں کہ نام کا شخصیت پر اثر ہوتا ہے۔۔۔ چنانچہ ان مختلف معانی کی روشنی میں اگر حضرت معاویہؓ کی شخصیت کا مطالعہ کریں تو آپ کو نظر آئے گا کہ حضرت امیر معاویہؓ نے کفر و باطل کے پنجے کو مروڑ کر حق و سچ کا بول بالا کیا۔۔۔ اسلام کر ہر محاذ پر دفاع کیا۔۔۔

اسلام کی ساڑھے چودہ سوسالہ تاریخ نے حضرت سیدنا امیر معاویہؓ جیسا بردبار اور فاتح حکمران آج تک نہ دیکھا اور نہ سنا، صرف19سال 3ماہ کے دورِ حکومت میں64 لاکھ63ہزار مربع میل پر اسلام کا پرچم لہرا کر دنیا کے کونے کونے تک دین حق کی دعوت کو پہنچانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔۔۔

آج اگر کوئی شیطانی گروہ حضرت امیر معاویہؓ کی شان میں گستاخی کی کوشش کرتا ہے یا ان کی عظمت کو گھٹانے کی کوشش کرتا ہے ۔۔۔ تو وہ اپنے ہی نامہ اعمال کو مزید سیاہ کرتا ہے کیونکہ حضرت امیر معاویہؓ تو عظمت و رفعت کی ان بلندیوں کو چھو رہے ہیں کہ جن کے سامنے ہر چیز ہیچ ہے، مجھے حضرت سیدنا امیر معاویہؓ کے تاریخی فتح مندانہ کردار پر اس لئے مکمل اعتماد ہے۔۔۔ کیونکہ ختم نبوتؐ کے تاجدار کو ان پر بھرپور اعتماد تھا۔۔۔ حضرت محمد کریمﷺ نے غیر مسلم بادشاہوں کو165خطوط لکھے ان میں سے130خطوط کی کتابت کی سعادت حضرت امیر معاویہؓ کو حاصل ہوئی۔۔۔

حضرت سیدنا امیر معاویہؓ وہ ہیں کہ جنہوںنے تاریخ اسلام میں سب سے پہلے بحری بیڑہ تیار کیا، جنہوں نے اپنی عمر کا بہترین حصہ عیسائی رومیوں کے خلاف جہاد میں گزارا۔۔۔ اور ہر بار دشمنانِ اسلام کے دانت کھٹے کئے۔۔۔ امت مسلمہ اس امیر معاویہؓ کو کیسے بھول سکتی ہے کہ جس حضرت سیدنا امیر معاویہؓ نے قبرص، روڈس، صقلیہ، سوڈان، شام،مصر، عراق، روم وفارس حتیٰ کہ کابل تک فتوحات کے پرچم لہرا کر توحید وسنت کے پیغام کو پہنچایا۔۔۔ جنہوں نے سالہا سال کے باہمی انتشار و خلفشار کے بعد عالم اسلام کو پھر سے ایک جھنڈے تلے جمع کیا۔۔۔

جہادِ مقدس کے جس فریضے کو متروک کرنے کی سازشیں عروج پر پہنچ چکی تھیں اُسے ازسرِ نو زندہ کیا۔۔۔ اور اپنے عہد حکومت میں نئے حالات کے مطابق شجاعت و جواںمردی، علم و عمل، حلم وبردباری، امانت و دیانت اور نظم و ضبط کی لازوال مثالیں قائم کیں۔۔۔حضرت سیدنا امیر معاویہؓ تو وہ ہیں کہ جن کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ’’ میں نے حضرت سیدنا امیر معاویہؓ سے بڑھ کر کسی کو سردار نہیں پایا‘‘

حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ’’ میں نے معاویہؓ سے بہتر حکومت کیلئے موزوں کسی کو نہیں پایا۔ حضرت عمیر بن سعدؓ فرماتے ہیں کہ’’لوگو! معاویہؓ کا ذکر بھلائی کے ساتھ کرو، رسول اللہﷺ نے انہیں ہادی اور مہدی کے لقب سے نوازا ہے‘‘(ترمذی)

حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ’’جو شخص صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو بھی خواہ وہ ابو بکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، عمر بن عاصؓہوں یا حضرت امیر معاویہؓ انہیں کوئی برا کہے گا تو اسے قتل کیا جائے گا(شفائ، قاضی عیاض مرحوم)

حضرت امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ ’’لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ حضرت معاویہؓ کی برائی کرتے ہیں؟ ہم اللہ سے عافیت کے طلب گار ہیں اور پھر فرمایا جب تم دیکھو کہ کوئی شخص صحابہؓ کا ذکر برائی کے ساتھ کر رہا ہے تو اس کے اسلام کو مشکوک سمجھو‘‘۔۔۔

