الادب والادیب ۔ 694

الادب والادیب

(شمارہ 694)

خامشی میں بھی اثر رکھتی ہوں میں

بات کرنے کا ہنر رکھتی ہوں میں

 آتش و آہن میں ڈھل جانے کے بعد

دل میں کب دشمن کا ڈر رکھتی ہوں میں

مشکلیں آسان کرنے کے لئے

خنجر و تیر و تبر رکھتی ہوں میں

لاکھ لوگوں کو نظر آتا نہ ہو

دل میں ایک شعلہ مگر رکھتی ہوں میں

اپنے دامن کو خدا کی یاد میں

آنسوئوں سے تر بتر رکھتی ہوں میں

مہک اٹھتا ہے میرا سارا وجود

جب درکعبہ پہ سر رکھتی ہوں میں

آفریدی ہوں، مجھے اس پر ہے ناز

ایک تاریخی سفر رکھتی ہوں میں

 

(ہمشیرہ باہرآفریدی شہیدؒ)