حضرت ابراہیم بن میسرہؒ کہتے ہیں کہ’’ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کو کبھی نہیں دیکھا کہ کسی کو انہوں نے کبھی خود مارا ہو۔۔۔ مگر ایک شخص کہ جس نے حضرت امیر معاویہؓ پر تبراء کیا تھا اس کو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے خود کوڑے لگائے‘‘۔۔۔ پیرانِ پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ’’ میں حضرت معاویہؓ کے راستے میں بیٹھاہوں۔۔۔ سامنے ان کی سواری آجائے۔۔۔ اور ان کے گھوڑے کے پیروں کی دھول اڑ کر مجھ پر پڑ جائے تو میں سمجھوں گا کہ یہی میری نجات کا وسیلہ ہے۔۔۔ حضرت قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ ’’سیدنا امیر معاویہؓ حضورﷺ کے برادر نسبتی اور صحابیؓ ہیں۔۔۔ کاتب رسول اور وحی الہیٰ کے امین ہیں۔۔۔ جو انہیں برا کہے۔۔۔ اس پر خدا، رسولﷺ اور فرشتوں کی لعنت برسے‘‘(الشفاء ص95)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ ’’تم لوگ معاویہؓ کی بدگمانی سے بچو۔۔۔کیوںکہ وہ جلیل القدر صحابیؓ ہیں اور زمرۂ صحابیت میں بڑی فضیلت والے ہیں۔۔۔ خبردار ان کی بدگوئی میں پڑ کر گناہ کے مرتکب نہ ہونا‘‘۔۔۔(ازالۃ الخفائ)

حضرت عبداللہ بن مبارکؒ سے پوچھا گیا کہ: حضرت معاویہؓ افضل ہیں یا عمر بن عبدالعزیزؒ؟ تو حضرت عبداللہ بن مبارکؒ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ’’ نبی کریمﷺ کی معیت میں حضرت معاویہؓ کے گھوڑے کے پیر کااڑا ہوا غبار بھی عمر بن عبدالعزیزؒ سے ہزار درجہ بہتر ہے‘‘۔۔۔

حضرت امام بخاریؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب صحیح بخاری کے باب مناقب صحابہؓ کے ضمن میں حضرت معاویہؓ کے فضائل و مناقب ایسے اعلیٰ انداز میں بیان فرمائے ہیں کہ جنہیں پڑھ کر رافضیت اور خمینیت کا جنازہ نکل جاتا ہے، بریلویوں کے امام احمد رضا خان لکھتے ہیں کہ’’جو شخص حضرت امیر معاویہؓ پر طعن کرے وہ جہنمی کتوں میں سے ایک کتا ہے۔۔۔ ایسے شخص کے پیچھے نماز حرام ہے‘‘ حضرت سیدنا امیر معاویہؓ تو وہ ہیں کہ جن سے ان کا ربّ بھی راضی، پیغمبرﷺ بھی راضی، سیدنا صدیق اکبرؓ، سیدنا عمر بن خطابؓ بھی راضی، سیدنا عثمانؓ بھی راضی، سیدنا علی المرتضیٰؓ بھی راضی، تمام صحابہ کرامؓ، تابعین، تبع تابعین، اولیاء کرام اور علماء حق، سب کے سب راضی۔۔۔ اور پھر جس کو اللہ اور اس کا رسولﷺ اس کی زندگی میں ہی اسے رضا مندی کا سرٹیفیکیٹ عطاء فرما دے۔۔۔ تو اس کی عظمت و شان کا کیا ٹھکانہ ہو سکتا ہے؟میں اسے کیسے مسلمان تسلیم کر لوں جو صحابہ کرامؓ، یا اہل بیت عظامؓ کا گستاخ یا منکر ہو؟ میں اس کی عزت کیسے کروں۔۔۔ اس سے سلام کیسے لوں، اس سے کلام کیسے کروں کہ جو حضرت سیدنا امیر معاویہؓ کادشمن ہو؟

بقول احمد رضا خان بریلوی حضرت معاویہؓ کا دشمن جہنمی کتا ہے۔۔۔ ہر عقل مند اور باشعور انسان جانتا ہے کہ کتا نجس اور پلید جانور ہوتا ہے۔۔۔ لیکن کتا اگر ساتھ جہنمی بھی ہو۔۔۔ تو اس کی ذلت و رسوائی اور کمینگی کی تو حد ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔

ہمیں صحابہ کرامؓ کی عظمت کو سمجھنے کیلئے اللہ کا قرآن اور محمد عربیﷺ کا فرمان کافی ہے۔۔۔ تاریخ کی ہر اس کتاب کو جلا کر راکھ کر دینا چاہئے کہ جس میں حضرت معاویہؓ یا دیگر صحابہ کرامؓ کے خلاف گند بھراہوا ہے۔۔۔ہر اس قلم کو توڑ ڈالنا چاہئے کہ جس پلید قلم کے ساتھ۔۔۔ صحابہ کرامؓ کے خلاف تبراء لکھاجاتا ہے۔۔۔ ہر اس پریس کو برباد کر دینا چاہئے کہ جس پریس سے صحابہ کرامؓ یا اہل بیتؓ کے خلاف لٹریچر چھپتا ہے، 22رجب کو حضرت سیدنا امیر معاویہؓ کا یوم وفات گزر گیا۔۔۔ چودہ سو سال پہلے سیدنا امیر معاویہؓ نے64لاکھ63ہزار مربع میل کو فتح کر کے وہاں کے کافروں کا جو کونڈاکیا تھا۔۔۔ ان کی اولاد میں سے بعض ناہنجاراب بھی22رجب کو کونڈے کے طور پر مناتے ہیں۔۔۔ ان کونڈاخوروں کو کوئی بتائے کہ جنت کی طرف جانے والا ہر راستہ حضرت امیر معاویہؓ کے آنگن سے ہو کر گزرتا ہے۔۔۔ جنت میں جانا ہے تو حضرت سیدنا امیر معاویہؓ سمیت سب صحابہ کرامؓ کے در پر آنا پڑے گا، ورنہ بھٹکتے بھٹکتے ذلت و رسوائی،امیر معاویہؓ کے ہر دشمن کا مقدر بن جائیگی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor